ڈیفنس تشدد انکوائری، ایس ایس پی فدا جانوری اور پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی سفارش

انکوائری رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال، متاثرہ بہن بھائی کیخلاف مقدمہ بی کلاس کرنے ،مبینہ ملوث افراد کیخلاف نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش

جمعہ 4 ستمبر 2026 21:45

ڈیفنس تشدد انکوائری، ایس ایس پی فدا جانوری اور پولیس اہلکاروں کیخلاف ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 ستمبر2026ء) کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں بہن بھائی پر مبینہ تشدد کے واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری مکمل کرلی گئی جس میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کے خلاف محکمانہ کارروائی جبکہ ان کے مبینہ رشتہ داروں اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق 21 اگست کو درخشاں تھانے کی حدود میں ڈیفنس فیز 6 کے چھوٹا بخاری کمرشل ایریا میں واقع ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں بہن بھائی علی احسن اور نورالعین پر مبینہ تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔

واقعے کی ویڈیو 28 اگست کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کو انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ نے انکوائری مکمل کرکے رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کردی ہے۔ رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کو معاملے میں مبینہ انتظامی غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں متاثرہ بہن بھائی کے خلاف درخشاں تھانے میں درج مقدمہ الزام نمبر 26/578 کو بی کلاس کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں مریم نامی خاتون، ان کے بیٹے اور بیٹی سمیت موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں مریم کو ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کی قریبی رشتہ دار بتایا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے حتمی قانونی حیثیت متعلقہ تحقیقات کے بعد واضح ہوگی۔رپورٹ میں سابق ایس ایچ او درخشاں انسپکٹر راشد علی، انویسٹی گیشن افسر ایس آئی پی عمران، اے ایس آئی آفتاب منگی اور ضلع کورنگی کے دیگر اہلکاروں کے خلاف بھی مبینہ غیر قانونی گرفتاری، سی سی ٹی وی کیمروں کی توڑ پھوڑ اور جانبداری برتنے کے الزامات پر سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت موجود ضلع کورنگی کے چار پولیس اہلکاروں سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمے کے الزامات کی دوبارہ جانچ کی جائے اور اسے بی کلاس کرکے ختم کرنے کی قانونی کارروائی کی جائے، جبکہ متاثرہ بہن بھائی کی مدعیت میں مبینہ تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے۔ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ اعلیٰ پولیس حکام کو ارسال کردی گئی ہے اور رپورٹ میں دی گئی سفارشات کی روشنی میں ذمہ دار قرار دیے گئے افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔