سوڈان: بیرونی طاقتیں جنگ کو ہوا دے رہی ہیں، تحقیقاتی کمیشن

یو این ہفتہ 5 ستمبر 2026 00:00

سوڈان: بیرونی طاقتیں جنگ کو ہوا دے رہی ہیں، تحقیقاتی کمیشن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 ستمبر 2026ء) سوڈان کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی مشن نے کہا ہے کہ غیرملکی مداخلت ملک میں جاری جنگ کو ہوا دے رہی ہے۔ عالمی برادری متحارب فریقین کے علاوہ اس تنازع کو جاری رکھنے میں مدد دینے والے افراد، اداروں اور نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائی کرے۔

مشن نے سوڈان کی صورتحال پر اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غیرملکی عناصر سوڈانی فوج کی مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی مدد کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی، ان کی تربیت اور تعیناتی میں ملوث ہیں جبکہ اسے ہتھیار، گولہ بارود اور عسکری ٹیکنالوجی پہنچانے کے علاوہ انصرامی معاونت بھی مہیا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، یہ یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) نے بھی غیر ملکی ذرائع سے حاصل کیے گئے ڈرون ایسی عسکری کارروائیوں میں استعمال کیے جن کے نتیجے میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

(جاری ہے)

مشن نے فریقین کو اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان کی فراہمی میں ملوث ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے سوڈان بھیجے جانے والے کرائے کے فوجیوں اور غیر قانونی رسد فراہم کرنے والے گروہوں کو روکیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے ملک میں اسلحے کی ترسیل پر پابندی کو یقینی بنائیں۔

بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب

مشن کے مطابق، اس نے کولمبیا سے تعلقرکھنے والے دو ہزار سابق فوجی اہلکاروں اور نجی عسکری ٹھیکہ داروں کی سوڈان میں تعیناتی کے شواہد دستاویزی شکل میں جمع کیے ہیں۔

یہ افراد دارفور اور کردفان میں 'آر ایس ایف' کے یونٹوں کے ساتھ جنگی ڈرون، توپ خانے اور جدید ہتھیاروں کے حملوں میں براہ راست ملوث رہے۔ کولمبیا اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں سرگرم نجی اداروں اور انصرامی سہولت کاروں نے چاڈ، جنوب مشرقی لیبیا اور صومالیہ میں موجود راستوں اور عبوری مراکز کو استعمال کرتے ہوئے سوڈان میں 'آر ایس ایف' کے اہلکاروں کو، تربیت دینے، ہتھیاروں اور دیگر سازوسامان کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔

تحقیقاتی مشن کی رکن مونا رشماوی نے بتایا ہے کہ 'آر ایس ایف' کو ملنے والی بیرونی معاونت نے زمزم کیمپ میں عسکری کارروائیوں اور الفاشر پر قبضے کے دوران اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ مشن نے ان علاقوں میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے ساتھ ایسے بین الاقوامی جرائم بھی ریکارڈ کیے ہیں جن میں نسل کشی کی نمایاں علامات پائی جاتی ہیں۔

سوڈانی شہریوں کا بھاری نقصان

مشن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اسلحہ پر پابندی کا دائرہ بڑھا کر اسے پورے سوڈان تک وسعت دے۔ مشن کے سربراہ چانڈے عثمان نے کہا ہے کہ سوڈان میں شہریوں کا تحفظ صرف جنگ لڑنے والوں کے خلاف کارروائی کا تقاضا نہیں کرتا، بلکہ ان افراد، اداروں اور نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات بھی ضروری ہیں جو اس جنگ کو جاری رکھنے کے قابل بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ متحارب فریقین کو ملنے والی بیرونی معاونت کا سب سے بڑا بوجھ سوڈانی شہری اٹھا رہے ہیں۔ بیرونی مدد نے انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا بلکہ شہریوں کو اس کی قیمت اپنے گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، بازاروں اور پناہ گاہوں پر حملوں کی صورت میں چکانا پڑی ہے۔