مسلمان ہونا جرم بن گیا، دہلی پولیس کے افسر کا خاتون صحافی پر تشدد

میرے نام میں خان آتا ہے، میں محمد ی اورمسلمان ہوں، دہلی پولیس کے ایک افسر نے مسلمان ہونے پر ہمارے ساتھ نفرت کا سلوک کیا ،مظلوم صحافی کی اعلیٰ حکام سے ایکشن لینے کی اپیل

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 4 ستمبر 2026 23:54

مسلمان ہونا جرم بن گیا، دہلی پولیس کے افسر کا خاتون صحافی پر تشدد
دہلی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 04 ستمبر 2026ء ) بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن گیا، دہلی پولیس کے افسر نے خاتون صحافی کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ خاتون صحافی نے پولیس کو رپورٹ درج کرواتے ہوئے کہا کہ ذہنی و جسمانی طور پر ٹارچر کرنے کے بعد میرا نام پوچھا جارہا ہے،میں بتا رہی ہوں کہ میرے نام میں خان آتا ہے، میں محمد ی ہوں، میں مسلمان ہوں، آج دہلی پولیس کے ایک افسر نے ڈنڈے مارے ہیں، تھپڑ مارے ہیں، بالکل ہم اس افسر کے خلاف کاروائی کریں گے، مسلمان ہونے پر ہمارے ساتھ نفرت کا سلوک کیا گیا،اس کا حساب دہلی پولیس کو دینا پڑے گا اوراس کا جواب دینا پڑے گا، ایک وزیراعلیٰ سے سوال پوچھنے کی سزا دی گئی ہے، خاتون صحافی نے ایک ساتھی صحافی کو دکھایا گیا جس کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔

(جاری ہے)

اس سے قبل بھارت میں برقع پہنی خاتون کو اسپتال میں داخلے ہونے سے روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ممبئی کے بی ایم سی کے زیرانتظام کوپر اسپتال میں مبینہ طور پر داخلے سے روکنے کی دو برقع پوش خواتین کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہوئی ہے جس نے سیاسی اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔ ان خواتین میں سے ایک ایڈووکیٹ زہرہ شیخ نے الزام لگایا کہ انہیں صرف اسپتال میں داخل ہونے سے ہی نہیں روکا گیا بلکہ لباس کی وجہ سے اسپتال سیکورٹی کے حوالے بھی کر دیا گیا۔

یہ واقعہ پیر کو ممبئی کے ولے پارلے علاقے میں میٹرنٹی وارڈ کے داخلی دروازے پر پیش آیا۔
خواتین سیکورٹی اہلکاروں نے ان دونوں خواتین کو روکا اور مبینہ طور پر بچوں کی چوری کے خدشات کا حوالہ دیا، یہ ویڈیو خواتین کے ساتھ موجود ایک شخص نے ریکارڈ کی تھی۔ خاتون نے اپنا تعارف بھی کرایا۔ لیکن انہیں کہا گیا کہ پھر بھی آپ برقع میں داخل نہیں ہو سکتی۔