ڈنمارک: باغ کی صفائی کرنے والے کو کروڑوں ڈالر کا خزانہ ہاتھ لگ گیا

خزانہ وائی کنگ عہد سے تعلق رکھتا ہے‘ چاندی کی سلاخوں اور سکوں سمیت 700 چیزوں پر مشتمل خزانہ نویں صدی کے عہد کا ہے.رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 7 ستمبر 2026 14:12

ڈنمارک: باغ کی صفائی کرنے والے کو کروڑوں ڈالر کا خزانہ ہاتھ لگ گیا
ڈنمارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 ستمبر ۔2026 ) ڈنمارک میں ایک باغ میں گھاس اور پتھروں کی صفائی کے دوران وائی کنگ عہد کا سب سے بڑا چاندی کا ذخیرہ دریافت کیا گیا شمالی ڈنمارک کے علاقے Rebild میں ایک شخص اپنے گھر کے باغ کو نئے ٹیرس کی تعمیر کے لیے صاف کر رہا تھا، جب اسے چاندی کا یہ خزانہ ملا.

(جاری ہے)

ڈنمارک کے ثقافتی ادارے نارتھ جٹ لینڈ میوزیمز کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ خزانہ لگ بھگ 700 چیزوں پر مشتمل تھا ان میں ایک چھوٹا تھور ہیمر، بریسلیٹس، متعدد چاندی کی سلاخیں، کٹی ہو ئی اشیا اور 47 سکے شامل ہیں اسے دریافت کرنے والے شخص جس کا نام سیکورٹی وجوہات پر ظاہر نہیں کیا گیانے بتایا کہ میں کچھ گھنٹوں سے باغ کی صفائی کا کام کر رہا تھا اور وہ میری زندگی کا سب سے حیرت انگیز لمحہ ثابت ہوا اس کا کہنا تھا کہ آدھے گھنٹے کی کھدائی کے بعد میرا ہاتھ کسی چیز سے ٹکرایا اور پہلے مجھے لگا کہ یہ پرانا لوہا یا باڑ کی تار ہے مگر جب میں نے ہاتھ سے کھدائی جاری رکھی، تو میں ایک کے بعد ایک دھاتی اشیا نکالنے میں کامیاب ہوگیا کچھ دیر تک کام کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ زیورات، سکے اور چاندی کی سلاخیں ہیں.

چاندی کے اس ذخیرے کا وزن ساڑھے 18 کلوگرام ہے جو کہ اس سے قبل دریافت ہونے والے ذخیرے سے 3 گنا زیادہ وزنی ہے اس نئے خزانے میں شامل 320 اشیا کو لکڑی سے بنے ایک برتن میں دریافت کیا گیا جس کے بارے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ 10 ویں صدی عیسوی کے عہد کا ہے، جبکہ دیگر اشیا کو مٹی کے اندر سے نکالا گیا . وائی کنگ عہد میں چاندی سے بنی ایسی اشیا کو ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور ان کا وزن ہی ان کی قدر ہوتا تھا یہی وجہ ہے کہ اس عہد میں چاندی کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا تھا یا پگھلایا جاتا تھا.

ماہرین کے مطابق اس نئے خزانے میں چاندی کی سلاخوں کی تعداد کافی زیادہ ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ انہیں دولت کے طور پر ذخیرہ کیا گیا تھا ایک سلاخ پر hutu جیسا لفظ کندہ کیا گیا ہے جو کہ اس خزانے کے مالک کا نام ہوسکتا ہے یا کسی اور قسم کا نشان ہوسکتا ہے جن سکوں کو دریافت کیا گیا وہ عرب اور اینگلو سیکسن ہیں جو کہ وائی کنگ عہد کے دوران یورپ میں پاﺅں پھیلا رہے تھے 2 سکوں میں کنگ ایڈورڈ دی ایلڈر لکھا ہے جو کہ 899 سے 924 کے دوران انگلینڈ کے بادشاہ تھے.

عرب سکوں کو اس طرح کاٹا گیا ہے اور ان پر ایسے الفاظ کندہ ہیں جو 9 ویں صدی میں عام ہوتے تھے ماہرین کے مطابق ان سکوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ اس زمانے میں مشرق میں اسلامی دنیا اور مغرب میں انگلینڈ اور وائی کنگ عہد کے لوگوں کے درمیان تعلق موجود تھا.

متعلقہ عنوان :