بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے یو این جنرل اسمبلی صدر کا حلف اٹھا لیا

یو این جمعرات 10 ستمبر 2026 00:30

بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے یو این جنرل اسمبلی صدر کا حلف اٹھا لیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ اس ایک سالہ عرصہ میں انسانیت کو کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا رہا جنہیں حل کرنے کی کوششیں ادارے کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں آئندہ اجلاس کے دوران بھی جاری رہیں گی۔

اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں تمام ممالک کو متحد ہونا، مل کر کام کرنا اور مشترکہ کاوشوں سے مسائل کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔

Tweet URL

اس موقع پر 81ویں اجلاس کے نو منتخب صدر خلیل رحمان نے عہدے کا حلف اٹھایا۔

(جاری ہے)

تقریب میں 80ویں اجلاس کی سبکدوش ہونے والی صدر اینالینا بیئربوک بھی موجود تھیں۔ سیکرٹری جنرل نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں کثیرالفریقی نظام پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے لیے 'یو این 80' اقدام کے تحت ان کے عزم، آئندہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کو منظم کرنے اور اس عمل میں شفافیت اور شمولیت کو فروغ دینے کے ساتھ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے مضبوط آواز بننے پر وہ شکریے کی مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ اجلاس کے آغاز کی تیاری کے موقع پر تعاون اور مشترکہ مقصد کے اس جذبے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے جو ابتدا ہی سے اقوام متحدہ کی شناخت رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے نئے صدر خلیل رحمان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکجہتی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

متحد اور مضبوط جنرل اسمبلی

اینالینا بیئربوک نے کہا کہ اپنے عہدے سے رخصت ہوتے وقت ان کے ملے جلے جذبات ہیں۔

وہ ادارے میں بہت سے ساتھیوں کے عزم سے بے حد متاثر ہوئی ہیں اور اقوام متحدہ کی اہمیت اور ضرورت پر ان کا یقین پہلے سے کہیں بڑھ گیا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ اب متعلقہ نہیں رہا یا اپنے مقاصد کے حصول میں میں ناکام ہو رہا ہے وہ متبادل صورتحال کے بارے میں سوچیں اور غور کریں کہ اقوام متحدہ کے بغیر دنیا کیسی ہوتی۔ اپنی خامیوں کے باوجود اقوام متحدہ ایسا عالمی ادارہ ہے جس کے بغیر نہ کوئی دن بہتر ہو گا اور نہ ہی کوئی ملک۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں ہونے والی متعدد رائے شماری سے ظاہر ہوا کہ موجودہ دور میں طاقت کی کشمکش اور اقوام متحدہ پر براہ راست حملے کئی حوالوں سے جنرل اسمبلی کے ارکان کی بھاری اکثریت کو 80ویں اجلاس کے دوران ایک دوسرے سے مزید قریب لے آئے ہیں۔ اس عمل نے اسمبلی کو پہلے سے کہیں زیادہ متحد اور مضبوط بنا دیا ہے۔

اینالینا بیئربوک نے موجودہ اجلاس کے صدر خلیل رحمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا عمل کامیابی سے آگے بڑھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 81ویں اجلاس میں سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی جو فیصلہ کریں گے وہی اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا اقوام متحدہ واقعی اپنے مقاصد پورے کر رہا ہے یا نہیں۔

نئے صدر کی حلف برداری

خطاب کے اختتام پر اینالینا بیئربوک نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں سے درخواست کی کہ وہ دعا یا غوروفکر کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں۔

اس کے بعد انہوں نے موجودہ اجلاس کے صدر خلیل رحمان کو عہدے کا حلف اٹھانے کی دعوت دی۔ حلف برداری کے بعد بیئربوک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کا روایتی علامتی ہتھوڑا خلیل رحمان کے حوالے کر دیا جو آئندہ سال ستمبر تک صدارت کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

متعلقہ عنوان :