مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق پر سنگین پابندیاں عائد ہیں، ڈی ایف پی

محمود احمد ساغر کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر ڈاکٹر خلیل الرحمن کے نام خط

جمعہ 11 ستمبر 2026 16:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2026ء) جموںو کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں عوام کو بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور آزادی اظہار پر سنگین پابندیوں کا سامنا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی ایف پی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر ڈاکٹر خلیل الرحمن کے نام خط میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی گرفتاریوں، طویل نظربندیوں، سیاسی سرگرمیوں پر قدغن ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر سمیت بنیادی حقوق پر پابندیاں مسلسل جاری ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہیں۔

(جاری ہے)

محمود احمد ساغر نے کہا کہ کشمیری سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی طویل قید خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ انہوں نے شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، مسرت عالم بٹ، نعیم احمد خان، حامد فیاض اور محمد قاسم فکتو سمیت حریت رہنمائوں کی مسلسل سیاسی نظربندوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طویل حراست، گرتی ہوئی صحت ،انکے خلاف دائر جھوٹے مقدمات کی سماعت میں تاخیر اور ان کے اہل خانہ کو درپیش مشکلات پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

خط میں بالخصوص شبیر احمد شاہ کی طویل قید اور گرتی ہوئی صحت جبکہ محمد یاسین ملک کی طرف سے اپنے خلاف دائر جھوٹے مقدمے کا دفاع نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو منصفانہ قانونی کارروائی، شفاف عدالتی سماعت، مناسب طبی سہولیات اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔

محمود احمد ساغر نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع محض دو طرفہ سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود تنازعہ ہے۔ خط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی ادارے پر زور دیا گیا کہ وہ تنازع کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر طورپر ادا کرے۔

خط میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے اپیل کی گئی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو متعلقہ عالمی فورمز کے سامنے اٹھائیں، کشمیری سیاسی قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں پر صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے دبائو بڑھائیں ۔ڈی ایف پی نے مزید مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد اورکشمیر کے تنازع کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دیا جائے۔

محمود احمد ساغر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ساکھ اس وقت مزید مضبوط ہوتی ہے جب انسانی حقوق، انصاف اور حق خودارادیت کے اصول تمام اقوام اور حالات پر یکساں طور پر لاگو کیے جائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران جموں و کشمیر کے عوام کی طویل عرصے سے جاری مشکلات پر مناسب توجہ دی جائے گی اور اقوام متحدہ تنازع کے پرامن حل میں زیادہ موثر کردار ادا کرے گا۔