نئی دہلی، جھوٹے مقدمے میں مسجد کے امام کو آٹھ سال بعد ضمانت مل گئی

بدھ 16 ستمبر 2026 15:59

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2026ء) دہلی ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کے کالے قانون کے تحت گزشتہ آ ٹھ سال سے نظربند ایک مسجد کے امام کو ضمانت دے دی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جسٹس نوین چاولہ اور رویندر دودیجا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مقدمہ جلد ختم ہونے والا نہیں ہے اور اس سے پہلے کا مواد محمد ثاقب عرف ثاقب افتخار کو ضمانت سے انکار کی وجہ نہیں بنتا۔

محمد ثاقب اتر پردیش کے علاقے بکسر کی جامع مسجد میں امام کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ثاقب نے ٹرائل کورٹ کے 2024کے حکم کو چیلنج کیا تھا جس نے 2018میں اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون ’’یو اے پی اے‘‘ سمیت مختلف دفعات کے تحت درج ایف آئی آر میں ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔

(جاری ہے)

درخواست گزارکو 26 دسمبر 2018 کوگرفتارکیا گیا تھا اور وہ تقریبا آٹھ سال سے جیل میں ہے۔

اس وقت استغاثہ کی جانب سے نامزد 120 گواہوں میں سے صرف 40 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔عدالت نے پیر کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمے کی سماعت جلد ختم ہونے کی امید نہیں ہے۔ہائی کورٹ کی بنچ نے کہا کہ گواہوں کے بیانات اور اپیل کنندہ کے خلاف الزامات اور خاص طور پر درخواست گزارکی طویل قید پر غور کرنے کے بعد ہماری رائے ہے کہ درخواست گزار نے ضمانت پر رہائی کا مقدمہ بنایا ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم اپیل کنندہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔عدالت نے ثاقب کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی ایسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں جس سے امن عامہ یا مقدمے کی سالمیت کو نقصان پہنچتا ہو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا کسی اورطریقے سے کوئی بھی ملک مخالف مواداپ لوڈ یا وائرل نہ کریں۔این آئی اے نے الزام لگایا ہے کہ ثاقب حرکت الحرب اسلام کا رکن تھا جس نے آئی ایس آئی ایس کے نظریے کا پرچار کیا اور جیش محمد کی حمایت کی۔

اس پر الزام لگایا گیا کہ ثاقب نے جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کو منظم کرنے کے لیے بھارت کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے اور بھارتی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے رابطے قائم کیے تھے۔عدالت نے ضمانت کے لیے کئی شرائط عائد کیں اور ثاقب سے کہا کہ وہ پچاس ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتیں جمع کرائیں۔عدالت نے ملزم کو ہدایت کی کہ وہ اپنا پاسپورٹ سرنڈر کرے اور ٹرائل کورٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہ جائے۔

عدالت نے کہاکہ اپنی ضمانت کی شرائط کے تحت وہ ہاپوڑ میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے گا۔ ثاقب کو صرف مقدمے میں شرکت کرنے یا دہلی میں این آئی اے کے دفتر میں رپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔ عدالت نے اسے این آئی اے کو اپنے گھر کا پتہ، موبائل نمبر اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔