جدید ویٹرنری سہولیات چھوٹے مویشی پال حضرات تک پہنچائی جائیں: عاشق حسین کرمانی

۳مویشی پال حضرات کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے، صوبائی وزیر کی ہدایت

پیر 21 ستمبر 2026 20:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 ستمبر2026ء) صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ مویشی پال حضرات کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں اور جدید ویٹرنری سہولیات کا دائرہ کار چھوٹے مویشی پال حضرات تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے۔انہوں نے یہ بات سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر عثمان طاہر، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر سجاد حسین، ڈائریکٹر جنرل پروڈکشن ڈاکٹر کنور محمد نعیم، ڈائریکٹر کمیونی کیشن اینڈ ایکسٹینشن ڈاکٹر خالق شفیع، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ایویلیوایشن ڈاکٹر عطیہ اور دیگر افسران نے بھرپور شرکت کی۔

(جاری ہے)

تفصیلا ت کے مطابق صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، کسانوں اور مویشی پال حضرات کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور محکمانہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 14 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن کے لیے 6 ارب 75 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ لائیو سٹاک کارڈ فیز-II کے تحت مجموعی طور پر 2 لاکھ 25 ہزار 397 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 23 ہزار 341 مویشی پال حضرات کی درخواستیں منظور کی گئی ہیں اور 3 لاکھ 3 جانوروں کو منظوری دی گئی ہے۔

فیز-II کی پہلی قسط کی ادائیگی 16 ستمبر 2026 سے شروع ہو چکی ہے۔ اس مرحلے میں 25 فیصد ایسے مویشی پال حضرات بھی شامل ہیں جو فیز-I میں بھی مستفید ہوئے تھے۔لائیو سٹاک کارڈ فیز-I کی مجموعی ریکوری 95.15 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔خواتین کو لائیوسٹاک اثاثہ جات کی منتقلی کے پروگرام کے تحت 75 ہزار 666 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ 20 ہزار 514 سروے مکمل کیے جا چکے ہیں جو کہ 99.6 فیصد بنتے ہیں۔

صوبے میں جدید ویٹرنری سہولیات کی فراہمی کے لیے 149 ماڈل ویٹرنری ہسپتالوں اور 230 حلقہ جاتی سطح کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ 5 کیٹل ویٹرنری ڈسپنسریاں فعال/افتتاح کی جا چکی ہیں جبکہ مزید 15 مقامات پر نئی تعمیر و بحالی کا کام جاری ہے۔ بھکر، خانیوال، ملتان، خوشاب، میانوالی اور سرگودھا میں 6 جدید آپریشن تھیٹرز کا افتتاح کیا جا چکا ہے۔ موبائل ویٹرنری ڈسپنسری، موبائل ویٹرنری ایکسرے یونٹس اور موبائل ویٹرنری لیبارٹریز کے ڈپلائمنٹ پلان پر عملدرآمد جاری ہے۔

بیماریوں کے تشخیصی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خانیوال میں ڈسٹرکٹ ویٹرنری لیبارٹری کا افتتاح کیا گیا ہے اور صوبائی ایپی ڈیمیالوجیکل یونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر سجاد حسین نے بتایا کہ فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (منہ کھر) کے کنٹرول کے لیے ڈیزیز فری کمپارٹمنٹس کی 20 درخواستوں کا جائزہ لے کر 7 کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جبکہ سمسن ایگری مظفرگڑھ کو 10 ستمبر 2026 کو ڈیزیز فری کمپارٹمنٹ قرار دیا گیا ہے۔

غیر نسلی مویشیوں کی جینیاتی بہتری کے پروگرام کے اثرات کا جائزہ مکمل کر کے حاصل شدہ ڈیٹا کو ہرڈ ٹرانسفارمیشن پروگرام سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں لائیو سٹاک کمیشن کے قیام، مسودے کی تیاری اور بیماریوں سے پاک مویشی منڈیوں کے قیام کے لیے قرنطینہ، ٹیگنگ اور ویکسی نیشن کی سہولیات سے متعلق اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیرلائیوسٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق مویشی پال حضرات کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔

اس موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک احمد عزیز تارڑ نے کہا کہ محکمہ لائیو سٹاک تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور بر وقت تکمیل کے ذریعے مویشی پال حضرات اور لائیو سٹاک سیکٹر کی بہتری کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہی