بتایا جائے پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات میں سے کونسا غیر آئینی یا بس سے باہر ہے؟ . طارق فضل

مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا، سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر تھا. وفاقی وزیر کی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 5 اکتوبر 2026 14:38

بتایا جائے پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات میں سے کونسا غیر ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 اکتوبر ۔2026 ) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات سے متعلق بتایا جائے کہ ان میں سے کونسا مطالبہ غیر آئینی یا بس سے باہر ہے؟ اپنے ایک بیان میں طارق فضل نے کہا کہ پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کی مذمت کرنا تھا، دوسرا مطالبہ صوبے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ اور تیسرا افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی پر عمل درآمد تھا. وفاقی وزیر نے کہا چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی، پانچواں مطالبہ کے پی پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹا مطالبہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں افواج کے ساتھ تعاون اور ساتواں مطالبہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد کرنا تھا. طارق فضل کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا، سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر تھا،اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا.