جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے مالیت کے انٹرنیٹ راﺅٹرز درآمد ہونے کا انکشاف

دونوں کمپنیوں کے رجسٹرڈ کاروباری پتے بھی جعلی نکلے ایک کریانے کی دوکان جبکہ دوسرا رہائشی مکان ہے. کسٹم انٹیلی جنس حکام

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 5 اکتوبر 2026 16:05

جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے مالیت کے انٹرنیٹ راﺅٹرز درآمد ہونے ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 اکتوبر ۔2026 ) کسٹمز اے ایف یو کراچی سے جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے مالیت کے انٹرنیٹ راﺅٹرز درآمد ہونے کا انکشاف ہوا ہے کسٹمز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دو جعلی کمپنیوں نے 3 ارب 26کروڑ روپے مالیت کے 71 ہزار 815 راﺅٹرز پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر درآمد کیے جس کے تحت مبینہ جعلی درآمدی کمپنیاں انڈر انوائسنگ اورٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی مرتکب ہوئیں.

(جاری ہے)

انگریزی جریدے کی رپورٹ میں مسلم سنز انٹرپرائز اورموسانی سنڈیکیٹ کو مبینہ جعلی اور پیپر کمپنیاں قرار دیا گیا، دونوں کمپنیوں کو فرنٹ مین کے نام پر رجسٹر کرکے مبینہ طور پر خفیہ آپریٹرز کے لیے ”مارکیٹ آئی ڈیز“ کے طور پر استعمال کیا گیا دونوں کمپنیوں کے رجسٹرڈ کاروباری پتے بھی مشکوک نکلے اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک پتے پر آٹا اور چاول کی دکان تھی جبکہ دوسری جگہ کرائے کا رہائشی مکان تھا.

رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں کے وی بوک اکاﺅنٹس کو ہزاروں مختلف آئی پی ایڈریسز سے استعمال کیا گیا، مسلم سنز اور موسانی سنڈیکیٹ کے وی بوک اکاﺅنٹس سے 2 ہزار 983 اور 2 ہزار 732 منفرد آئی پی ایڈریسز منسلک ہیں جبکہ دونوں کمپنیوں کے ایک ہزار 48 آئی پی ایڈریسز مشترک نکلے جس سے مشترکہ کنٹرول کا شبہ مزید مضبوط ہوا. تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ دونوں کمپنیوں نے 2.2 ارب روپے سے زائد کی درآمدات کیں، ڈیوٹیز اور ٹیکسز سمیت مجموعی لاگت 3.2 ارب روپے سے تجاوز کرگئی جبکہ اربوں کی درآمدات کے مقابلے میں دونوں کمپنیوں کے مالکان کا ابتدائی مشترکہ سرمایہ صرف 22لاکھ روپے ہے.

رپورٹ میں کمپنیوں کی مالی حیثیت اور اربوں روپے کی درآمدات میں بڑے فرق کی وجہ سے خفیہ بینیفیشل اونرز کی فنڈنگ کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، دونوں کمپنیوں کے 108 مقامی خریدار اور 12 غیر ملکی سپلائرز مشترک ہیں. کسٹمز تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تقریباً 2.9 ارب روپے کی مقامی فروخت کے باوجود کیش میں تقریباً کوئی سیلز ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، بڑے پیمانے پر انڈرانوائسنگ کا بھی انکشاف ہوا ہے، درآمدی قیمتوں میں تقریباً 1.3 ارب روپے کا اضافہ اسیسمنٹ کے دوران کیا گیا، راو¿ٹرز کی درآمدی قیمت صرف 9کروڑ 70 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تاہم کسٹمز کی اسیسمنٹ میں مالیت 56 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملہ صرف پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر راﺅٹرز کی درآمد تک محدود نہیں، اس میں مبینہ مالی فراڈ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، درآمدی رقوم فرنٹ کمپنیوں کے بینک اکاﺅنٹس کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے کا شبہ ہے، اس سلسلے میں بینکوں سے فنڈز کے ذرائع اور پیمنٹ ٹریل کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیرقانونی کلیئرنس سے انکار بینیفیشل اونرشپ کی چھان بین پر کسٹمز افسران پر دباﺅ اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا جبکہ 71 ہزار سے زائد راﺅٹرز کی مشکوک درآمد سے شروع ہونے والی تحقیقات اب مبینہ جعلی کمپنیوں، خفیہ آپریٹرز اور اربوں روپے کے مالی بہاﺅ تک پہنچ گئیں ہیں.

کسٹمز کی تحقیقاتی رپورٹ میں کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور ایف آئی اے پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دونوں کمپنیوں کے وی بوک یوزر آئی ڈیز معطل یا منسوخ کرنے اور ٹیکس معاملات آر ٹی او ٹو کراچی کو بھیجنے کی بھی تجویز دی گئی ہے.