نظام تباہ ہونے کا بیانیہ بنا کر نئے صوبے بنانے کی بات کی جارہی ہے،اسلام آباد ناکام ہو چکا تو اسے تھرپارکر والوں کے حوالے کردیں. بلاول بھٹو

سیاسی یتیموں کی جماعت کراچی میں انتشار کی سیاست کررہی ہے،ملکی ترقی میں رکاوٹیں حائل کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے، نفرت کی سیاست کسی کے حق میں نہیں. چیئرمین پیپلز پارٹی کا تھرکول بلاک ٹو فیز تھری پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 5 اکتوبر 2026 15:38

نظام تباہ ہونے کا بیانیہ بنا کر نئے صوبے بنانے کی بات کی جارہی ہے،اسلام ..
تھرپارکر(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 اکتوبر ۔2026 ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں نظام تباہ ہونے کا بیانیہ بنا کر نئے صوبے بنانے کی بات کی جارہی ہے، اسلام آباد ناکام ہو چکا ہے تواسے تھرپارکر والوں کے حوالے کردیں،تھر میں جیسی ترقی دیکھی پاکستان میں کہیں اور نہیں دیکھی، ایک سیاسی یتیموں کی جماعت کراچی میں انتشار کی سیاست کررہی ہے،ملکی ترقی میں رکاوٹیں حائل کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے، نفرت کی سیاست کسی کے حق میں نہیں.

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تھرکول بلاک ٹو فیز تھری پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ لوگوں کو تھر کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، پورا پاکستان حیران ہورہا ہے کہ تھر کہاں پہنچ چکا ہے، اسلام آباد کو بھی تھرکی طرح چلنا چاہئے. بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ تھر میں صحت ،تعلیم کے نظام میں ترقی ہوئی ہے، تھر میں تبدیلی کے ساتھ ترقی بھی واضح ہوئی ،تھر بلاک تھری میں2ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی اسلام آباد کے ماہرین کہتے تھے کہ تھر کے کوئلے کی کوئی اہمیت ہی نہیں، آج ہم تھر کا کوئلہ استعمال کرکے1.6ارب ڈالر زرمبادلہ بچارہے ہیں.

چیئرمین پیپلز پارٹی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ایک سیاسی یتیموں کی جماعت کراچی میں انتشار کی سیاست کررہی ہے، یہ سیاسی جماعت سندھ میں انتشار چاہتی ہے لیکن یہ کبھی کامیاب نہیں ہونگے انہوں نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کے نتائج آتے ہیں تو تھرپارکر کے بچے ٹاپ کرتے ہیں،تھرکو مبارکباد دینے کے بجائے یہ سیاسی یتیم نفرت کی سیاست کرتے ہیں،ہم نفرت کی سیاست دفن کردیں گے، تھر ترقی کرتارہے گاملکی ترقی میں رکاوٹیں حائل کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے،نفرت کی سیاست کسی کے حق میں نہیں ہے.

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ملک میں نظام تباہ ہونے کا بیانیہ بنا کر نئے صوبے بنانے کی بات کی جارہی ہے،اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھرپار کروالوں کے حوالے کردیں اس موقع پر انہوں نے سندھ کی بزنس کمیونٹی کو تھر میں صوبائی حکومت کیساتھ پارٹنر شپ کی دعوت بھی دی. اس سے قبل وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھر کول فیز تھری کا منصوبہ 100 فیصد اپنی مالی اعانت سے مکمل کیا جا رہا ہے، مقامی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی درآمدی کوئلے کے مقابلے میں سستی ہوگی مراد علی شاہ نے کہا کہ فیز تھری سے لکی الیکٹرک کا 660 میگاواٹ کا بجلی گھر تھر کے کوئلے سے چلایا جائے گا، تھر سے بجلی کی مجموعی پیداوار 1,980 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی تھر فیز تھری سےسالانہ تقریبا 220 ملین ڈالر کے اضافی زرمبادلہ کی بچت ہوگی،بینظیر بھٹو نے تھر کے کوئلے کو پاکستان کے توانائی بحران کے حل کا ذریعہ قرار دیا تھا،تھر میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد کو تکنیکی مہارتوں کی تربیت دی جا چکی ہے.