مقبوضہ جموں و کشمیر میں اساتذہ کو بھارتی فوج کی تعیناتی کے باعث شدیدمشکلات کا سامنا

پیر 5 اکتوبر 2026 21:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 اکتوبر2026ء) دنیا بھر میں اساتذہ کے مقام اور حقوق کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے، تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اساتذہ کو لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فورسز کی تعیناتی کے باعث شدید مشکلات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔

عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجی کارروائیوں اور اسکولوں کی بندش کے باعث اساتذہ کیلئے تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو مذہبی اور نظریاتی دبائو کا بھی سامنا ہے جبکہ بھارتی حکومت کی تعلیمی پالیسی پر ہندوتوا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریے سے ہم آہنگ ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق 2019کے بعد تقریبا 100کشمیری اساتذہ کوسیاسی وابستگیوں یا تحریکِ آزادی سے تعلق کے الزامات پر ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ 2021سے 2026 کے دوران متعدد سرکاری اساتذہ کوتحریک آزادی سے مبینہ روابط کے الزامات پر ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ 2025میں بھی دو سرکاری اساتذہ کو تحریکِ آزادی سے مبینہ روابط اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات پر ملازمت سے برطرف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1990 سے اب تک 60 سے زائد اساتذہ بھارتی فوجیوں کی کارروائیوں کے دوران قتل ہو چکے ہیں ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2022میں جماعت اسلامی سے وابستہ فلاحِ عام ٹرسٹ کے زیرانتظام 300سے زائد تعلیمی اداروں پر پابندی کے باعث ہزاروں اساتذہ بھی متاثر ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ علاقے میں ایک ہزار371اسکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک ٹیچر تعینات ہے اور ان اداروں میں 32ہزار303طلبہ زیرتعلیم ہیں۔

مزید برآں، مقبوضہ جموں و کشمیر کے درجنوں اسکولوں میں بھارتی فورسز کے کیمپ قائم ہیں جبکہ فوجی کارروائیوں کے باعث متعدد اسکول ہر سال بند کر دئیے جاتے ہیں۔ عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر مقبوضہ علاقے کی سنگین صورتحال سے واضح ہو تاہے کہ مسلسل سکیورٹی پابندیوں، اسکولوں کی بندش اور اساتذہ کو درپیش انتظامی و پیشہ ورانہ مشکلات نے تعلیمی نظام کوبڑی حد تک متاثر کیا ہے۔