کٹھوعہ : نئی ہائی سکیورٹی جیل میں کشمیری نظربندوں کو منتقل کرنے کی تیاری

منگل 6 اکتوبر 2026 11:48

جموں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اکتوبر2026ء) غیر قانونی طورپر بھارت کے زیرتسلط جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکشمیری نظربندوں کو ضلع کٹھوعہ میں تعمیر کی گئی نئی ہائی سکیورٹی جیل منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں ان کی نقل و حرکت، مواصلات اور دیگر قیدیوں سے رابطے پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع کٹھوعہ کی تحصیل بلورکے علاقے مہان پور ڈمبرا میں زیر تعمیر جیل تقریبا مکمل ہو چکی ہے ،جس میں تقریبا 600 قیدیوں کی گنجائش ہو گی ۔ جیل میں بعض قیدیوں کو قید تنہائی میں رکھنے کے لیے خصوصی سیل بھی بنائے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ جیل کا افتتاح کریں گے ، جس کے بعد ابتدائی مرحلے میں کوٹ بھلوال، سرینگر اور دیگر جیلوں سے انتہائی خطرناک قراردیے گئے کشمیری قیدیوں کواس نئی جیل میں منتقل کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

کشمیری نظربندوں کی منتقلی کا مقصد منتخب انہیں دیگر زیرحراست افراد سے رابطہ کرنے سے روکنا اور موبائل فونز سمیت دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز تک ان کی رسائی محدود کرنا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بالخصوص قید تنہائی میں رکھے جانے والے قیدیوںکا عملا بیرونی دنیا سے رابطہ کٹ جائے گا۔کٹھوعہ کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں واقع اس جیل میں جدید نگرانی کا نظام نصب کیا گیا ہے جبکہ سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس نے پہلے ہی جیل کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔

بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ جیل کے اندر اور باہر جدید نگرانی کے آلات نصب کئے جا رہے ہیں تاکہ قیدیوں کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔قیدیوں کی مجوزہ منتقلی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب کوٹ بھلوال اور سرینگر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان جیلوں میں عسکریت پسندی کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کشمیری بھی قید ہیں۔

منتخب کشمیری قیدیوں کو ہائی سکیورٹی جیل منتقل کرنے کے ساتھ ان کے آپس میں رابطوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔انسانی حقوق کے گروپ طویل عرصے سے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے استعمال اور کشمیریوں کو معمول کی عدالتی کارروائی کے بغیر طویل عرصے تک زیرحراست رکھنے پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ قید تنہائی،رابطوں پر سخت پابندیوں اور بڑے پیمانے پر نگرانی کے منصوبوں سے زیرحراست افراد کے ساتھ سلوک اور ان کی اہلخانہ، وکلا اور بیرونی دنیا تک رسائی کے حوالے سے مزید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔