اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے کشمیری قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

طاقت اور جبر سے مقبوضہ کشمیر میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا: ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی

منگل 6 اکتوبر 2026 13:41

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 اکتوبر2026ء) جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں، چھاپوں، گرفتاریوں اور شہریوں کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت اور جبر کے ذریعے دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ خطے میں پائیدار امن صرف کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ سیاسی تصفیے سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقِ خود ارادیت کشمیری عوام کا بنیادی حق ہے اوروہ اپنے اس ناقابل تنسیخ حق کے حصول کے لیے کئی دہائیوں تک بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ارشد اقبال نے کہاکہ بھارت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرے اور یہ سمجھے کہ طاقت کے استعمال سے عوام کے بنیادی حقوق کو غیر معینہ مدت تک دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا حل عسکری ذرائع سے ممکن نہیں اور اس کے لیے کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سیاسی تصفیے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں کشمیری، جن میں بیشتر سیاسی رہنما، کارکن اور نوجوان شامل ہیں، مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ اور آسیہ اندرابی کی طویل قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت اور نوجوانوں کو قید کرکے حق خودارادیت کی جدوجہد ختم نہیں کی جا سکتی۔ارشد اقبال نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر ی صورتحال کا نوٹس لیں، سیاسی قیدیوں اور زیر حراست نوجوانوں کی رہائی کے لیے اقدامات کریں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں بند کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی پر افسوس ظاہر کیا اور اقوام متحدہ پر زوردیاکہ وہ کشمیری عوام کوانکا حق خودارادیت دلانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ۔