ٹکٹوں کی تقسیم ن لیگ کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی،3 دن کے اندر قیادت کے خلاف بڑی بغاوت اٹھنے کا خدشہ

ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر تنازعے کے بعد لاہور ، فیصل آباد، ساہیوال، رحیم یار خان، بہاولنگر، پاک پتن اور ملتان میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کئی رہنما آزاد الیکشن لڑ سکتے ہیں

جمعہ جون 23:21

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء):ٹکٹوں کی تقسیم ن لیگ کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی،3 دن کے اندر قیادت کے خلاف بڑی بغاوت اٹھنے کا خدشہ ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر تنازعے کے بعد لاہور ، فیصل آباد، ساہیوال، رحیم یار خان، بہاولنگر، پاک پتن اور ملتان میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کئی رہنما آزاد الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بعد مسلم لیگ ن میں بھی ٹکٹوں کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ٹکٹوں کے تنازعے نے پارٹی کے کئی وفادار رہنماوں کو پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور کر دیا۔مسلم لیگ ن کے دیرینہ کارکن بھی ٹکٹوں کی تقسیم سے ناراض پارٹی قیادت کو آنکھیں دکھانے لگے۔مسلم لیگ ن میں ٹکٹوں کا تنازعے کے بعد ن لیگ نے ٹکٹوں کی تقسیم روک دی۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن نے شہباز شریف کے وطن لوٹنے پر ٹکٹوں کی تقسیم کا پلان بنایا تھا۔تاہم مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے وطن لوٹتے ہی ٹکٹوں کی تقسیم کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔پارٹی قیادت کی ہدایت پر ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ موخر کر دیا گیا ہے۔اب اعلان یہ کیا جارہا کہ غیر متنازعہ ٹکٹوں کا اعلان کل کیا جائے گا جبکہ بقیہ سیٹوں کی ٹکٹیں مرحلہ وار دی جائیں گی۔

تاہم تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم ن لیگ کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی ہے،3 دن کے اندر قیادت کے خلاف بڑی بغاوت اٹھنے کا خدشہ ہے۔ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر تنازعے کے بعد لاہور ، فیصل آباد، ساہیوال، رحیم یار خان، بہاولنگر، پاک پتن اور ملتان میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کئی رہنما آزاد الیکشن لڑ سکتے ہیں۔تاہماب لیگی قیادت نے اختلافات سے بچنے کیلئے اب مرحلہ وار ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں جو حلقے کلیئر ہیں وہاں ٹکٹ جاری کیے جائیں گے اور اختلافات والے حلقوں میں کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تک انتظار کیا جائے گا۔

Your Thoughts and Comments