Dil Shikasta - Joke No. 1418

دل شکستہ - لطیفہ نمبر 1418

ایک شخص شراب خانے میں داخل ہوا وہ بہت افسردہ تھا۔ وہاں اسے ایک دوست مل گیا۔ اس نے پوچھا۔” تم اس قدر دل شکستہ کیوں نظر آرہے ہو؟“ ”یار کیا بتاؤں۔ میری ماں کا جولائی میں انتقال ہو گیا وہ میرے لئے دس ہزار روپے چھوڑ گئی۔“ ” بہت افسوس ہوا تمہاری پیاری ماں کے مرنے کا چلو غم کے ساتھ تھوڑی بہت خوشی تو ملی۔“ اس کا دوست کہنے لگا۔ ”پھر اگست میں میرا والد بھی چل بسا۔ اس نے میرے لئے بیس ہزار کا ترکہ چھوڑا۔ پھر ویسا ہی ملا جلا صدمہ !“ دوست نے ہمدردی کا اظہار کیا۔ دوسرے نے اپنی بات جاری رکھی۔ ” ایک اور حادثہ یہ ہوا کہ میری مالدار خالہ بھی گذشتہ ماہ چل بسی اورمیرے لئے پچاس ہزار روپے چھوڑ گئی۔“ ”بہت صدمے کی بات ہے۔“ دوست نے پھر چھوٹ موٹ کا اظہار ہمددری کیا۔ ”پراب تم کیوں اداس ہو؟“ ”وہ اس لئے کہ اس مہینے ا بھی تک کچھ نہیں ہوا“

مزید لطیفے

ایک جنگل میں

aik jungle mein

بھکاری بس سٹاپ پر

Bhikaar bus stop per

ملازم

mulazim

دو احمق

Do ahmaq

دو سکھ

Do sikh

سیاستدان

siyasatdan

ایک کنجوس

Aik Kanjoos

آخر کب تک

akhir kab tak

چیری بلاسم

cherry blossom

ایک لڑکا ہانپتے ہوئے

Aik lurka hanptai huwai

مجسٹریٹ ملزم سے

Magistrate mulzim se

وزیر تعلیم

Wazir e taleem

Your Thoughts and Comments