boorhay ka sabaq

Boorhay Ka Sabaq

بُوڑھے کا سبق

ایک ضعیف شخص جسکے 5بیٹے تھے ،اُس نے اپنی ساری دولت بیٹوں میں تقسیم کردی ۔اُس نے سوچا ”اب مجھے روپے پیسے کی کیا ضرورت ہے بقیہ ایام اپنے بچوں

امداد اللہ خان نعمانی
ایک ضعیف شخص جسکے 5بیٹے تھے ،اُس نے اپنی ساری دولت بیٹوں میں تقسیم کردی ۔اُس نے سوچا ”اب مجھے روپے پیسے کی کیا ضرورت ہے بقیہ ایام اپنے بچوں کے ہاں گزارلوں گا“۔پہلے وہ اپنے بڑے بیٹے کے گھر گیا اور اُسکے پاس رہنے لگا۔

ابتدائی ایام میں تو بڑے بیٹے نے اُسکی بہت خدمت کی اور آؤ بھگت کی اور کہا؛”آپکا خیال رکھنا تو میرا فرض ہے مگر تھوڑے دنوں بعد ہی وہ اپنے باپ سے بیزار ہو گیا۔اب وہ اُسکا ادب بھی نہ کرتا تھا بلکہ کبھی کبھی اپنے والد کو ڈانٹ دیتا تھا۔
بوڑھے کو نہ وقت پر کھانا ملتا اور نہ کپڑا۔
آخر بوڑھا بھی اپنے بڑے بیٹے کے سلوک سے تنگ آگیا اور دوسرے بیٹے کے پاس چلا گیا۔وہاں بھی ابتدائی ایام اچھے گزرے پھر منجھلا بیٹا بھی بڑے کی طرح بیزار ہو گیا اُسکی بیوی تو اپنے سسر کے ساتھ بدزبانی بھی کرتی اور کہتی کہ ہم پہلے ہی مشکل سے گزر بسر کر رہے تھے ،اب تم نے بھی آکر مزید پریشان کر دیا ہے ۔

(جاری ہے)

بیچارا بوڑھا جلد ہی وہاں سے بھی اُکتا گیا۔پھر منجھلے بیٹے کے پاس گیا مگر اُسکے سلوک سے بھی پریشان ہو کروہ سب سے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے کے پاس جا پہنچا اور وہاں سے بھی تنگ ہو کر نکلا۔بیچارے کو کہیں چین نہ ملا۔سارے بیٹے اپنے والد کو ساتھ رکھنے سے بچنا چاہتے تھے ،کوئی کہتا میرے اتنے بچے ہیں تم کو کیسے رکھ سکتا ہوں ۔
کوئی کہتا میرا گھر چھوٹاہے تو کوئی کہتا ،میں خود بہت غریب ہوں ۔
والد پانچویں بیٹوں کی خوشامد کرتا،اُس نے رورو کر کہا کہ میں تمہارا باپ ہوں ،میرے بڑھاپے اور کمزوری پہ ترس کھاؤ مگر کوئی بھی پرواہ نہ کرتا ۔ایک مرتبہ پانچوں بیٹے اکٹھے ہوئے اور سب نے مل کر فیصلہ کر لیا کہ والد کو کسی اسکول بھیج دیا جائے وہ روزانہ صبح کو جائے اور شام کو آئے ”تھوڑی روٹی اُسے دے دی جائے“۔
والد نے سنا تو بڑی عاجزی کے ساتھ بیٹوں سے کہنے لگا ؛”مجھے پڑھنا تو آتا نہیں میں بوڑھا ہوں میری آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں مجھے اچھی طرح دکھائی بھی نہیں دیتا ۔اب میں اسکول جا کر کیا کروں گا۔مجھے کہیں رہنے کو تھوڑی سی جگہ اور ایک ٹکڑاروٹی دے دیا کرو میں پڑا رہوں گا“۔

مگر ظالم بیٹوں نے والد کی ایک نہ سنی اور گاؤں سے دور یک اسکول میں زبردستی بھیج دیا۔والد روتا ہوا چلا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک ضعیف امیر آدمی کا گھوڑا وہاں سے گزرا تو اُس نے گھوڑے سے اُتر کر پوچھا کہ کہاں جارہے ہو؟
”اسکول جارہاہوں “؛ضعیف العمر اور مظلوم والد نے جواب دیا میاں اِ س عمر میں اسکول جاؤ گے یہ تو تمہارے گھر میں آرام سے بیٹھنے کے دن ہیں ۔

مظلوم والد نے اپنی پوری کہانی سنائی تو امیر آدمی نے کہا بڑے میاں اسکول جانے کا خیال تو بیکار ہے مگر تم غم نہ کھاؤ میں تمہاری مدد کروں گا ۔یہ کہہ کر اُس نے اپنی جیب سے ایک تھیلی نکالی اور اُس میں کوئی چیز بھر دی ۔پھر تھیلی کو ایک لکڑی کے صندوق میں رکھ کر صندوق کو اچھی طرح بند کردیا۔
صندوق اُس کو دیتے ہوئے اُسکے کان میں کچھ کہا۔ضعیف العمر والد صندوق لے کر خوشی خوشی گاؤں واپس پہنچا ۔بیٹوں نے جو دیکھا کہ والد ایک صندوق بغل میں دبائے چلا آرہا ہے تو سمجھ گئے کہ اس میں ضرور کچھ دولت ہے۔ اُنہوں نے اپنے والد سے یہ نہ پوچھا کہ تم اسکول کیوں نہیں گئے بلکہ سب خاطر تواضع میں لگ گئے ۔
ہر ایک اُسے اپنے گھر چلنے کو کہتا پھر اُنہوں نے والد کو خوب کھانا کھلایا ۔کھانے پینے کے بعد بوڑھے نے کہا ”میرے بچو ! اپنی جوانی میں مَیں نے کچھ دولت جمع کرکے جنگل میں دفن کر دی تھی ،مجھے اسکا خیال بھی نہیں رہا ۔آج جو ادھر سے گزرا تو یاد آیا۔
زمین کھوددی تو صندوق جوں کا توں تھا۔اب یہ میری زندگی تک یوں ہی بند رہے گا ۔میرے مرنے کے بعد اِسے کھولنا اور تم میں سے جو میری زیادہ خدمت کرے گا اور بڑھاپے میں آرام دے گا ،اِس دولت کا زیادہ حصہ اُسی کو ہی ملے گا۔
یہ سُن کر پانچویں بیٹے آپس میں لڑنے لگے کہ ابا کو میں اپنے پاس رکھوں گا ۔
اب بوڑھا جس بیٹے کے پاس بھی جاتا اُسکی خوب آؤ بھگت ہوتی ۔سب اُسکے کھانے کپڑے اور آرام کا خیال رکھتے ۔اِسی طرح بوڑھے کی زندگی مزے میں گزرنے لگی ۔بہت دنوں تک آرام سے زندگی گزارنے کے بعد بوڑھا مر گیا ۔پانچوں بیٹوں نے مل کر بڑی شان سے اُسکو دفن کیا ،شاندار فاتحہ کرائی ۔
غریبوں کو خیرات دی ۔پھر سارے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد صندوق کھولنے لگے ۔
مگر صندوق کھولنے سے پہلے ہی پانچوں بھائیوں میں بحث ہونے لگی ۔ہر ایک کہتا میں نے ابا کی زیادہ خدمت کی ہے اِسلئے بڑا حصہ مجھے ملنا چاہیے۔آخر میں یہ طے پایا کہ سب میں برابر تقسیم کرلیں گے ۔
صندوق کھو لا گیا تو اُس میں سے بڑی خوبصورت ریشمی تھیلی نکلی جس کا منہ بند تھا اُس میں چھن چھن کی آواز آرہی تھی بڑی بے صبری سے تھیلی کھولی اور فرش پر خالی کردی مگر کیا دیکھتے ہیں کہ اس میں سے کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے گر کر فرش پر پھیل گئے ۔
اُس پر پانچوں بیٹوں کو بہت غصہ آیا اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے ۔گاؤں کے دوسرے لوگ یہ دیکھ کر خوب ہنسے اور اُن نا فرمان اولاد سے کہا ؛”دیکھ لی اپنے بوڑھے باپ کی عقل ! اُسے اسکول بھیج رہے تھے ناں تم سب ،مگر اُس نے اسکول گئے بغیر کیسا مزیدار سبق سکھایا ہے “۔

Your Thoughts and Comments