Hasid Wazeer

Hasid Wazeer

حاسد وزیر

پیارے بچو،آپ نے ملانصیر الدین کا نام یقناََ سنا ہوگا۔ بہت ہنس مکھ اور نت نئے الطائف ان سے منسوب ہیں ۔ اُن کی ساری عمر بادشاہوں کے دربار میں گزری

محمد ابوبکر ساجد۔
پیارے بچو،آپ نے ملانصیر الدین کا نام یقناََ سنا ہوگا۔ بہت ہنس مکھ اور نت نئے الطائف ان سے منسوب ہیں ۔ اُن کی ساری عمر بادشاہوں کے دربار میں گزری۔ ہر بات پر مزاح کرنا اُن کی عادت تھی۔
بادشاہ بھی اُن سے بہت خوش تھے ۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اُن سے جلتے تھے۔ ایک مرتبہ ملا کو پیسوں کی ضرورت پڑگئی۔ بادشاہ نے وزیر خزانہ کو حکم جاری کیا کہ ملا کو اتنے دینار دیئے جائیں۔ ملا نے واپسی کا وعدہ کیا فلاں تاریخ کو واپس کردیں گے مگر بدقستی سے وہ اپنے وعدہ پر پورا نہ اتر سکے جس کی وجہ سے وہ دربار سے غائب ہوگئے۔
بادشاہ کو ان کی غیر حاضری ناگوارگزری تھی۔ کیونکہ ان کی موجوگی میں بادشاہ ہشاش بشاش رہتا تھا ۔ اکثر وزراء امراء اور تاجر ملا سے حسد کرتے تھے۔

(جاری ہے)

بادشاہ نے ہرکارے بھیجے کے پتہ کریں ۔ ملا دربار میں کیوں نہیں آرہا ۔ ہر بار ان کا بیٹا مختلف بہانے کرکے ٹرخادیتا ۔

دربار کے امراء وزراء نے بادشاہ کو اکسایا ۔ بادشاہ کو ملا پر بہت غصہ آیا ۔ اُس نے کوتوال کو حکم دیا جیسے بھی ہوں ملا کو دربار میں حاضر کیا جائے۔ کوتوال نے سر جھکایا اور ملا کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ملا نے کھڑکی سے کوتوال کو دیکھ لیا تو اپنے بیٹے سے کہاکہ جب کوتوال پوچھے تو بتانا کہ ملا مر گیاہے اور خود چارہائی کے نیچے چھپ گیا ۔
جونہی کوتوال نے دروازہ کھٹکھٹایا ملا کا بیٹا روہانسی آواز میں بولا ملا تو وفات پاگئے ہیں۔ کوتوال کو شک گزرا کیونکہ یہ بھی تو ملا کا بیٹا ہے کوئی چکمہ دے رہا ہے۔ اُس نے گھر کی تلاشی کا بہانہ سوچتے ہوئے کہا چلو اندر بیٹھ کرتعزیت کرتے ہیں ۔
مجبور ا۔ ملاکا بیٹا اُسے گھر لے آیا۔ اُسی چارپائی پر َََََََََ بیٹھے ملا کی باتیں کرتے رہیں ۔ نیچے ملا کو چونٹیاں کاٹ رہی تھی۔ کوتوال گہری نظروں سے دوسرے کمروں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ اُس نے ہلنے جلنے کی آواز سنی تو اُس نے چارپائی کے نیچے جھانکا جہاں ملا چھپے ہوئے تھے ۔
کوتوال نے ٹانگ سے پکڑ کر اُنہیں کھینچ لیا اور کہا “ واہ جی آپ کا بیٹا تو کہہ رہا تھا آپ مر گئے ہیںْ ملا نے مسکین سی صورت بناکر کہا“ یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے چارپائی کے نیچے سے نکلنا شرمندگی ہے ۔ اِس پرکوتوال کو ہنسی نکل گئی وہ اُسے پکڑے میلے کچیلے کپڑوں سمیت بادشاہ کے دربار لے کیا ، بادشاہ نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو تعجب سے پوچھا یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے؟ اس پر کوتوال نے سب ماجرا کہہ سنایا جسے سن کر بادشاہ اور درباریوں کی ہنسی نکل گئی۔
بادشاہ نے اُسے معاف کردیا۔ایک بار ملا سخت بیمار ہوگئے۔ دوست احباب ایادت کو آنے لگے۔ ملا کے گھر سے کچھ نہ کچھ کھاکر جاتے ۔ ملا نے اپنے بیٹے کے کان میں کچھ کہا جب عزیز رشتے دار عیادت کو آئے تو ملا کے بیٹے نے کہا : ملا صحت یاب کیسے ہوں آپ خالی ہاتھ آرہے ہوں کوئی سیب انار کیلے ہوں تو ملا صحت مند ہوں ۔
آپ کو خالی ہاتھ دیکھ کر ملا کو دورہ پڑ سکتا ہے ۔ کچھ دوست رشتے دار پھل وغیرہ لائے ۔ فارغ وقت میں ملا اور اس کے گھر والے مزے مزے سے پھل کھاتے ۔ جب بادشاہ کو یہ پتہ چلا ملا سخت بیمار ہیں وہ اپنے وزراء درباریوں کے ساتھ عیادت کو آیا ۔
ملا کو علم تھا ان میں سے ایک وزیر ملا سے حسد کرتا تھا۔ ہر موقع پر بادشاہ کو ملا کے خلاف اُکساتاتھا۔ ملا نے سب سے پہلے اُسے اپنے پاس بلایا وہ خوشی خوشی عیادت کرکے گیا۔ اُسے فخر محسوس ہوا ملا نے بادشاہ سے پہلے اُسے بلایا ہے۔
جب بادشاہ کو پتا چلا تو وہ ملا سے ناراض ہوا کہ اُس نے وزیر کو مجھ پر فوقیت کیوں دی۔ اُس پر ملا نے کہا حضور گستاخی معاف مجھے پتا ہے وہ حاسد شخص ہے ۔ مجھے ڈر تھا اگر میں مرگیا تو آپ سے پھر جنت میں ملاقات ہوسکتی ہیں مگر چونکہ وہ حاسد شخص ہے۔
وہ دوزخی ہونے کی وجہ سے مجھ سے کبھی نہیں مل سکتا ۔ اس پر بادشاہ اور درباری مسکرانے لگے ۔ بادشاہ نے کہا بے شک تم نے ٹھیک کہا ۔ حاسد کا ٹھکانا دوزخ ہے۔جب اُس وزیر کو پتا چلا کہ ملا نے اُس کی توہین کی ہے تو اُس نے یہ بات دل میں رکھ لیوقت گزرتا گیا ۔
کسی بات پر ملا بادشاہ سے ناراض ہوگیا ۔اُس حاسد شخص نے ملا کو بھڑکایا کے ملا کو قتل کروا دیں۔ جب ملا کو پتا چلا فلاں وزیر نے بادشاہ کو بھڑکایا ہے ۔ وہ چھپتا چھپاتا بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا ۔ اور سر جھکا کر بولا۔بادشاہ معظم مجھے پتا چلا ہے آپ نے میرا سر قلم کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا۔
تم نے ٹھیک سنا ہم نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ بادشاہ نے کہا، اُس پر ملا ہاتھ باندھ کر بولا۔آپ کا حکم سر آنکھوں پر غلام خود حاضر ہوگیا ہے حضور کے حکم کے سامنے میرا سر خم ہے مگر ایک گزارش ہے۔ ”وہ کیاہے؟“ بادشاہ نے پوچھا۔گزارش ہے میں آپ کا نمک کھاکر پلا ہوں اِسلئے میں نہیں چاہتا کہ روز قیامت آپ پر میرے ناحق قتل کا الزام آئے۔
آپ اجازت دیں تو وزیر کو مار ڈالوں ۔ پھر آپ مجھے اس کے قصاص میں قتل کردیں ۔ اِس صورت میں میرا قتل جائز ہوگا۔بادشاہ ہنس پڑا اُس نے وزیر پوچھا اب بتا تیری کیا رائے ہے؟ وزیر نے کہا “ جہاں پناہ میری رائے یہ ہے خدا کیلئے اپنے پدربزرگوار کی قبر کے صدقے میں ملا کو آزاد کردیجئے تاکہ میں بھی اس کی تجویز پر بچ سکوں ۔
اِس پر بادشاہ اور درباری ملا کی ذہانت کے معترف ہوگئے اور حاسد وزیر نے حسد سے توبہ کرلی۔دیکھا پیارے بچو،کسی سء حسد نہیں کرنا چاہیے ورنہ اپنا نقصان ہوگا ۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ جب تو کسی دشمن پر تیر چلائے تو یہ جان لے کہ تو بھی اُس کو نشانہ پر ہے۔اللہ تعالی ہمیں اچھا مسلمان بننے کی توفیق دے امین۔

Your Thoughts and Comments