Ali Ki Ghalti - Article No. 1935

علی کی غلطی

علی نے جھٹ معافی مانگ لی اور وعدہ بھی کر لیا کہ آئندہ ایسا نہ کروں گا

بدھ مارچ

Ali Ki Ghalti
محمد موذن مسعود
ہائے!میں کیا کروں اس لڑکے کا اندر داخل ہوتے ہی کمرے میں ہر طرف بکھری چیزیں دیکھ کر علی کی ماما نے ہاتھ سر پر مار کر دل ہی دل میں کہا اور واپس پلٹ گئیں۔انہوں نے علی کو پکارا جو ابھی کمپیوٹر پر گیم کھیل رہا تھا اور اس کا والیم بھی فل تھا۔
اسے ماما کی آواز نہ آئی ۔ماما اسے آوازیں دیتے ہوئے اس کے پاس گئیں مگر وہ مکمل طور پر گیم میں کھویا ہوا تھا۔پتہ تو اسے تب چلا جب اس کی کمر پر ایک تھپڑ رسید ہوا۔اس نے پیچھے منہ کرکے دیکھا تو ماما اس کے پیچھے کھڑی تھیں اور ان کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ آج گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے والی ہے۔

علی نے ڈرتے ڈرتے ماما سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ماما نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ میں تمہیں پچھلے دس منٹ سے آوازیں دے رہی ہوں۔

(جاری ہے)

مگر تم تو جیسے اس دنیا میں ہی نہیں ہو اور اپنی پانچوں بلکہ چھٹی حس بھی گیم میں گنوا چکے ہو۔پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا”سوری مجھے پتہ نہ چلا۔

“اس کی ماما نے پھر گرج کر کہا:”اور ہاں! مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارے کمرے میں آندھی آئی تھی یا طوفان؟(علی نے کھسیاتے ہوئے کہا) میرے کمرے میں آندھی اور طوفان کے ساتھ بارش بھی آئی تھی۔
اس کی ماما نے کہا:”اچھا“اگر وہ آندھی،طوفان اور بارش دس منٹ میں نہ گئے۔
تو یہ ضرور ہو گا کہ تمہارا کمپیوٹر کوئی جن یا بھوت ضرور لے جائے گا۔نہیں۔۔۔!ایسا مت کرنا۔ماما میں ابھی چل کر اپنا کمرہ ٹھیک کرکے آتا ہوں۔یہ کہہ کر علی دوڑتا ہوا اپنے کمرے میں گیا اور جلدی جلدی اپنے کمرے کو ٹھیک کرنے لگا۔
ماما بھی اس کی مدد کے لئے آگئیں۔جب کمرا مکمل طور پر ٹھیک ہو گیا تو علی نے ماما سے پوچھا ماما اب میں کھیلنے کے لئے جاؤں۔ماما نے کہا کہ نہیں میں نے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔علی نے جلدی سے کہا جو ہوا ماما ابھی میری گیم لگی ہوئی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ میں ابھی تک مر گیا ہوں۔اس بات پر اس کی ماما چونک پڑیں۔اس پر اس کی ماما کہنے لگیں کہ کیا کہا تم نے۔۔۔؟خدا نہ کرے کہ ایسا کچھ ہوا ہو۔علی ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ ارے!میں وہ بات نہیں کر رہا۔دراصل گیم میں جو آدمی میں کنٹرول کر رہا تھا،میں اس کی بات کر رہاہوں۔
اس پر اس کی ماما نے کہا،اچھا!آئندہ ایسی کوئی بات نہ کرنا۔ویسے ٹھیک ہے تم جاؤ بعد میں بات کریں گے۔علی یہ سن کر جلدی جلدی رفو چکر ہو گیا۔
کچھ دنوں کے بعد علی کے بابا جب دفتر سے واپس آئے تو علی نے پاپا سے کہا کہ اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر بتائیں۔
یہ سن کر اس کے بابا حیران ہوئے اور کہا!کیوں بیٹا تم اس کا کیا کرو گے؟پھر علی نے کہا کہ میں نے گیم میں ایک چیز خرید لی ہے۔اچھا وہ کتنے روپے کی ہے۔علی نے جھٹ سے کہا کہ بابا وہ صرف دو سو روپے کی ہے۔اچھا ٹھیک ہے یہ لو میرا کریڈٹ کارڈ۔
اس پر علی نے کہا کہ بابا پلیز ماما کو نہ بتانا وہ ناراض ہوں گی۔تو علی کے بابا یہ بات بھی مان گئے۔علی بہت خوش ہوا۔ابھی وہ بابا سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ ماما نے اسے آواز دی۔وہ دوڑتا ہوا ماما کے پاس چلا گیا۔اگلے دن وہ جلدی جلدی اٹھا اور ناشتہ کرکے پڑھنے بیٹھ گیا کیونکہ اس کی ماما نے کہا ہوا تھا کہ پہلے تم نے اپنی پڑھائی کے تین گھنٹے پورے کرنے ہیں۔
اس کے بعد تم کھیل سکو گے۔وہ پڑھتا رہا اور آخر کار تین گھنٹے پورے ہو گئے۔وہ بہت خوش نظر آرہا تھا۔اس نے اپنا بیگ لے جا کر دوسرے کمرے میں رکھا۔اس کے بعد کمپیوٹر پر گیم لگائی۔اور فوراً مطلوبہ چیز خرید لی اور دل ہی دل میں خوش ہونے لگا۔
تقریباً آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔وہ گیم چھوڑ کر دروازہ کھولنے چلا گیا۔دروازہ کھولا تو سامنے بابا کھڑے تھے۔وہ کچھ حیران بھی ہوا اور کچھ پریشان بھی کہ پہلے تو بابا کبھی اس وقت گھر نہیں آئے۔
علی نے پوچھا !کیا ہوا بابا ؟بابا نے علی سے کہا کہ بیٹا!کیا آپ مجھے وہ چیز دیکھا سکتے ہیں جو آپ نے دو سو میں خریدی ہے۔
علی نے کہا۔جی بالکل بابا آئیے۔وہ دونوں اندر چلے گئے۔علی نے بابا کو کہا کہ یہ ہے وہ چیز جو میں نے خریدی ہے۔اس کے بابا یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جہاں پانچ سو لکھا ہوا تھا اس کے ساتھ ہی ڈالر کا نشان بھی موجود تھا۔بابا کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔
اوہ میرے خدایا!امی بھی آگئیں تھی۔اور علی کے بابا کی یہ حالت دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔علی کی ماما نے اس کے بابا سے پوچھا کہ کیا ہو گیا ہے؟تو اس کے بابا نے انھیں ساری بات بتا دی ہے۔یہ سن کر علی کی ماما نے اسے کہا بیٹا!!اگر تم نے کوئی چیز خریدنی تھی تو پہلے آپ ہمیں تو بتا دیتے۔
علی نے جھٹ معافی مانگ لی اور وعدہ بھی کر لیا کہ آئندہ ایسا نہ کروں گا۔اگر کوئی چیز خریدنی بھی ہوئی تو آپ کو ساتھ بیٹھا کر خریدوں گا۔اب اگر آپ کی کلاس میں اگر کوئی علی پڑھتا ہے تو اس کو یہ کہہ کر تنگ نہیں کرنا کہ تم کتنے بدھو ہو۔وہ اب سدھر چکا ہے اور اپنی ماما کو تمام باتیں بتاتا ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Insanon Ka Chirya Ghar

انسانوں کاچڑیاگھر

Insanon Ka Chirya Ghar

Sakhawat

سخاوت

Sakhawat

Hame Inaam Nahi Chahiye

ہمیں انعام نہیں چاہیے۔۔تحریر:مختار احمد

Hame Inaam Nahi Chahiye

Shaheed Millat

شہید ملت

Shaheed Millat

Rainbow Kiya Hai

قوس قزح کیا ہے

Rainbow Kiya Hai

Wapsi

واپسی

Wapsi

Haqeeqi Khushi

حقیقی خوشی

Haqeeqi Khushi

Hum Kahan Khelen?

ہم کہاں کھیلیں؟۔۔۔تحریر:مختار احمد

Hum Kahan Khelen?

Waqt Ka Tohfa

وقت کا تحفہ

Waqt Ka Tohfa

Panchwaan Mujrim

پانچواں مجرم

Panchwaan Mujrim

Kisan Aur Pari

کسان اور پری

Kisan Aur Pari

Laltain Ka Tehwar

لالٹین کا تہوار

Laltain Ka Tehwar

Your Thoughts and Comments