Kalu Miyan - Article No. 1902

کالو میاں

واقعی یہ تو بہت بُرا کام ہے،شاہد مجھے معاف کر دو،میں آئندہ کبھی تمہیں ایسا نہیں کہوں گا

ہفتہ فروری

Kalu miyan
حمزہ نعیم،بہاول پور
اسکول سے واپسی پر ننھے میاں گھر میں داخل ہوئے تو سلام کیے بغیر ہی سیدھے اپنے کمرے میں چلے گئے۔کچھ دیر بعد دروازے کی گھنٹی بجنے پر ننھے کی امی نے دروازے کے پاس جا کر پوچھا:”کون ہے؟“
باہر سے محلے کی ایک خاتون غصے میں بھری آواز میں بولیں:”دروازہ کھولیے،میں شاہد کی امی ہوں۔

ننھے میاں کی امی نے دروازہ کھولا تو وہ اپنے بیٹے شاہد کے ساتھ گھر میں داخل ہو گئیں:”کہاں ہے ننھا،میں تو اسے بہت اچھا بچہ سمجھتی تھی، لیکن اس نے تو حد ہی کر دی۔“
”بہن!آخر ہوا کیا ہے،کچھ بتائیے تو سہی۔
“ننھے میاں کی امی نے نرم لہجے میں شاہد کی امی سے پوچھا۔
”ہونا کیا ہے!میرے بیٹے کا رنگ کالا ہے،لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ کا بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اسے کالو،کالو کہہ کر چھیڑتا رہے۔

(جاری ہے)

آج شاہد روتے روتے گھر واپس آیا ہے۔


”بہن!آپ بیٹھ جائیے میں ننھے میاں کو بلاتی ہوں:”ننھے میاں!کہاں چھپ گئے ہیں،آپ فوراً ادھر آئیے۔“امی نے غصے سے کہا۔
کچھ دیر بعد ننھے میاں آگئے۔ننھے میاں کے ساتھ ان کی دادی بھی امی کی آواز سن کر آگئیں۔
شاہد کی امی نے دادی کو سلام کیا اور ساری بات بتائی۔یہ سب سن کر دادی کہنے لگیں:”ننھے میاں!مجھے آپ سے ایسی اُمید نہیں تھی۔“
”دادی!شاہد بھی مجھے روزانہ چڑاتا ہے۔“ننھے میاں نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا۔
”ارے!بچوں میں یہ گندی عادت کیسے پیدا ہو گئی؟“دادی نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔

پھر دادی دونوں بچوں کو سمجھاتے ہوئے بولیں:”کسی کے بُرے نام رکھنا،لمبے کو لمبو،موٹے کو موٹو اور چھوٹے قد والے کو چھوٹو یا ٹھگنا کہہ کر اس کا مذاق اُڑانا بہت بُری بات ہے۔میں آپ دونوں کو ایک سچی کہانی سناتی ہوں پھر مجھے بتانا کہ آپ دونوں نے اچھا کام کیا ہے یا بُرا؟“
دادی نے بتایا کہ عالم اسلام کے پہلے موذن حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سیاہ فام تھے۔
ایک شخص نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اس طرح پکارا:”ارے کالی عورت کے بیٹے!“
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جب دربار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کی شکایت کی تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”مجھے توقع نہیں تھی کہ تمہارے سینوں میں ابھی تک اسلام سے پہلے کے زمانے کا تکبر موجود ہو گا۔

”اس کے بعد اس شخص نے پتا ہے کیا کیا؟“دادی نے درمیان میں کہا:”ننھے میاں اور شاہد میاں!تم دونوں اسے غور سے سنو!اس شخص نے اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیا اور کہا کہ بلال رضی اللہ عنہ!جب تک آپ اپنا پاؤں میرے چہرے پر نہیں رکھیں گے،میں اس وقت تک ہر گز اپنا سر زمین سے نہیں اُٹھاؤں گا۔
آخر اس شخص کے بہت ضد کرنے پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں اس شخص کے چہرے پر رکھا۔“
دادی نے دونوں بچوں سے پوچھا:”میرے پیارے بچو! اب بتاؤ تم دونوں اچھا کام کر رہے تھے یا بُرا؟“
ننھے میاں فوراً بولے:”دادی!واقعی یہ تو بہت بُرا کام ہے،شاہد مجھے معاف کر دو،میں آئندہ کبھی تمہیں ایسا نہیں کہوں گا۔

شاہد نے اُٹھ کر ننھے میاں کو گلے لگایا اور کہا:”مجھے بھی معاف کر دو،میں بھی آئندہ تمہیں تنگ نہیں کروں گا۔“
دونوں بچوں کو یوں ملتا دیکھ کر شاہد کی امی کا غصہ ختم ہو گیا اور ننھے میاں کی والدہ اور دادی بھی خوش ہو گئیں۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Gehre Samundar K Heeran Kun Haqaiq

گہرے سمندر کے حیران کن حقائق

Gehre Samundar K Heeran Kun Haqaiq

Larka Or Apple Ka Darakhat

لڑکا اور سیب کا درخت

Larka Or Apple Ka Darakhat

Bachoon Or Waldain K Huqooq O Faraiz

بچوں اور والدین کے حقوق وفرائض

Bachoon Or Waldain K Huqooq O Faraiz

Birbal Ki Danishmandi

بیربل کی دانشمندی

Birbal Ki Danishmandi

Sahhi Chor

شاہی چور

Sahhi Chor

Aam Ka Darakhat

آم کا درخت

Aam Ka Darakhat

Scheme Zer Vazero

اسکیم زیر وزیرو

Scheme Zer Vazero

Akalmand Ustani

عقلمند استانی

Akalmand Ustani

Buri Sohbat

بُری صحبت

Buri Sohbat

Pani Zindagi Hai

پانی زندگی ہے

Pani Zindagi Hai

Aik Tofani Raat

ایک طوفانی رات

Aik Tofani Raat

ہاتھی کے گلے میں ڈھولک

Hathi Kay Galay Main Dholak

Your Thoughts and Comments