Mehnat main azmat

Mehnat Main Azmat

محنت میں عظمت

عاصم اور حیدر بہت اچھے دوست تھے۔دونوں پڑھائی میں بہت تیز تھے۔کبھی عاصم کی فرسٹ پوزیشن آجاتی تو کبھی حیدر کی ۔دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے حسد محسوس نہیں کیا تھا۔

نمرہ محمود
عاصم اور حیدر بہت اچھے دوست تھے۔دونوں پڑھائی میں بہت تیز تھے۔کبھی عاصم کی فرسٹ پوزیشن آجاتی تو کبھی حیدر کی ۔دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے حسد محسوس نہیں کیا تھا۔عاصم کا سکول اس کے گھر کے قریب تھا۔

لہٰذاوہ پیدل ہی آتا جاتا تھا۔عاصم کے گھر کے راستے میں ایک آدمی اپنے طوطے کے ہمراہ فال لے کر بیٹھا ہوتا تھا۔ایک دن عاصم نے سوچا کیوں نہ میں بھی اپنی ایک فال نکلواؤں لہٰذا عاصم اس طوطے والے آدمی کے پاس گیا۔اس سے کہا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ اس بار سالانہ امتحان میں میری پوزیشن کونسی آئے گی ۔
اس نے کہا صاحب یہ طوطا آپ کو فال کے ذریعے بتا سکتا ہے ۔اور یہ طوطا کبھی غلط فال نہیں نکالتا،اس فال کے ذریعے جو بھی نکلے گا بالکل ویسا ہی ہو گا۔

(جاری ہے)


عاصم اس کی باتوں میں آگیا لہٰذا جب فال نکالی گئی تو عاصم سن کر حیران ہی رہ گیا کیونکہ اس میں لکھا ہوا تھا کہ اس بارتم فیل ہو گے۔

یہ سن کر عاصم بہت پریشان ہوا۔اس پریشانی کے عالم میں جب وہ گھر پہنچا تو عاصم کی امی اسے دیکھ کر حیران ہوئیں کیونکہ اس سے پہلے جب وہ گھر آتا تھا تووہ بہت ہنستا مسکراتا گھر میں داخل ہوتا تھا اور اپنی امی سے بہت گرم جوشی سے ملتا تھا جبکہ آج معاملہ اس کے برعکس تھا وہ بہت خاموش اور سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔

عاصم کی امی نے بار بار پوچھا لیکن وہ ہر بار ٹال گیا۔اب یہ تھا کہ عاصم جب بھی کتابیں کھول کر بیٹھتا تو یکسوئی سے کچھ بھی یادنہ کرپاتا۔اس کا دل پڑھائی سے یکدم ہی اچاٹ ہو چکاتا۔اس نے سوچا جب میری قسمت میں اس بارفیل ہونا ہی لکھاہے تو اتنی محنت کا کیا فائدہ اس طرح سے عاصم نے پڑھائی میں دلچسپی لینا بالکل ہی چھوڑ دی۔
عاصم کے ٹیچرز اس کے پڑھائی کے متعلق کارکردگی پر بہت حیران ہوتے جارہے تھے۔کیونکہ وہ دن بدن پڑھائی میں بہت کمزور ہوتا جارہا تھا۔
اس کا دوست حیدر بھی بہت پریشان تھا کہ آخر اس کو ہوا کیا ہے ایسا کیا مسئلہ ہے جو یہ پڑھائی میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے لگا ہے آخر ایک دن حیدر نے عاصم سے اس قدر اصرار کیا کہ عاصم کو بتانا ہی پڑھا۔
سواس نے ساری بات حیدرکو گوش گزار کردی۔حیدر عاصم کا بہت اچھا دوست تھا۔سواس نے عاصم کو بہت مخلصانہ مشورہ دیا کہ تم اس آدمی کی بات کا ہر گزیقین مت کرو۔بھلا ایک طوطا انسان کی قسمت کا کیسے فیصلہ کر سکتا ہے ۔تم دل لگا کر محنت کرو۔
اللہ تعالیٰ محنت کرنے والے کو بہت پسند کرتا ہے اور محنت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پھل بھی ضرور عطا کرتا ہے ۔
لہٰذا تم دن رات اپنی توجہ پڑھائی پر لگادو۔دیکھنا پھر تمہاری پہلے ہی کی طرح پوزیشن بھی آئے گی ۔عاصم پر حیدر کی باتوں کا اتنا اثر ہوا کہ اس نے پھر پہلے کی طرح دن رات محنت کی اور جب سالانہ امتحانات کا نتیجہ تو عاصم کی فرسٹ پوزیشن آئی یہ دیکھ کر عاصم بہت خوش ہوا کہ اس کی تو فرسٹ پوزیشن آگئی ہے۔
تب اس کو احساس ہوا کہ واقع ہی محنت ہی کی بدولت انسان اپنی قسمت بدل سکتا ہے ۔یہ قسمت کا فیصلہ سوائے اللہ کہ اورکوئی نہیں کر سکتا۔لیکن اس کے لئے محنت شرط ہے۔

Your Thoughts and Comments