Nanna bahadur

Nanna Bahadur

ننھا بہادر

ایک بچہ ایک بڑا سا توپ کا گولا تھامے کھڑا تھا میں نے پہچاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ وہ گوالے کا لڑکا تھا لڑکے نے اس بڑے سے گولے کو ایک رسے سے باندھا اور گھسیٹتا ہوا دشمن کے مورچوں کی طرف لے جانے لگا

محمد فاروق دانش:
جنگ جاری تھی فوج میں میری ڈیوٹی کرنل صاحب کے ساتھ تھی انہوں نے اگلے مورچوں کے لیے ایک انفنٹری (فوج کا پیادہ دستہ)کے ساتھ بارڈر پر جانے کا حکم دیا جونہر سے زیادہ دور نہیں تھا اس وقت تیز بارش اور موسم کی خرابی کے سبب وہاں نظام زندگی مفلوج ہوچکا تھا نہر کے مضافات کے تمام دیہات خالی کرالیے گئے تھے لیکن سرحد کے قریب ایک گوالا اپنے مال مویشیوں کی نگرانی کے سبب اپنے خاندان والوں کے ساتھ نہ جاسکا اور وہیں رک گیا تھا اس کا تیرہ سالہ بیٹا بھی اپنے باپ کی مدد کرنے کے ارادے سے یہاں رُک گیا دونوں باپ بیٹا دن بھر مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے اور دودھ نکال کر شام کو شہر روانہ کیا کرتے تھے بیٹا تمام کاموں میں والد کی مدد کرتا اوردن بھر باپ کے ساتھ مصروف رہتا۔

(جاری ہے)

پہلے روز جب ہم لوگ نہر کے کنارے مورچے بناکر تھک گئے تواس گوالے اور اس کے بیٹے نے ہمیں دودھ پلا کر تازہ دم کردیا ان کے گاؤں واپس لوٹنے کے کچھ ہی دیر بعد دشمن کے توپ خانے سے نہر پار گولے آکر گرنے لگے ہمارا توپ خانہ یہاں سے دور تھا اسے جلد آگے لے جانے کے لیے ایک جیپ موجود تھی جس میں‘میں بھی سوار تھاہم توپ خانہ لے کر نہر کی سمت روانہ ہوئے لیکن راستہ ہمارے لیے نیا تھا اس لیے ہماری جیپ کاایک پہیا گڑھے میں پھنس گیا بارش کے سبب ہونے والی پھسلن کی وجہ سے گاڑی کو گڑھے سے نکالنا مشکل ہورہا تھا وائر لیس پر خبر ملی کہ دشمن کے ایک دستے نے نہر پار کرلی ہے اور ان کے ٹینک نہر کے پشتوں کو توڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں دشمن اچانک اور ہماری توقع سے کہیں زیادہ شدت والا تھا اس لیے جب کیپٹین نے تمام تر صورتحال سے کرنل صاحب کو آگاہ کیا تو وہاں سے فوری طور پر ایک اور انفنٹری اور توپ خانہ روانہ کردیا لیکن طویل مسافت اور موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کے نہر پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے تھے۔
اس پریشانی کے عالم میں ہم نے دیکھا کہ گوالے کا بیٹا لکڑی کا ایک مضبوط تختہ رسے سے باندھے چلا آرہا ہے یہ تختہ کافی مضبوط تھا ہم ساتھیوں نے مل کر اس تختے کو جیپ کے نیچے دبا دیا اور جیپ کی رفتار بڑھائی جیپ ایک جھٹکے سے باہر نکل آئی ہم نے اس دانش مندی کا مظاہرہ کرنے اورمشکل میں ہماری مدد کرنے پر بچے کو شاباش دی اور مورچے کی طرف روانہ ہوگئے پیچھے سے بچے کی آوازآئی ایک اور چیز ہے جو میں آپ کو دکھانا اس نے ہمیں روک کر یہ بات کہنے کی کوشش کی لیکن جلد سے جلد پہنچنے کی وجہ سے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا اور تیزی سے نہر کی جانب روانہ ہوگئے نہر کے قریب ہمارے ساتھی منتظر تھے انہوں نے چند لمحوں میں دشمن پر گولے برسانا شروع کردیے جس کی وجہ سے دشمن کے درجنوں ٹینک آگ کی لپیٹ میںآ گئے اور آگے نہ بڑھ سکے دشمن کے کچھ فوجی اب بھی ہمارے مورچوں پر قابض تھے جہاں سے وہ ہمارے فوجیوں پر مسلسل فائرنگ کرر ہے تھے ۔
جیسے جیسے رات گہری ہوتی جارہی تھی ہمارے لیے دشمن کے زیر قبضہ مورچے ایک چیلنج بنتے جارہے تھے کیپٹین نے پیدل دستے کو چند ٹولیوں میں بانٹ دیا اور الگ الگ سمتوں سے دشمن پر حملے کرنے کا حکم دیا اور خو دایک دستے کے ساتھ مورچے کی پشت پر پوزیشن سنبھال لیں اسی دوران دشمن کو مخالف سمت سے تازہ کمک مل گئی جس کے سبب اگلے مورچے میں ہمارے ساتھیوں کو زیادہ دیر ٹھہرنا مشکل دکھائی دے رہا تھا دشمن سے اپنے مورچے خالی کرانے کی کوشش میں ہمارے کئی ساتھی مارے گئے صورتحال کی نزاکت کو دیکھ کر کیپٹین نے ہمیں پیچھے جانے کی ہدایت کردی لیکن ہمارے حوصلے بلند تھے اور ہم نے دشمن کو آگے نہ بڑھنے دینے کا عزم کر رکھا تھا اپنے ساتھیوں کی جدائی نے ہمیں دیوانہ بنادیا تھا دستے میں شامل تمام فوجی دشمن پر تابڑ توڑ حملے کررہے تھے لیکن کیپٹین کا حکم ماننا ضروری تھااس لیے ہم ایک ایک کرکے اپنی پوزیشن خالی کرتے ہوئے پچھلے مورچو ں میں آگئے اسی دوران میری نظر دائیں جانب نہر کے آخری پشتے پر پڑی جہاں ایک بچہ ایک بڑا سا توپ کا گولا تھامے کھڑا تھا میں نے پہچاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ وہ گوالے کا لڑکا تھا لڑکے نے اس بڑے سے گولے کو ایک رسے سے باندھا اور گھسیٹتا ہوا دشمن کے مورچوں کی طرف لے جانے لگا مجھے اس کی بہادی اور جرأت پر حیرت اور تشویش ہورہی تھی میں اسے آواز دے کر اسے اس گولے سے دور رہنے کا کہنا چاہتا تھا لیکن گولیوں کی گھن گرج کے سبب میری آواز اس تک پہنچنا ممکن نہ تھی میں دل ہی دل میں اس کی سلامتی کی دعا کرنے لگا اور بار ہاتھ ہلا کر اسے واپسی چلے جانے کا اشارہ بھی کیا لیکن اس سے قبل کہ میں اس کی مدد کے لیے اس کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتا لڑکے نے گولے پر بندھا رسا کھول دیا اور اسے دشمن کے مورچوں کی طرف لڑھکا دیا ڈھلان کی وجہ سے یہ گولا تیزی سے دشمن کے مورچوں کی طرف بڑھنے لگا جب کہ لڑکا لپک کر نہر کے پشتے کی دوسری سمت غائب ہوگیا۔
یہ گولا غالباً دشمن کے ٹینک سے پھینکا گیا تھا جو گوالے کے گاؤں کے باہر جاگرا اور پھٹ نہ سکا اور اسی گولے کی جانب لڑکے نے ہماری توجہ دلانا چاہی تھی لیکن جانے کی جلدی میں ہم نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا خیر یہ اچھا ہوا کہ یہ گولا پھٹا نہیں ورنہ گوالے کے گاؤں میں ہر طرف آگ بھڑک اُٹھتی۔
گولا تیز رفتاری سے ڈھلان پرلڑھکتا ہوا دشمن کے مورچوں میں جاگرا اور اس زور سے پھٹا کہ دشمن فوجیوں کے پرخچے اُڑگئے اور دیگر مورچوں سے بھی دشمن فوجی نکل نکل کر فرار ہونے لگے پھر کیا تھا وہ سارے کے سارے ہمارے نشانے پر آچکے تھے اور ایک ایک کرکے ہماری گولیوں کی زد میں آکر میدان میں گرتے گئے ہمارے ساتھیوں نے مورچوں سے نکل کر ایک بھرپور حملہ کیا دشمن کی فوج گھبرا کر نہر سے قبضہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور ٹینک بھاری تعداد میں اسلحہ گولہ بارود وغیرہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
گوالے کے لڑکے کی اس بہادری نے تو ہم سب کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا اس کے اس بروقت اور جرات پر مبنی کارنامے کو ہر ایک نے ہی سراہا ہمارے کمانڈر نے اسے فتح و کامرانی کا جھنڈا دیا اور جنگ بند ہونے کے بعد ہونے والی ایک شان دار تقریب میں اس کے والد کو بھی تمغے سے نوازا لڑکے کے شوق کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے اسے فوج میں داخلہ دے دیا گیا اس نے وہاں محنت سے تعلیم حاصل کی اس کے بعد گریجویشن کرکے فوج میں چلا گیا اور کرنل کے عہدے تک جا پہنچا۔

Your Thoughts and Comments