Naqal Se Toba

نقل سے توبہ۔۔تحریر:ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

اتنا بڑا گناہ اورچوری کرنے کے باوجود تم جھوٹ بھی بولتے ہو۔ اور جھوٹ بھی ایسا جو پوری زندگی پر محیط ہو کیونکہ جب تم کہتے ہو کہ میں نے اتنے نمبر حاصل کیے ہیں تو یہ صریح جھوٹ ہے کیوں کہ تم ان نمبروں کے اہل توقطعا نہ تھے

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ منگل مارچ

naqal se toba
فخر ایک شرارتی لڑکا تھا۔وہ پڑھائی میں بالکل دلچسپی نہ لیتا۔دن بھر نت نئی شرارتوں کے منصوبے بنایاکرتا۔کبھی کسی کے دروازے کی گھنٹی بجاکربھاگ جانا،کبھی کسی جانور کواذیتیں دینا،کسی خوانچہ فروش کی نقل کرنا ،کسی بھکاری کو زچ کرنا۔
حتی کہ اسکول میں بھی اس کا ذہن شرارتوں ہی کی طرف مائل رہتا۔وہ کبھی ایک طالب علم کی چیزیں چھپاکر کسی دوسرے کے بستے میں ڈال دیتا،کلاس میں ہوٹنگ کرتا ،جماعت کے نظم وضبط کو خراب کرتا،اسکول کے چوکیدار کو تنگ کرتا،الغرض نت نئی سازشیں، نت نئی چالیں۔
اگراس کے اساتذہ اور والدین اس کی توجہ تعلیم کی طرف دلاتے تو انہیں سہانے خواب دکھادیتا۔اپنی فرضی محنت کو بڑھا چڑھا کربیان کرتا۔وہ امتحانات کے سلسلے میں بہت پرامید بلکہ پراعتماد تھا۔اس کا خیال تھا کہ وہ بہت ذہین ہے اوراپنی ذہانت کے استعمال سے وہ نقل کے لئے ایسے نئے نئے حربے آزمائے گا جن کا توڑ کسی کے پاس نہ ہوگا۔

(جاری ہے)

اس نقل سے نہ صرف وہ پاس ہوجائے گا بلکہ اعلیٰ نمبر حاصل کرلے گا۔ سالانہ امتحان کے آغازسے قبل جب اس کے ایک دوست نے امتحان کی تیاری کے متعلق استفسارکیا تو اس نے استہزائیہ انداز سے کہا کہ مکمل تیاری ہے۔ نیایونیفارم، نئے جوتے،نیاقلم الغرض تمام اشیاء بالکل نئی خرید چکا ہوں۔
اب صرف امتحان کا انتظار ہے۔جب امتحان کا باقاعدہ آغاز ہوا تو پہلے پرچے کے دوران مکمل تیاری کے ساتھ گیا لیکن پرچہ اس کی توقعات کے برعکس نکلا یعنی اس کے لائے ہوئے کارتوس ناکارہ ثابت ہوئے۔ جب پرچہ توقع کے برعکس دیکھا تو اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے۔
اس نے ادھر ادھر جھانکنا شروع کردیا۔ کبھی کسی سے سوال کرے کبھی کسی سے کچھ مانگے، التجاکرے۔ اس کے استاذ نے جب اسے اس طرح التجاء کرتے اوردوسروں سے مانگتے دیکھا تو کہا تم اگر سال بھر محنت کرتے تو آج دوسرو ں سے بھیک نہ مانگ رہے ہوتے بلکہ اپنی محنت کے بل بوتے پر اب امتحان دے رہے ہوتے۔
یوں فخر کو سب کے سامنے خفگی اور شرمندگی کا سامنا کرناپڑا۔ لیکن اس کے باوجوداس عمل سے توبہ کرنے کے بجائے وہ اپنے ذہن میں کوئی اورہی منصوبہ بنارہاتھا۔ کہ کل میں مزید تیاری سے آوٴں گا اورمجھے کسی سے کچھ مانگنا نہ پڑے گا۔
اگلے دن اس نے ساری رات بیٹھ کربہترین انداز سے نقل کی تیاری کی۔اس نے نوٹس بنانے کے علاوہ اپنے رومال،جراب،آستینوں، دامن الغرض ہر دستیاب جگہ پر شارٹ ہینڈ کی طرز پر اپنی علامات بنائیں اوربہت ہی باریک بینی سے کشیدہ کاری کی۔
اس نے یہ تمام کام اس قدر مہارت سے کیا کہ اس کے علاوہ کوئی اور اس تحریر کو اول تو پڑھ ہی نہ سکتا تھا اور سمجھنے کا توسوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔بہرحال اس تمام ترجدوجہد کے بعد صبح جب وہ میدان کارزار میں داخل ہوا تو بہت مطمئن اور مسرور تھا۔
امتحان گاہ پہنچ کر اس نے سب سے پہلے اپنے چشمہ کی طرف ہاتھ بڑھا یا کیونکہ اس کی قریب کی نظر کمزور تھی۔ لیکن یہ کیا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہی اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے کہ وہ اپنی نظرکا چشمہ لانا تو بھول ہی گیاتھا۔ اب وہاں بیٹھ کر وہ صرف اپنی بے بسی پر آنسو بہاسکتاتھا!اچانک اسے کین نسبت (Kenn Nesbitt) کی نظم This Morning is Our Historyیاد آئی جس کے آخری بند میں اس ہی کیفیت کو بیان کیاگیاتھاجس سے آج وہ گزررہاتھا۔
I came to school so well prepared. I wasn't nervous, wasn't scared. But here it is, the history test. I look inside my coat and vest to get the dates and famous quotes and find I cannot read my notes. So much for Shakespeare, Greece and Rome. I left my glasses back at home. لیکن وہ فخر ہی کیا جو نامساعد حالات سے گھبرا کر پسپائی اختیار کرلے۔
اور ویسے بھی امتحان کے دنوں میں تیاری نہ ہونے کے سبب اس کے پاس اورکوئی حل بھی نہ تھا۔ اگلے دن وہ فخریہ انداز سے ہر طرح کی بوٹی اورکارتوسوں سے لیس کمرہ امتحان میں داخل ہوا۔ہاں اور اپنا چشمہ لانا وہ ہرگز نہ بھولا۔ پرچہ سامنے آتے ہی اس کا ذہن بڑی تیزی سے کام کرنے لگا کہ کون سا سوال کہاں رکھا ہواہے۔
ابھی وہ بمشکل سوالوں کے جواب ہی ڈھونڈ پایا تھا کہ اچانک معلوم ہوا کہ آج اچانک بورڈ سے انسپیکشن کی ٹیم آگئی ہے۔ اب اس نے سوچا کیاکیاجائے۔ انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ٹیم نے اس کے کمرے میں بہت وقت لگایا۔ نگران بھی بہت مستعد اورچوکس تھے۔
اس کا قیمتی وقت برف کی مانندبڑی تیزی سے اس کے ہاتھوں سے پھسلتارہا۔ جب اس نے وقت ہاتھ سے نکلتادیکھا تو اس نے تمام ترخوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بڑی رازداری اورخاموشی سے نقل کرناشروع کی۔ یہ کیا ابھی وہ پہلا سوال ہی کررہاتھا کہ نگران نے اسے آڑے ہاتھوں لیا اور اسے رنگے ہاتھوں پکڑلیا۔
وہیں پر انہوں نے ہیڈ ماسٹرصاحب کو بلالیا۔ وہ نفسیات دان تھے اور قابل،لائق اور محنتی طلباء سے بہت محبت کرنے والے تھے۔ انہوں نے کچھ عجیب سے لہجے میں کہا کہ فخر تم چور کب سے بن گئے؟ اس نے کہا میں نے توکبھی چوری نہیں کی۔ انہوں نے کہا یہ چوری نہیں تو اور کیا ہے۔
نقل کرنااوراس میں معاونت کرناایک گناہ عظیم ہے۔ یہ ایسی لعنت ہے جو کئی برائیوں کا مجموعہ ہے۔ظلم اورناانصافی ہے نقل کی مدد سے اگر کوئی ڈگری حاصل بھی کرلے تاہم تعلیم وتربیت کی اصل روح یعنی وہ خوداعتمادی،عزت نفس،اطمینان قلب وسکون نفس سے یکسرمحروم رہے گا۔
الغرض نقل صرف معاشرے کو علمی اعتبار سے ہی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ ایک ایسے ناسور کی مانند ہے جس سے مواد رِس رِس کر پورے معاشرے کو تہذیبی،معاشرتی،اخلاقی ،مذہبی،شخصی اوراجتماعی طور پرکرپٹ کردیتی ہے اورملک وقوم کیلئے بہت نقصان دہ ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ اتنا بڑا گناہ اورچوری کرنے کے باوجود تم جھوٹ بھی بولتے ہو۔ اور جھوٹ بھی ایسا جو پوری زندگی پر محیط ہو کیونکہ جب تم کہتے ہو کہ میں نے اتنے نمبر حاصل کیے ہیں تو یہ صریح جھوٹ ہے کیوں کہ تم ان نمبروں کے اہل توقطعا نہ تھے۔
نیز تم اس ملک و قوم کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان کی بنیاد رکھ رہے ہو۔ فخرنے پوچھا وہ کیسے۔ہیڈماسٹرصاحب نے فرمایا ذرا غور کرو اگر یہ شخص ناقص علم،ادھوری معلومات اوربے ترتیب انداز سے واقعی کسی سخت مشکل پیچیدہ معاملے میں الجھ جاتا ہے تو یہ کس قدر نقصان دہ ہوگا۔
دیکھو اگر کوئی شخص نقل کرکے ڈاکٹربن بھی جائے تو وہ اس وقت مریضوں کی جانوسے کھیل رہا ہوگاجس کے لئے یہ محاورہ تم نے ضرور سنا ہوگا نیم حکیم خطرہ جان،نیز جان لو اس قبیل کے تمام ناہل افراد جس بھی میدان کارزار میں حصہ لیں گے وہاں فساد اوربگاڑ کے سوا کچھ نہ کرسکیں گے۔
نقل کرکے امتحان پاس کرنے والا کامعاملہ یہ ہے کہ دنیا سمجھتی ہے یہ شخص اس سند کا حامل ہے اورضرور اس شخص میں ان معاملات کو حل کرنے کی قابلیت ہوگی۔ اس اعتماد کے ساتھ جب اس کے سپرد معاملات کئے جاتے ہیں تو یہ تعلیم یافتہ شخص ایک ایسے دانا (نادان دوست)کی طرح معاملات حل کرتاہے جیسا اس تمثیل میں ہے : ایک دفعہ ایک شخص بلند وبالا درخت پر چڑھ گیا اور بلندی دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے اوراس کے لئے نیچے اترنا ناممکن ہوگیا اس وقت ایک نام نہاد دانشور کو بلایا گیا جس نے اپنے تئیں انتہائی فراست کے ساتھ حکم دیا کہ ایک رسی لائی جائے اور اس شخص سے کہا تم اس رسی کو اپنی کمر سے باندھ لو۔
جب اس نے باندھ لی تو دو آدمیوں کی مدد سے بلندی پر موجود شخص کو تمام ترقوت کے ساتھ کھینچا۔پھر وہی ہوا جو ہونا تھا اس کی لاش کے پاس بیٹھ کر یہ حضرت کہتے ہیں کہ میں نے بارہا کنوئیں سے آدمی نکالیں ہیں آج تک کوئی نہیں مرا اس شخص کو کیا ہوگیا شایداس کی قسمت ہی خراب تھی۔
توبہرحال بیٹا اس قبیل کے آدمیوں سے اس قسم کے فیصلوں ہی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں جعلی ڈگری ہولڈروں سے بچائیں اورہمارے ملک اورقوم کے امور اہل اورباکردار افراد کے سپرد کرے۔ اس تمثیل کے بعد وہ دوبارہ فخر سے مخاطب ہوئے:اور سحرانگیز الفاظ میں کہا کہ" تم تو جھوٹے بھی ہو ، بھکاری بھی اور چور بھی"۔
یہ تمام الفاظ فخر کے دل پر ہتھوڑے برسارہے تھے۔پوری کلاس کے سامنے اس طرح کی شرمندگی ،رسوائی،بے وقعتی کا اس نے کبھی خواب میں بھی تصورنہ کیاتھا! لیکن اس کا ضمیربیدارہوچکا تھااور اسے کچوکے لگارہاتھا ،چیخ چیخ کر پکاررہاتھا کہ واقعی استاد محترم صحیح فرمارہے ہیں۔
اس (نقل)کے لیے تمہیں دائمی جھوٹ کا بھی سہارالیناپڑتاہے۔ یعنی ایک برائی کئی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ اگر تھوڑی سی محنت کرلیتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ استاد محترم کے ان بصیرت افروز واقعات اورحکیمانہ درس نے اس کی دل کی دنیا بدل دی۔
اب یہ سب باتیں سن کر وہ رونے لگا اوراس نے عہد کیا کہ آئندہ کبھی ایسا نہ کرے گا بلکہ خوب محنت کرے گا۔ اورواقعی اگلے سال اس نے ابتداء ہی سے انتہائی منظم انداز سے تعلیم کو وقت دیا۔ تمام شرارتوں سے توبہ کی۔ اور پھر جب سالانہ نتیجہ آیا تو واقعی وہ نہ صرف اعلیٰ نمبروں سے پاس تھا بلکہ پورے اسکول نے اس نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔
اب تو اس کی خوشی دیدنی تھی۔ ہیڈماسٹر صاحب نے کہا بیٹا اب آپ کو سچی خوشی حاصل ہوئی ہے۔ اس مقام کو آپ نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے اب آپ فخر سے کہہ سکتے ہو کہ میں نے امتحان میں پہلی پوزیشن لی ہو اور آپ کا ضمیر آپ کو کچوکے نہیں مارے گا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ فخر نے دل کی گہرائی سے ہیڈماسٹرصاحب کا شکریہ اداکیا کہ انہوں نے اسے ڈانٹنے یا مارنے کے بجائے اس کی اصلاح کی اورآج کی اس کامیابی کاذریعہ بنے۔

Your Thoughts and Comments