وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم پر دباؤ بڑھنے لگا

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا ایک گروپ پنجاب اور وفاق میں گڈ گورننس کی کمی کے باعث حکومتی سطح پر تبدیلیاں کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان پر دباؤ ڈال رہا ہے، قومی اخبار کا دعویٰ

Shehryar Abbasi شہریار عباسی بدھ اکتوبر 00:41

وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم پر دباؤ بڑھنے لگا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2020ء) پی ٹی آئی کا ایک گروپ وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا ایک گروپ پنجاب اور وفاق میں گڈ گورننس کی کمی کے باعث حکومتی سطح پر تبدیلیاں کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان پر دباؤ ڈال رہا ہے ۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی گورننس کی خراب کارکردگی اور بالخصوص پنجاب میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا ایک دھڑا عمران خان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو عہدے سے ہٹا کر کسی تگڑے بندے کو صوبے کی وزرت اعلیٰ سونپیں۔ رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے جاری حکومت مخالف تحریک چلنے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے بہتر جواب نہ دیے جانے کے باعث پی ٹی آئی کے اندر دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

(جاری ہے)

پی ٹی آئی کے اراکین چاہتے ہیں کہ پنجاب اور وزیر داخلہ کو تبدیل کیاجائے اور ان کی جگہ ایسے لوگ لائے جائیں جو اپوزیشن کی اس تحریک کا مقابلہ کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے سینیئر لیڈر نے بتایا کہ حکومت اس وقت سب سے بڑا گڈ گورننس کی کمی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کا ایک گروپ وزیراعظم پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ سردار عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کے اندرونی سروے کی رپورٹ کے مطابق بھی پارٹی کی کثیر تعداد پنجاب حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے۔ سینیئر تجزیہ کار طاہر ملک نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک پی ڈی ایم کا اس وقت سب سے زیادہ اثر پنجاب میں ہے، اور پنجاب میں اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ اس صورتحال میں پنجاب میں ایک ناکام وزیرعلیٰ کا ہونا، حکومت کے لیے کسی طور فائدے میں نہیں ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments