وزیراعظم عمران خان کا روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ

روسی صدر پہلے مغربی رہنما ہیں جنہوں نے پیارے نبی ﷺ کیلئے مسلمانوں کے جذبات کیلئے ہمدردی اور حساسیت کا مظاہرہ کیا‘ پرزور بیان پر ان کی تعریف کی‘ ایک دوسرے کو اپنے ممالک کے دورے کی بھی دعوت دی۔ وزیراعطم کا ٹویٹ

Sajid Ali ساجد علی پیر 17 جنوری 2022 14:50

وزیراعظم عمران خان کا روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 17 جنوری 2022ء ) وزیراعظم عمران خان نے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں وزیراعطم عمران خان نے بتایا کہ روسی صدر پیوٹن سے بات چیت میں ان کے پرزور بیان کے لیے میری طرف سے تعریف کا اظہار کیا گیا ، وہ پہلے مغربی رہنما ہیں جنہوں نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسلمانوں کے جذبات کے لیے ہمدردی اور حساسیت کا مظاہرہ کیا کیوں کہ آزادی اظہار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کا بہانہ نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دیگر باہمی فائدہ مند تعاون پر آگے بڑھنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ، اس کے علاوہ ہم نے ایک دوسرے کو اپنے ممالک کے دورے کی بھی دعوت دی۔

(جاری ہے)

 

 
واضح رہے کہ اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں روسی صدر ولادی میر پوٹن نے حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور پھر اس شرمناک عمل کو اظہار رائے کی آزادی کہنے والوں پر تنقید کی تھی اور کہا کہ پیغمبر محمدﷺ کی توہین مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ ان لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے جو اسلام کے ماننے والے ہیں۔

انہوں نے پیرس میں چارلی ہیبڈو میگزین کے ادارتی دفتر پر ہونے والے حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا ایسی باتیں انتہا پسندانہ سوچ میں اضافہ کرتی ہیں ، مذہب مخالفت اقدامات انتہا پسندانہ کارروائیوں کو جنم دیتے ہیں، فنکارانہ آزادی ‏ہونی چاہیے لیکن اس کی اپنی حدود ہیں ۔ اس دوران روسی صدر نے ان ویب سائٹس پر بھی تنقید کی جن پر دوسری عالمی جنگ میں مرنے والے روسیوں اور نازیوں کی تصاویر پوسٹ کی جاتی ہیں ، ولادی میر پوٹن کا کہنا تھا کہ ایسی حرکات انتہاپسندی میں اضافہ کرتی ہیں ، ان کا ملک روس ایک کثیر النسلی اور کثیرالمذہبی ملک کے طور پر ابھرا ہے، اس لیے روسی ایک دوسرے کی روایات کا احترام کرتے ہیں، لیکن کئی ممالک میں ایسا احترام کم ہی پایا جاتا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments