وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے حقوقِ پاکستان ہیومن رائٹس ٹریننگ پروگرا م کا افتتاح کردیا گیا

60سیشن ججزکوسند ھ جو ڈیشل اکیڈ می میں انسانی حقوق سے متعلق تربیت دی جائیگی

جمعہ ستمبر 19:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے حقوقِ پاکستان ہیومن رائٹس ٹریننگ پروگرا م کا افتتاح کر دیاگیا۔60سیشن ججزکوسند ھ جو ڈیشل اکیڈ می میں انسانی حقوق سے متعلق تربیت دی جائیگی ۔پاکستان کے آئین کے مطابق ججوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ موثر نظامِ انصاف کیلئے تمام اہم حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کروائیں۔

جو انسانی حقوق ،صنف اور قانون سے متعلق تین روزہ تربیتی کورس میں حصہ لینے کیلئے جمع ہوئے تھے۔ سندھ جوڈیشل اکیڈمی (ایس جے ای) میںمنعقدہ اس تربیت کو 3 سال کی مدت پرمبنی وزارتِ انسانی حقوق کی زیرقیادت شروع کیاگیا اوراس سلسلے میںیورپین یونین (EU) نے وفاقی اور صوبائی انسانی حقوق کے اداروںکو حقوق پاکستان کی تربیت اور صلاحیت سازی پروگرام کیلئے مالی اعانت فراہم کی۔

(جاری ہے)

وزارت انسانی حقوق نے حقوق پاکستان پروگرام (ایچ پی) کے توسط سے رواں سال جنوری میںپاکستان میںانسانی حقوق کے فروغ کیلئے یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ اقدام کاآغازکیا۔ اپریل 2019میں قومی اور بین القوامی انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی تربیت کے مقصد کے پیشِ نظر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے تھے۔ جس پر وزارتِ انسانی حقوق کی سیکریٹری رابعہ جویری آغا نے وزارت کی جانب سے دستخط کئے جبکہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ،جسٹس عارف حسین خلجی نے سندھ جوڈیشل اکیڈمی کی نمائندگی کی جو سندھ کی30 ڈسٹرکٹ ججوں کے پہلے بیج سے خطاب کر رہے تھے۔

حقوق پاکستان پروگرام کی تربیت کا مقصد قانون کے دائرے میں موثر اندازمیںاپنے فرائض کی انجام دہی اور خصوصی سیاق و سباق سے متعلق فرائض کی انجام دہی کے علاوہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین میںججوں، پولیس اور استغاثہ کے محکموںاور مجموعی طو ر پرملک کے فوجداری نظام کو در پیش انسانی حقوق کے چیلنجزسے واقفیت اوران سے نمٹنے کیلئے تربیت کرناہے۔

ٹریننگ ایند کیپیسٹی بلڈنگ کے ماہر علی دایان حسن نے کہاکہ وزارت ِانسانی حقوق بہتراورتیزرفتارعدالتی نظام کی اہمیت کاعلم رکھتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ'' حقیقی انصاف صرف ایک ماہر،قابل اورباخبرعدلیہ ہی فراہم کرسکتی ہے، لہٰذاانسانی حقوق میںعدالتی تعلیم کوجاری رکھناججوں کی آزادی کیلئے ایک اہم حصہ سمجھاجائیگا۔''سیشن ججزکیلئے یہ اپنی نوعیت کاپہلاتربیتی کورس ہے۔

اس تربیتی پروگرام کا مقصد تمام صوبوںکے جرائم کے نظامِ انصاف سے متعلق افراد کوانسانی حقوق کے معیار اور حفاظتی اقدامات سے متعلق حساس بنانا اور تربیت دیناہے۔ انسانی حقوق سے متعلق ایچ ای پی کے سینئرماہرِانسانی حقوق، لیگل ایڈسوسائٹی (ایل اے ایس) کے ماہرین نے انسانی حقوق کے قانون سے متعلق موضوعات کے ساتھ ساتھ ''پرنسپل ا ٓف پالیسی''، ''پریسیڈنٹس آن فنڈامینٹل رائٹس''، ''کیس منیجمنٹ'' ججمنٹ رائٹنگ''،'' وغیرہ کی تربیت دی۔

سندھ جوڈیشل اکیڈمی کا مقصد بھی مستقبل میںسندھ کے جونیئر اور سینئرججوںکیلئے تربیتی سیشنزمیںتربیت اور صلاحیت سازی سے سیکھنے کے عمل کوممکن بنانا ہے۔لیگل ایڈ سوسائٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حیا زاہد نے کہا کہ" گو کہ ججوں کیلئے کیسز کا انبار لگا ہوا ہے ،تاہم انھیں روزانہ کی بنیاد پر انصاف کی فراہمی اور لوگوں کو در پیش مشکلات کے بارے میں یاد دہانی کروائی جاتی رہتی ہے۔

تربیتی کورس بھی اسی نکتے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا کہ ججوں کے ساتھ نچلی سطح پرتجربات کا تبادلہ کیا جائے اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں کو در پیش عدالتی چیلنجوں کو کم کرنے کیلئے رہنمائی اور مدد مل سکے۔"اس موقع پرای یو ڈی کے پہلے سیکریٹری انجورک زورن نے کہا کہ انصاف اور انسانی حقوق یورپین یونین کا مرکز ہیں اور اس سلسلے میں وزارتِ انسانی حقوق کی معاونت کرتے ہوئے ہمیں نہایت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments