چین کے معاشی عروج پر پیپلز بینک آف چائنا کے کردار سے اسباق پر 23 واں زاہد حسین یادگاری لیکچرکا انعقاد

جمعہ اپریل 23:49

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اپریل2019ء) بینک دولت پاکستان نے تیئسواں زاہد حسین یادگاری لیکچر 19 اپریل 2019 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کراچی میں منعقد کیا ۔ پیپلز بینک آف چائنا کے سابق گورنر زو زیاچوان نے چین کے معاشی عروج پر پیپلز بینک آف چائنا کے کردار سے اسباق کے عنوان پر لیکچر دیا۔اپنے لیکچر میں مسٹر زو نے بتایا کہ پیپلز بینک آف چائنا کی اصلاحات پائیدار معاشی ترقی کے لیے عالمگیریت کی جانب چین کے تدریجی طریقہ کار کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بڑے پیمانے پر ابتری پیدا کیے بغیر مارکیٹ کی قوتوں کے وسیع تر کردار کی خاطر شرح مبادلہ، زری اور سرمایہ کھاتے کے نظام کی بتدریج آزاد کاری ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بارے میں بھی تفصیل سے بتایا کہ پیپلز بینک آف چائنا نے شمولیتی نمو اور مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مالی وسائل کو پیداواری شعبوں میں استعمال کرنے کے لیے ترغیباتی ڈھانچے کیونکر فراہم کیے۔

(جاری ہے)

پاکستان کے حوالے سے مسٹر زو نے اس بات پر زور دیا کہ جاری خسارے اور مالیاتی خسارے سمیت بیشتر اقتصادی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے گھریلو بچت کی شرح بڑھانا ہوگی۔ نیز، انہوں نے خطے میں تجارت کو آسان بنانے کے لیے علاقائی کرنسیاں استعمال کرنے کی تجویز دی۔ واضح رہے کہ بینک دولت پاکستان اپنے پہلے گورنر جناب زاہد حسین (مرحوم) کی قوم کے لیے شاندار خدمات کی یاد منانے کے لیے کم و بیش ہر سال ایک لیکچر کا انعقاد کرتا ہے۔

دنیا بھر کے ممتاز ماہرین معیشت کو یہ لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔قبل ازیں، اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں مرکزی بینکوں کے کردار پر زور دیا۔انہوں نے ملک میں شمولیتی معاشی ترقی کے لیے اسٹیٹ بینک کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے اقتصادی نمو اور ملکی ترقی میں اسٹیٹ بینک کے قائدانہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے مالی شمولیت، زرعی اور ایس ایم ای فنانسنگ، مارگیج قرضوں، ماحول دوست بینکاری اور برقی طریقے سے ادائیگی کے سسٹمز کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا تذکرہ کیا۔

مرحوم زاہد حسین کے صاحبزادے جسٹس (ریٹائرڈ) ناصر اسلم زاہد اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔لیکچر میں اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں پالیسی ساز افراد، مالی شعبے کے ماہرین، غیر جانبدار محققین، سرکاری حکام، کمرشل بینکوں کے سربراہان، نمایاں کاروباری شخصیات، اور اہلِ دانش اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments