جعلی حکیموں نے شعبہ طب کو نقصان پہنچایا،طب یونانی ایک بہترین طریقہ علاج ہے،جس کی اہمیت مسلمہ ہے، دنیا نے حکمت سے ایلوپیتھک طریقہ علاج دریافت کر لیا ، لیکن افسوس ہم نے شعبہ طب یونانی کا نام زندہ رکھنے کی بجائے اس کو کھو دیا

صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن سید علی رضا گیلانی کاجناح یونانی میڈیکل کالج کے سالانہ کانوکیشن میں خطاب

اتوار جنوری 17:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء) صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن سید علی رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جعلی حکیموں نے شعبہ طب کو نقصان پہنچایا ہے۔ طب یونانی ایک بہترین طریقہ علاج ہے۔ جس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ دنیا نے حکمت سے ایلوپیتھک طریقہ علاج دریافت کر لیا ہے۔ لیکن افسوس ہم نے شعبہ طب یونانی کا نام زندہ رکھنے کی بجائے اس کو کھو دیا۔

وہ اتوار کو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر میں نیشنل کونسل فار طب کے زیر اہتمام جناح یونانی میڈیکل کالج کے سالانہ کانوکیشن میں خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد، پنجاب اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئر پرسن برائے خصوصی تعلیم عافیہ آفتاب، کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی، اشرف لیبارٹریز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد اشرف، نیشنل کونسل فار طب کے صدر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری، نیشنل کونسل فار طب کے نائب صدر حکیم وید محمد جمیل خان، نیشنل کونسل فار طب کی امتحانی کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی، پاکستان طبی کانفرنس کے سیکریٹری جنرل پروفیسر حکیم منصور العزیز، نیشنل کونسل فار طب کی آبزرور کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر حکیم محمد یوسف ، پروفیسر حکیم سجاد زخمی، حکیم وسیم احمد قاسمی، حکیم اختر نوازاور حکیم محمد افضل میو سمیت حکماء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن سید علی رضا گیلانی نے مزید کہا کہ اصل میں طب کے وارث حکماء ہیں۔ جنہوں نے سالہا سال سے اس شعبہ کو سنبھالا دیا اور سب کی امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اس موقع پر مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد نے کہا کہ13سو سال سے طب کو موجودہ سسٹم کے ساتھ لیکر چل رہے ہیں۔ شعبہ طب کے حاملین کے تمام جائز مطالبات کو حکومت تسلیم کرے گی۔

یونانی ادویہ ساز اداروں کے خلاف حالیہ کریک ڈائون کے حوالے سے مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کریک ڈائون درحقیقت جعلی دوا سازوں کے خلاف ہے۔ دیانت داری سے اس مسئلہ کو حل کر لیا جائے گا۔ شعبہ طب کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکیموں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔آخر میں شعبہ طب میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے حکماء کو شیلڈز ، ایوارڈز اور گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments