ہزارہ یموکریٹک پارٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ملک بھر کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے دعوؤں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار د یا ایک طرف ملک بھر میں سکول میں نعرہ لگا کر مفت تعلیم کی فراہمی کے دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف بیوروکریسی اور افسر شاہی ان دعوؤں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے غریب و نادار بچوں کیلئے تعلیم کے حصول کو نا ممکن بنا دیتا ہے،بیان

اتوار اپریل 20:45

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اپریل2019ء) ہزارہ یموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور وزارت تعلیم کی طرف سے ملک بھر کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے دعوؤں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک بھر میں سکول میں نعرہ لگا کر مفت تعلیم کی فراہمی کے دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف بیوروکریسی اور افسر شاہی ان دعوؤں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے غریب و نادار بچوں کیلئے تعلیم کے حصول کو نا ممکن بنا دیتا ہے۔

بیان میں کہا گیاکہ اس وقت میٹرک کے طلباء کے رجسٹریشن کا مسئلہ طالبعلموں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ بورڈ حکام نے میٹرک کی رجسٹریشن کیلئے ب فارم کی شرط کو لازمی قرار دیدیا ہے جبکہ صوبے میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے خاندان موجود ہے جنہوں نے ابھی تک اپنے بچوں کیلئے ب فارم نہیں بنا رکھا ہے۔

(جاری ہے)

بورڈ حکام پیدائشی سرٹیفیکیٹ کو بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں، ب فارم کی شرط کی وجہ سے ہزاروں ناخواندہ خاندانوں کے بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے جو انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر وفاقی و صوبائی حکومتیں تعلیم عام کرنے کے وعدے کے سلسلے میں مخلص ہے تو انہیں طالبعلموں کیلئے حالات کو سازگار بنانے کے سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے ہونگے صرف سیاسی بیانات اور پوائنٹ اسکورنگ سے نہ صرف عوام کے مسائل میں اضافہ ہوگابلکہ ان اقدامات کی وجہ سے طالبعلموں میں مایوسی اور تعلیم سے دوری کے رجحانات پیدا ہونگے جسکا نقصان ملک صوبہ اور تمام معاشروں کوپہنچے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم کی غیر سنجیدگی کیوجہ سے صوبے کے کئی اضلاع بالخصوص کوئٹہ شہر کے سرکاری تعلیمی اداروں کے طالبعلموں کو مختلف جماعتوں کے تدریسی کتب فراہم نہیں کی جا سکی ہے جبکہ اس وقت پہلی سہ ماہی امتحانات ہونے کے قریب ہے۔ صوبائی حکومت تدریسی عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے سرخ فتنے کیخلاف کاروائی کر کے تعلیمی تسلسل کے اجراء کے عمل میں اپنا کرداد ادا کریں تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ سکیں۔

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments