ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ سے صوبہ جنگلستان کا منظر پیش کررہا ہے ،مولاناعبدالقادر لونی

عوام بے چینی کی کیفیت سے دوچار ہے خوف اور بدامنی کے واردات سے زندگی مشکل تر بنادی گئی ہے ، مرکزی سینئر نائب امیر جے یو آئی نظریاتی

جمعہ 3 دسمبر 2021 00:15

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 دسمبر2021ء) جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سینئر نائب امیر مولاناعبدالقادر لونی نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ سے صوبہ جنگلستان کا منظر پیش کررہا ہے عوام بے چینی کی کیفیت سے دوچار ہے خوف اور بدامنی کے واردات سے زندگی مشکل تر بنادی گئی ہے دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات معمول بن گئے ہیں مگر صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی دن دیہاڑے لوگ اغواء ہوتے ہیں مال نہ دینے کی پاداش میں بیدردی سے قتل ہوتے ہیںاغواء کاری، قتل وغارت اس صوبے کا پہچان بن چکا ہے انہوں نے کہاکہ صوبے میں بدامنی کے واقعات اور عدم گرفتاری قانون نافذ کرنے والے ایک درجن سے زائداداروں کی موجودگی اورحکومتی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے عوام کے جان ومال کی تحفظ حکومت کی اولین زمہ داری بنتی ہے امن وامان کے قیام کیلئے حکومت تمام وسائل کو بروئے کارلایا جائے انہوں نے کہا کہ قتل اور وحشت ناک واقعات سے صوبے کے پر امن حالات کو خراب کرکے عوام پر خوف وہراس اور وحشت مسلط کرکے انہیں پرامن زندگی گزارنے سے محروم کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ تمام ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید قانون کا راگ نہ الاپے ملک کو مزید جنگلستان نہ بننے دو۔

صوبہ میں بدامنی کی اٹھنے والی چنگاری کسی بھی وقت شعلہ بن کر سب کچھ راکھ کردیگی۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت مجرموں پر گھیرا تنگ کرے اور عوام کی تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>