سکینڈلز سے شہرت حاصل نہیں کرتا

سکینڈلزمیں گھرے ہمایوں سعید کہتے ہیں کہ سستے سہارے کسی فنکار کے لئے سود مند نہیں چنانچہ اس لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتا

منگل ستمبر

Scandel Sy Suhrat Hasil nahi Karta
ہمامیر حسن۔
دو دہائیوں سے ڈرامہ انڈسٹری میں راج کرنے والے ہمایوں سعید کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اداکاری کی تو شائقین کو اپنا گردہ کرلیا۔ ریمپ پر چلتے ہوئے بڑے بڑے ماڈلز کو مات دیدی ۔ڈائریکشن اور پروڈکشن میں قسمت آزمائی تو لوگوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔یہ مردانہ وجاہت اور اور چہرے کے تاثرات میں منفرد شخصیت کے مالک ہمایوں سعید آج شوبز کی دنیا میں ایک معروف نام ہیں۔

انہوں نے انڈسٹری میں لگاتار کامیابیوں کا سفر طے کیا۔فلم اور ڈرامہ پروڈکشنز کے ساتھ ساتھ اداکاری ان کا طرز امتیاز ہے۔ان کی آواز اور چال ڈھال انہیں ایک اچھوتا اداکار بنادیتی ہیں۔اداکار ہمایوں سعید 27 جولائی 1971کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کامرس میں گریجویشن کیا شوبز کی دنیا میں آنے سے پہلے وہ ایک گامنٹس فیکٹری میں پروڈکشن مینجر تھے۔

(جاری ہے)

نوے کی دہای میں ہمایوں نے اپنے کیریر کا آغاز ٹیلی وژن پر بطور پروڈیوسر کیا تھا۔تاہم جلد ہی پروڈیوسر اور ڈائریکٹرز کی جہاں دیدنگاہوں نے ہمایوں سعید کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں بطور اداکارڈرامہ کی دنیامیں لے آئے ۔ 1996 ٹیلی کاسٹ ہونے والے ڈرامے ”یہ جہاں“سے انہوں نے اپنی اداکاری کی شروعات کی تھی۔اسی برس مہرین جبار کے ڈرامے”اب تم جاسکتے ہوں“میں اداکاری پر ہمایوں سعید کو بہترین اداکاری کا ایوارڈ دیا گیا۔

اس ڈرامے میں انہوں نے ثانیہ سعید اور خالدہ ریاست کے مقابل مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ہمایوں سعید کے معروف ڈراموں میں چاندنی راتیں،عشق کی انتہا،مہندی،محبت روٹھ جائے تو،اَنا،ریاست،کافر،دوراہا،یہ زندگی ہے،اڑان،اور دل لگی شامل ہے۔انہوں نے 1999 میں فلم ”انتہا“کے ذریعے قسمت آزمائی،جس پر کامیابی کے بعد انہوں نے بھارتی فلم ”جشن“میں بھی کام کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ذاتی پروڈکشن ہاؤس کے تحت فلم بنانے کا فیصلہ کیا اور” میں ہوں شاہد آفریدی“جیسی کامیابی فلم بناکر داد سمیٹی۔اس کے بعد انہوں نے فلم ”بن روئے“بنائی جسے بھارتی تشہیر کمپنی کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں ریلیز کیا گیا۔ان کی فلم”جوانی پھر نہیں آنی“ نے کامیابی کے نئے ریکارڈ بنائے۔حال ہی میں وہ فلم”یلغار“ میں ولن کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔

اور اپنی ایک نئی فلم” پنجاب نہیں جاؤں گئی“میں جلوہ افروز ہوچکے ہیں۔
سوال:کبھی سوچا تھا کامرس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اداکار بن جائیں گے؟
ہمایوں سعید:نہیں ایسا تو خیال بھی نہیں آیا تھا۔میں تو بہت کم گو اور شرمیلا سا انسان ہوں، اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے ایک عام انسان کی طرح نوکری کے لیے بھاگ دوڑ کی اور ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازم ہوگیا۔

مجھے یاد نہین کہ یہاں سے میں کیسے ایک پروڈکشن ہاؤس پہنچا،وہاں کسی نے مجھے اداکاری کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے ہاں کہہ دی اور آج آپ کے سامنے ایک اداکارکی حیثیت سے موجود ہوں لیکن اس ساتھ ساتھ میرا پروڈکشنز کے حوالے سے بھی میرا کام جاری رہا۔
سوال:پہلی بار کیمرے کا سامنا کرتے ہوئے کیا احساسات تھے؟
ہمایوں سعید:یہ ایک دلچسپ اور مشکل مرحلہ تھا۔

میں بہت نروس ہو جاتا تھا۔آغاز میں اپنے مکالمے بھول جاتا تھا۔کئی بار ری ٹیک ہوتے اور بہت مشکل سے سین ’(اوکے“ہوتالیکن جب پہلے ہی ڈرامے پر مجھے ایوارڈ ملا تو میں نے اپنی جھجک کو ایک طرف رکھ کر اداکاری کے لئے کمر کس لی، اس کے بعد کبھی ری ٹیک نہیں ہوا۔
سوال:آپ کے خیال میں ایک اداکار کو کن سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے؟
ہمایوں سعید:اداکار کا کام ہی اس کا واحد سہارا ہے،اگر وہ ایک اچھا کام کررہا ہے تو لازمی بات ہے کہ لوگ اسے پسند کریں گے۔

سستے سہارے کسی بھی فن کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوتے چاہے کوئی سکینڈل ہو یا کوئی من گھڑت کہانیاں۔البتہ ہر اداکار ایک اچھے سکرپٹ اور ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔بڑے سے بڑا اداکار بھی زندہ نہیں رہ پاتا جب تک اس کے کام میں جان نہ ہو۔
سوال:آپ کی ہوم پروڈکشنز نے فلم انڈسٹری کی استحکام دیا،انڈسٹری کی بحالی کے لئے مزید کیا پروگرام ہے؟
ہمایوں سعید:فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے ہم سب کو اتفاق سے کام کرنا ہوگا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسرز فلموں میں کافی سرمایہ کاری کررہے ہیں اور فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے ہماری جدوجہد رنگ لارہی ہیں۔ہم نے اس وقت فلم میں سرمایہ کاری کی جب پروفیشنل فلمساز رسک لینے کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔یہ ہمارے لئے ایک چیلنج تھا،فلم انڈسٹری کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا کسی فرد واحد کا کام نہیں۔ اس لئے ہم سب کو باہمی اتفاق اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔

نئے لوگ کے ساتھ سینئر پروڈیوسر اور فلم ڈائریکٹر کو بھی چاہے کہ وہ بھی آگے بڑھیں اور اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
سوال:ڈراموں کی بولڈ کہانیاں اب باعث تنقید بن رہی ہیں،اس حوالے کے کیا کہیں گے؟
ہمایوں سعید:میں اس حقیقت کو مانتا ہوں کہ ڈرامے کا ایک سنہری دور تھا تب ایک ہی چینل پی ٹی وی تھا،آج مقابلے کا دور ہے۔

ماضی میں کب تک زندہ رہا جاسکتا ہے؟ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے فن کے نئے زاوئیے سوچنا ہوں گا۔ہمارے ڈرامے جیسے بھی ہوں ہمیں ان پر فخر ہے،جو لوگ ہماری ٹی وی انڈسٹری کے خلاف باتیں کررہے ہیں انھیں اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔پاکستانی ڈرامہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے،یہ کہنا کہ کچھ عرصہ سے ہمارا ڈرامہ زوال پذیر ہے درست نہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ہم نے بھارتی ڈراموں کے سحرکو ختم کیا اور اسی طرح بھارتی فلموں کا سحر بھی ختم کرکے دم لیں گے۔
سوال:ڈراموں میں خواتین کو بہت ہی مظلوم دکھایا جاتا ہے ایسا کیوں؟
ہمایوں سعید:بھئی پروڈیوسرز خواتین کو رولانا پسند ہی نہیں کرتے خواتین خود اپنے آپ کو مظلوم سمجھتی ہیں اور وہی دیکھنا پسند کرتی ہیں۔

میرے نزدیک دنیامیں سب سے آسان کام مظلوم بننا اور ہمدردی سمیٹنا ہے ۔ہمارے معاشرے کی کئی خواتین سمجھتی ہیں۔کہ ان پر دکھ کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہوتا جیسے میرے ڈراموں میں خواتین منفرد کرداروں میں نظر آتی ہیں۔کہیں وہ ظلم سہتی ہیں تو کہی ڈٹ کر مقابلہ کرتی دکھائی دیتی ہیں،ڈرامے معاشرے کا عکس ہیں،ہم وہی دکھاتے ہیں جو معاشرے میں ہوتا ہیں،میرا خیال ہے کچھ عرصہ بعد خواتین کے رونے دھونے والے ڈرامے بھی قصہ ماضی بن جائیں گے۔


سوال:آپ نے اب تک متعد ڈراموں اور فلموں میں کام کیا پسندیدہ پراجیکٹ کون سا رہا؟
ہمایوں سعید:مجھے ذاتی طور پر جوانی پھر نہیں آنی اور بن روئے بہت پسندہے ،ڈراموں میں مجھے ”اب تم جاسکتے ہو“بہت پسند تھا۔اس کی دو وجوہات ہیں میں نے اس ڈرامے میں معروف اداکارہ خالد ہ ریاست مرحومہ کے ساتھ کام کیا تھا ،اسی ڈرامے پر مجھے پہلے بار بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا تھا۔


سوال:کوئی ایسا کردار جو آپ کرنا چاہتے ہوں؟
گورمے خواتین میگزین کو بتاتے ہوئے ہمایوں سعید نے کہا کہ بہت سارے ایسے کردار ہیں جن کے بارے میں سوچتا ہوں ۔کسی پروفیسر یا سکول ٹیچر کا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ایک اندھے کا یا پھر بھٹہ مزدور کا کردار۔۔۔۔۔یہ سب کردار ادا کرنا مجھے پسند ہیں کیونکہ میں نے ان کی زندگی کا بہت مشابہت مشاہدہ کر رکھا ہے۔


سوال:کامیاب ڈرامہ آرٹسٹ،فلم اور پھر پروڈکشنز۔۔۔آخر آپ نے کامیابیوں کے لئے کون سا فارمولا اپنایا۔
ہمایوں سعید:(ہنستے ہوئے)دراصل میں نے کبھی تنقید کرنے والوں کی پروا نہیں کی،اگر میں مخالفین کی باتوں پر دھیان دیتا تو آج اتنی کامیابیوں سے ہمکنار نہ ہوتا۔قسمت مجھ پر شروع سے مہربان رہی ہے،اس لئے میں نے جہاں قدم رکھا مجھے پسند کیا گیا۔

فلم ”میں شاہد آفریدی ہوں“ کا کامیابی کے بعد شکر ہے کہ میری دو فلمیں بن روئے اور جوانی پھر نہیں آنی،نے بھی کامیابی کے ریکارڈ قائم کئے۔میرا خیال ہے انڈسٹری میں اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر کچھ کرکے دکھانا سب کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
سوال:آپ کا کوئی بھی نیا ڈرامہ یا فلم آنے سے پہلے ساتھی اداکارہ کے ساتھ افئیر پبلک سٹنٹ ہوتا ہے یا حقیقاً آپ دل پھینک انسان ہیں؟
ہمایوں سعید:(ہنستے ہوئے) اس بات میں بالکل سچائی بھی نہیں،دراصل میری اداکاری حقیقت کے اتنا قریب ہوتی ہیں کہ لوگوں کو اصل گماں ہوتا ہے۔

افئیرز کی خبروں سے مجھے اپنے پراجیکٹس کی تشہیر کرنی نہیں آتی،نجانے میڈیا والے کہاں سے کہانی گھڑلیتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جبکہ ایسی باتوں سے سٹار کی ذاتی زندگی پر بھی فرق پڑسکتا ہے۔سٹارز پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں،تاہم شائقین کو ان کی ذاتی زندگی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
سوال:ذاتی زندگی کی بات ہورہی ہے تو کچھ اپنی نجی زندگی کے بارئے میں بتائیں؟
ہمایوں سعید:میری شریک حیات کا نام ثمینہ ہمایوں سعید ہے،وہ پروڈکشن میں میرا ساتھ دیتی ہیں۔

میں ایک خوشحال اور مطمن زندگی گزاررہا ہوں۔میری اہلیہ میرے ڈرامے اور فلمیں بہت شوق سے دیکھتی ہیں۔بس یہی میری زندگی ہے۔
سوال:آپ انڈسٹری کے سدا بہار اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں، آپ کی فٹنس کا کیا راز ہے؟
ہمایوں سعید:(ہنستے ہوئے)دراصل میں اپنے وزن پر نظر اور غذا میں توازن رکھتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ جوانی سدا نہیں رہتی مگر صحت کا خیال رکھا جائے تو فٹنس برقرار رکھی جاسکتی ہیں۔

میں ہلکی پھلکی ورزش کے ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرتا ہوں اور اگر آپ دن میں دس سے بارہ گلاس پانی پیے تو چہرے پے رونق آجاتی ہے اور جھڑیاں بھی نہیں پڑتیں۔میں مانتا ہوں کہ زندگی رو کر بھی گزرنی ہے اور ہس کر بھی گزرنی ہیں تو کیوں نہ زندگی کو خوشگوار انداز میں گزاراجائے۔
سوال:کیا آپ خوبصورتی برقرار رکھنے کے لئے سرجری پر یقین نہیں رکھتے؟
ہمایوں سعید:(مسکراتے ہوئے)میں سمجھتا ہوں سرجری کرانے میں کوئی حرج نہیں تاہم جب میں سوچتا ہوں کہ سرجری سے اپنی خوبصورتی بڑھالی جائے تو مجھے فوراًسرجری کے سائیڈافیکٹس ذہن میں آجاتے ہیں کیونکہ میں نے بعض اداکاروں کے سرجری کے بعد بہت برے حالات دیکھے ہیں۔

اکثر اداکار سرجری کے بعد چہرے پر وہ قدرتی تاثرات ہی نہیں لاپاتے جو اچھی اداکاری کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
سوال:آپ کے دیگر مشاغل کیا ہیں؟
ہمایوں سعید:میں آپنی فارغ زندگی میں بھی اپنے فن کے بارے میں ہی سوچ بچار کرتا ہوں۔مجھے مختلف النوع کام کرنا ہوتے ہیں۔اداکاری کے علاوہ کچھ پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ کام کرتا ہوں۔

ان کا پارٹنر ہوں اور اس سے قدم ملانے کے لئے بہت جدوجہد کرنا پڑتی ہیں۔
سوال:آپ ایک اچھا سکرپٹ کسے کہتے ہیں؟
ہمایوں سعید:میرے نزدیک اچھا سکرپٹ وہ ہے جس میں معاشرے کے مجموعی حالات کی عکاسی اور ترجمانی ہو۔ہمیں اب طوطا میناکی کہانی کی ضرورت نہیں ،ڈرامے کا کینوس بہت وسیع ہوچکا ہے ہمیں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں کام کرنے کی ضرورت ہیں،وگرنہ ہمارا ڈرامہ بھیڑ چال کا شکار ہوجائے گا۔

ہمیں نئے رائٹرز کی بھی ضرورت ہے اور ایسے پراجیکٹ بھی ڈیزائن ہونے چاہیں جو حقیقی کہانیوں پر ڈرامے بنائیں۔
سوال:اگر آپ کو کسی غیر ملکی پراجیکٹ کی آفر ملے تو قبول کریں گے؟
ہمایوں سعید
:شاید میرے لیے ایسا ممکن نہ ہو لیکن اگر پاکستان کے ساتھ کوئی مشترکہ پروڈکشن ہو تو میں اس کے لیے کام کرسکتا ہوں۔

میرے لئے تو یہاں بھی کرنے کے لئے بہت کام ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ پالیسی میں توازن ہونا چاہیے۔کسی بھی پاکستانی اداکار کو بالی ووڈ سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ،کیا یہ ضروری ہے کہ میں کسی انڈین فلم میں کام کروں اور اس کے بعد خود کو اداکار منواؤں؟ اسی طرح اگر انڈین فلموں کی نمائش پاکستان میں ہوتی ہیں تو پاکستانی فلموں کی نمائش بھی انڈیا میں ہونی چاہیے۔


سوال:ایک فنکار کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہیں؟
ہمایوں سعید:ایک فنکار ہمیشہ کامیابیوں کو دیکھتا ہے اور کچھ نیا کرنے کی خواہش رکھتا ہے کیونکہ وہ جس دنیا میں زندگی بسر کررہا ہوتا ہے وہاں یہی سب چاہیے ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اداکاروں کو اپنی کارکردگی پرخود تنقیدی نظر رکھنی چاہیے۔اپنے ملک اور اپنے اصول و ضوابط کی ھد تک میں بھی بہت متعصب ہوں کیونکہ میں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔

یہ کبھی نہ بھولیں کہ ہم فنکار ہونے سے پہلے پاکستانی ہیں۔
سوال:پاکستان اور بالی ووڈ کے کس فنکار کاکام پسند ہے؟
ہمایوں سعید:ثانیہ سعید ،نعمان،اعجاز،اور مرحومہ خالدہ ریاست بہت بڑے فنکار ہیں ان کے فن کی تعریف دولفظوں میں ممکن نہیں۔انڈیا میں بھی بہت اچھے اداکار ہیں جو انڈسٹری کو سہارا دئیے ہوئے ہیں تاہم میں کسی ایک کا نام نہیں لے سکتا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments