فوادخان

اس کی جانب اگر دیکھو تو سنبھل کر دیکھو سحر انگیز شخصیت کا جادُو

پیر اکتوبر

Fawad Khan
عنبرین فاطمہ:
پاکستانی ڈرامے ہمیشہ سے تفریح کا ایک بہترین ذریعہ سمجھے جاتے رہے ہیں ایک وقت تھا جب کسی کے گھر میں ٹی وی ہونا بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی عموماََ لوگ شام کو آٹھ بجے اُس گھر میں جمع ہوجاتے جس میں ٹی وی ہوتا یوں سب مل کر ڈرامہ دیکھا کرتے ۔ ان ڈراموں نے ملک کو بہت بڑے بڑے فنکار دیئے ہیں۔ ہمارے ڈراموں کی مقبولیت پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی بہت زیادہ تھی انہی ڈراموں کو دیکھ کر وہ ہمارے آرٹسٹوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے مختلف وقتوں میں ہمارے مختلف فنکاروں کو بھارت میں کام کرنے کی پیشکش کی۔

وہ الگ بات ہے کہ کس فنکار نے ان پیشکشوں کو قبول کیا اور کس نے نہیں یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔فواد خان کو بھی ڈراموں سے ہی شہرت حاصل ہوئی انڈیا کے معروف اداکار عامر خان نے اپنے ایک انٹر ویو کے دوران کہا تھا کہ میرے گھر میں مجھ سمیت میرے والدین عمر شریف کا ڈرامہ ”بکرا قسطوں پر“ کی سی ڈیز منگوا کر دیکھا کرتے تھے،بات کریں ہم فواد خان کے کیرئیر کے شروعات کی تو شائد بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اداکاری سے زیادہ انہیں گلوکاری کا جنون تھا گلوکار بنتے بنتے اداکا ر بن بیٹھے۔

(جاری ہے)

فواد خان نے ”ای پی“ میوزیکل سے اپنا میوزیکل کیرئیر شروع کیا انہیں گانے کا بے حد شوق تھا اس بینڈ میں ان کے علاوہ اور بھی لڑکے تھے فواد اپنے ڈبیو البم ارتکا کے لئے گایا بھی۔ کچھ عرصہ گانا گانے کا سلسلہ جاری رکھا اس کے بعد انہوں نے ماڈلنگ شروع کی تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری شروع کی ، داستان، زندگی گلزار ، ہمسفر، جیسے سپر ہٹ ڈراموں میں کام کیا۔

فواد خان کو شعیب منصور کے ساتھ کام کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے انہوں نے ”فلم خدا کے لئے“ میں ایک چھوٹا لیکن اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ان کی کامیابیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ چل نکلا جو کہ آج تک جاری وساری ہے۔ فواد خان اس وقت کمرشلز بھی کررہے ہیں۔ اور ان کا شمار سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے فنکاروں میں ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستانی اور بھارتی پروڈیوسرز اور ڈائریکٹر کی اولین چوائس فواد خان ہیں لیکن دونوں ملکوں میں حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے فواد فی الحال بھارتی فلموں میں کام کرنے کی پیشکش قبول نہیں کررہے۔

بھارتی فلم ”اے دل ہے مشکل“ کی ریلیز کے وقت دونوں ملکوں کے حالات کشیدہ تھے لہذا اس فلم کے ڈائریکٹر کرن جوہر پر فواد خان کو فلم سے نکالنے کے بہت زیادہ دباؤ تھا۔ لیکن کرن جوہر نے بھرپور سٹینڈ لیااور سلمان خان سمیت بہت سارے بالی ووڈ ستارے میدان میں آئے اور پاکستانی فنکاروں کی حمایت میں بولے۔ لیکن یہ حمایت بے جا نہیں تھی کیونکہ وہ پاکستانی فنکاروں کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ کس فنکار کی کتنی مارکیٹ ویلیو ہے۔

اس وقت بھارتی ہیروئنز کیا عام لڑکیاں بھی فواد خان پہ مرتی ہیں۔فواد نے جب سے کامیابی کا مزہ چکھا ہے وہ کم مگر معیاری کام کرنے کے فارمولا پر کاربند ہیں آج کل وہ جہاں بہت سارے کمرشلز اور ماڈلنگ کررہے ہیں وہیں بلال لاشاری کی فلم مولا جٹ کی شوٹنگ میں بھی مصروف ہیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments