شوبز میں کس کا افئیر نہیں رہا؟

اداکار سعود کہتے ہے جویریہ کو میرے متعلق کچھ خدشات تھے میں نے شادی سے پہلے انہیں اپنے بارے میں وضاحت دے دی تھی کہ اگر میرا کسی سے واقعی افئیر ہوتا تو میں آپ سے شادی نہ کرتا۔

پیر 20 نومبر 2017

ہما میر حسن :
جب فلموں کا سنہری زمانہ بیت گیا تو ایک ایسے دور کا آغاز ہوا جب ڈگمگاتی ہوئی فلمی صنعت کو بچانے کے لیے کچھ نئے فنکار اور فلم میکر مل کر آگے بڑھے۔شان،معمر رانا،افضل ریمبو،میرا،ریشم،صائمہ کو لیکر سنگیتا اور سید نور نے ایسی کامیاب فلمیں بنائیں کہ ویران ہوتے ہوئے سینما ہاؤسز آباد ہونے لگے لیکن ایک بار پھر چپ لگ گئی اور بڑی سکرین پر رنگ ماند پڑنے لگے۔

انہیں دونوں خوبرو اور رومانٹک انداز کے اداکاروں میں سر فہرست اداکار سعود بھی فلموں کا اہم حصہ سمجھے گئے۔اپنے قدو قامت اور شکل و صورت سے وہ کسی ہیرو کی مانند ہے۔انہوں نے بہت کم عرصے میں شہرت کی بلندیوں کو طے کیا،فلم اور ٹی وی پر یکساں انداز میں کام کیااور سب کو پسند ٹھہرے،اداکار سعود کاظمی ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے،25 دسمبر2006 کو انہوں نے اداکارہ جویریہ سے شادی کی،ان کی ایک بیٹی جنت اور بیٹا ابراہیم ہے،سعود کی اہم فلمو ں میں چور مچائے شور،ہوائیں،انصاف ہوتو ایسا،پل دو پل،یہ وعدہ رہا،سلاخیں،سسی پنوں،مجاجن اور عشق پازیٹو، شامل ہیں،سعود نے چند پنجابی فلموں بدمعاش گجر،چوہدرانی،اور پینگاں میں بھی کام کیا ہے جبکہ انہوں نے ٹی وی شو”عشق کی انتہا“کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے ہیں،سعود آج کل ذاتی پروڈکشن ہاؤس چلا رہے ہیں جس کے تحت بنائی جانے والی کامیاب ڈرامہ سیریل”یہ زندگی ہے“ کو بہت مقبولیت ملی۔

(جاری ہے)


سوال:آپ کا تعلق مذہبی گھرانے سے ہے،پھر فلموں میں کیسے آمد ہوئی؟
سعود:میرے ابو پاکستان کے پہلے قاری تھے جنہوں نے 13 اگست1947 کو ایک سرکاری تقریب میں تلاوت کی تھی انہوں نے اپنی زندگی میں پچپن سو مرتبہ قرآن پاک پڑھا جبکہ میری بہن مبینہ پہلی لڑکی ہیں جنہوں نے پورے پاکستان میں بہترین نعت خواں کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

ہمارے خاندان میں کسی کا بھی فلموں میں جانا بہت تعجب کا باعث ہوتا،میں نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں فلمی اداکار بنوں گا۔میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور میں نوکری کی تلاش میں آیا تھا فلمیں دیکھنے کا شوق تھا،میرا ٹی وی پر جانا ہوا تو میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا فلموں میں قسمت کیوں نہیں آزماتے،چنانچہ میں نے نیم دلی سے ہامی بھر لی۔

کسی کے توسط سے فلم”گناہ“کے پروڈیوسر سے ملاقات ہوئی انہوں نے میرا آڈیشن لیا اور مجھے فلم میں ایک رول مل گیا،یہ میرے کیرئیر کا آغاز تھا،فلم باکس آفس پر کامیاب ہوگئی اور میں اداکار بن گیا تاہم مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ شہرت کیا ہوتی ہے کہ مجھے مزید کام ملے گایا نہیں؟فلم کی کامیابی پر لوگ مجھے دو سال تک ڈھونڈتے رہے بہر حال میرے کام کا سلسلہ چل نکلا،مجھے یاد ہے کہ شروع میں مجھے ہیرو بننے سے زیادہ اس بات کی خوشی تھی کہ فلم و تھیٹر کے بہانے میں دنیا بھر کی فری سیر کرلوں گا۔


سوال:آپ کا مقابلہ کن اداکاروں سے تھا؟
سعود:جان ریمبو،شان،معمر رانا،اور لگ بھگ ایک ساتھ ہی فلموں میں آتے تھے،شان ہم سے پہلے مقبول تھے،ریمبو ٹی وی میں کام کررہے تھے جبکہ میں اور معمر رانا نو وارد تھے،ہم سب دوست ہیں،ہمارا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں ہوتا جو بہتر کام کرتا ہے اس کی ستائش ہوتی ہے۔اس وقت ہمارے فلم میکر بھی بہت اچھے تھے جنہوں نے ہمیں تراشا اور ہمارے کام کو نکھارا باقی وقت بھی بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔


سوال:آپ نے پنجابی فلموں میں بھی کام کیاہے ان میں کام کرنا کیسا رہا؟
سعود:میں بنیادی طور میں سرائیکی علاقے میں تعلق رکھتا ہوں،سرائیکی بھی پنجابی کا ہی ایک اہم لہجہ ہے اس لیے پنجابی فلموں میں کام کرنا بہت آسان تھا لیکن میں سلطان رہی نہیں بن سکا،اس لیے وہ ایک اسلوب کا نام تھا،ہماری فلمیں پنجابی فلمیں آج بھی بہت پسند کی جاتی ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجابی ثقافت پوری دنیا میں مقبول ہے۔پنجابی گیت اور پنجابی لہجہ بہت خوبصورت ہیں لیکن میں نے بہت کم پنجابی فلموں میں کام کیا ہے۔
سوال:یکایک پنجابی فلموں کا یہ ”عبوی دور“بھی ختم ہوگیا اس کی کیا وجہ ہے؟
سعود:فلم انڈسٹری کے لیے اچھا وقت آرہا ہے،فلم انڈسٹری سے وابستہ تمام لوگ محنت کررہے ہیں اور نئی فلمیں بنائی جارہی ہیں لیکن جب تک ہم اچھے موضوعات کا انتخاب نہیں کریں گے سکرین پلے اچھا نہیں ہوگا،اچھی فلم نہیں بنے گی،فلم انڈسٹری میں تجربہ لوگوں سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔

فلموں میں سرمایہ کاری کی رفتار بھی بہت سست ہیں۔فلمیں بن رہی ہیں،لیکن ان کی سینماؤں تک رسائی نہیں ہورہی،بھارتی فلموں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی فلموں کی نمائش بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی ہوگی،سینما مالکان کو بھی اپنا رویہ بہتر بنانے کی ضرورت ہیں اور بہتری کے لیے سوچ کی تبدیلی بہت اہم ہیں۔
سوال:آپ کی شریک حیات جویریہ بھی اداکارہ ہیں ان سے ملاقات کیسے ہوئی؟
سعود:جویریہ ٹی وی میں کام کررہی تھی اور میں فلموں میں تھا،کچھ لوگوں کو حیرت ہوگی کہ ہماری ایک طرف سے اریجنڈ میرج ہے،میں نے جویریہ کو ایک شادی کی تقریب میں دیکھا تھا اور ان کے اہل خانہ کو شادی کا پیغام بھیجا جسے انہوں نے قبول کیا۔


سوال:انہی دنوں آپ کے ساتھی اداکاراؤں کے ساتھ افئیر کی باتیں سرگرم تھیں؟
سعود:(قہقہ لگاتے ہوئے)افئیر تو سب کے ہوتے ہیں بہرحال جویریہ کو میرے متعلق کچھ خدشات تھے مگر میں نے شادی سے پہلے انہیں فون کرکے اپنے بارے میں وضاحت دے دی تھی کہ اگر میرا کسی سے واقعی افئیر ہوتا تو میں آپ سے شادی نہ کرتا۔
سوال:آپ کا تعلق پنجاب سے ہے مگر جویریہ بیاہ کر پنجاب نہیں آئیں بلکہ آپ وہاں چلے گئے؟
سعود:مجھے کام کے سلسلے میں اکثر کراچی جانا پڑتا تھا اور سچ پوچھیے تو کام تھا ہی کراچی میں ،جویریہ سے جب منگنی ہوئی تو میں نے ان سے پوچھاتھا کہ کدھر رہنا چاہتی ہیں؟تو انہوں نے کہا وہ کراچی ہی رہنا چاہتی ہیں،بس پھر کراچی میں ہی گھر لے لیا اور شادی سے پہلے ہم نے ایک دوسرے کی پسند ناپسند کے مطابق گھر سیٹ کیا خیراب تک تو چار پانچ گھر تبدیل کرچکے ہیں۔


سوال:شوبز کی دنیا میں بہت کم شادیاں ہوتی ہیں آپ کی خوشگوار زندگی کا راز کیا ہے؟
سعود:میاں بیوی کا رشتہ مضبوط ہونے کے ساتھ بڑا کمزور بھی ہوتا ہے باہمی سوچ اور اتفاق کے ساتھ ہی اس رشتے کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں میاں بیوی کے رشتے میں خلیج پیدا کردیتی ہیں،اگر گھر کے سرپرست موجود ہوں تو وہ اپنی دانش کے ساتھ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی ناچاقیوں کو ختم کرادیتے ہیں۔

آج طلاق کی شرح میں جو اضافہ ہوا ہے اس کی ایک وجہ انا پرستی ہے،اس خطر ناک رجحان کو روکنے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔لڑکے والے بہو کو اپنی بیٹی تسلیم کریں اور بہو بھی بیٹی بن کر دکھائے۔خیرہماری شادی بہت کامیاب ہے اور انشااللہ کامیاب رہے گی۔
سوال:کیا آپ دونوں کے درمیان کبھی کسی بات پر تکرار ہوئی ہیں؟
سعود:جویریہ رائٹنگ کا کام دیکھتی ہیں اور میں پروڈکشن کا۔

۔۔اب رائٹرز اور پروڈکشن والوں کی تو کبھی بنی ہی نہیں کیونکہ لکھنا آسان اور اس کو پکچرائز کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اس لیے ہمارے درمیان چھوٹی موٹی تکرار ہوجاتی ہیں لیکن اسے جھگڑا نہیں کہہ سکتے ہم دونوں کو ہی غصہ جلدی آتاہے(ہنستے ہوئے)بس ایک دوسرے پر بول کر غصہ نکال لیتے ہیں مگرہم ایک دوسرے کی عزت بھی کرتے ہیں ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد بھی ہے۔

جویریہ بہت سمجھدار اور سلیقہ شعار ہیں گھر گرہستی کے اطوار سے آگاہ ہیں۔میں نے کبھی ان پر اپنی مرضی نہیں تھوپی ہمیں شوبز کی دنیا کے تقاضوں کا بھی بخوبی علم ہے ،جب مین فلموں میں کام کرتا تھا تو اپنی ساری کمائی جویریہ کے ہاتھ میں دیتا تھا اور پھر جب ضرورت ہوتی تو ان سے مانگ لیتا تھا خیر ذاتی پروڈکشن کا کام شروع کیا تو ہم دونوں ہی اپنی کمپنی سنبھالنے لگے۔


سوال:فرصت کے اوقات میں کیا کرتے ہیں؟
سعود:اپنی فیملی کے ساتھ گزارتا ہوں اور بچوں کو لیکر گھومتا ہوں۔فرصت کے وقت شوبز کی دنیا سے کنارہ کش ہوجاتا ہوں کیونکہ گھریلو مصروفیات بہت ہوتی ہیں جویریہ اورمیں گھر کو سجاتے ہیں اور کچھ مستقبل کے پلان سوچتے ہیں جب ہم اپنی مصروفیات سے تھک جاتے ہیں کیونکہ ہم میزبان زیادہ اور مہمان کم بنتے ہیں تو اس بوریت کو دور کرنے کے لیے امریکہ یا پھر دبئی چلے جاتے ہیں۔


سوال:جویریہ صرف مارننگ شو کرتی ہیں یا پھر اچھے کھانے بھی بنالیتی ہیں؟
سعود:جویریہ کی یہ خوبی ہے کہ وہ کیرئیر کے ساتھ ساتھ اپنا گھر بھی سنبھالتی ہیں اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیتیں،جویریہ کو بہت اچھا کھانا پکانا آتا ہے ان کے ہاتھ سے پکا ہوا ہر کھانا مجھے پسند ہیں ،ہم بہت کم کسی ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں،ویسے بھی مجھے سبزیاں اور دالیں زیادہ پسند ہیں میں گوشت بہت کم کھاتا ہوں۔


سوال:جویریہ کی اداکاری کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔
سعود:مجھے ان کی اداکاری بہت پسند ہے وہ بہت اچھی اداکار ہی نہیں ٹی وی شو کی لاجواب میزبان بھی ہیں اگر وہ میری شریک سفر نہ بھی ہوتیں تو بھی میری ان کے بارے میں یہی رائے ہوتی۔بیک وقت اداکاری اور میزبانی بہت مشکل کام ہے تاہم جویریہ اپنے ہر پراجیکٹ سے شائقین کو متاثر کرتی ہیں۔


سوال:کیا آپ اپنے بچوں کو فلموں میں لانا پسند کریں گے؟
سعود:کیوں نہیں اگر وہ چاہیں گے اور ان کا رجحان ہوا تو میں ضرور انہیں فلموں میں لے کر آؤں گا،ہم نے جس شعبے سے عزت اور شہرت حاصل کی ہے اس کی طرف بچوں کو آنے سے کیونکر روک سکتے ہیں۔
سوال:آپ رومانی ہیرو اچھے ہے یا ایکشن زیادہ پسند ہیں؟
سعود:مجھے کبھی ایکشن میں پسند نہیں کیا گیا حالانکہ میں کراٹے ماسٹر ہوں۔

ہمیشہ میری رومانٹک اور قدرے جذباتی اداکاری پسند کی جاتی ہیں۔لیکن ایک اداکار کو اپنے کردار سے ہمیشہ انصاف کرنا چاہیے اور ایک اچھا ہدایت کار ہی اپنے اداکار سے اچھا کام کرواسکتا ہیں چاہے وہ کچھ بھی ہوں۔
سوال:آپ کے پسندیدہ اداکار کون ہیں؟
سعود:مجھے اپنے سب دوست اداکار بہت پسند ہیں لیکن اداکار محمد علی مجھے شروع سے ہی پسند تھے،کاش میں ان کے ساتھ کسی فلم میں کام کرسکتا،ان کا جذباتی انداز بہت شاندار اوران کی مردانہ وجاہت بہت مثالی تھی ،ان جیسا ہیرو ہماری فلم کو دوبارہ نصیب نہیں ہوا ہے۔


سوال:اگر آپ کو بالی ووڈ میں کام کرنے کا موقع ملے تو کیا کریں گے؟
سعود:جی نہیں میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے کہ میں انڈین فلموں میں کام کروں مجھے عزت اور شہرت اپنی فلموں سے ملی ہیں آج جس مقام پر ہوں یہ سب کچھ پاکستان کی فلم انڈسٹری کی وجہ سے ہیں میں اپنی فلموں کی بہتری کے لیے کام کرتا رہوں گا۔میں اچھا سکرپٹس رائٹرز کو آگے لانا چاہتا ہوں ۔

اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کو بھی دعوت دینا چاہتا ہوں۔کہ فلم انڈسٹری کو سہارہ دیں۔ جب یہ سب ہوگا تو ہمارا فلمی منظرنامہ بھی بحال ہوگا۔ہمیں اپنی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے کسی دوسرے کے سہارے کی ضرورت نہیں۔فلمیں سوسائٹی کا عکس ہوتی ہیں اور اسی کی ایما پر بنتی اور پھلتی پھولتی ہیں اگرچہ بعض حلقے تعصب بھی رکھتے ہیں،اور انتہا پسند سوچ بھی پروان چڑھتی ہیں لیکن آپ دیکھے کے آج سیاسی جلسوں میں میوزک پر ڈانس ہورہا ہیں تو پھر یہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہیں فلمیں یہاں پسند نہیں کی جاتی ہیں،اچھی فلمیں ہمیشہ پسند کی گئی ہیں اور کی جاتی رہیں گی۔


سوال:کیا آپ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کے حق میں ہیں؟
سعود:سعود میرا خیال ہے کہ پاکستان سینما کی ترقی کے لیے بھارتی فلموں کی نمائش نہیں ہونی چاہیے یہ کوئی ایمان اور دھرم کا مسلہ نہیں ہے حکومت پالیسی کیوں نہیں بناتی جب ہماری فلموں کی اُدھر نمائش نہیں ہوتی تو ان کی فلموں کی اِدھر نمائش کیوں کی جاتی ہیں؟
سوال:کیا آپ سیاست کی طرف بھی رجحان رکھتے ہیں؟
سعود:میرے خیال میں فنکار سیاسی نہیں ہوتا ہے۔

ہمیں اس ملک کی بہتری کے لیے سوچنا چاہیے پاکستان ایک خوبصورت تصویر اور تصور کا نام ہے اگر اس کے کچھ رنگ مانند پڑگئے ہیں تو ہمیں انہیں نکھارنا چاہیے اس کی بقا کے لیے ہم قدم اور ہم آواز ہونا چاہیے،پاکستان ہمارا ملک ہی نہیں ہماری زندگی ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :