سیاستدان بننے کے لئے منافقت ضروری ہے

معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کہتے ہیں کہ میں سیاست کرتا تو پٹ جاتا ، سیاست دان بننے کے لیے اعلیٰ درجے کی منافقت ضروری ہے

بدھ 21 فروری 2018

ہما میر حسن
خوبرو پُرجوش اور اپنی آواز کے جادو سے سرمست کردینے والے گلوکار شہزاد رائے کسی کہانی کے کردار کی مانند اپنے لوگوں کے درمیان کچھ ان کی سنتے اور کچھ اپنی سناتے ہیں وہ جو گیت بھی گاتے ہیں اس میں کوئی پیغام اور خواب ہوتا ہے جن کی تعبیر کے لیے وہ لوگوں کے دلوں میں ایک امید جگادیتے ہیں زندگی سے پیار اور محبت ان کے آدرش ہیں شہزاد گیتوں کی تلاش میں کہیں دور نکل گئے ہیں اور اب منزل کی ایک خوبصورت دنیا ہے جہاں کوئی دکھ اور غم نہ ہو موسیقار اور سماجی رکن شہزاد رائے 16 فروری 1977 کو کراچی کے ایک تاجر کبیر رائے اور نازلی قمر کے ہاں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی کے سینٹ جیوڈ سکول اور میٹرک کراچی میں ہی سینٹ اینڈ ریو سکول سے پاس کیا میٹرک کرنے کے بعد گٹار ان کی زندگی کا حصہ بن گیا انہوں نے 1995 میں پہلا البم زندگی لانچ کیا پھر دوسال بعد دوسرا البم درشن 1999 میں تیسرا تیری صورت رب جانے بری بات اور 2008 میں قسمت اپنے ہاتھ میں ریلیز کیا سالی تو مانی نہیں یہ جو آگ ہے تیری یادوں کی تیری صورت نگاہوں میں جیسے بے شمار کامیاب تومانونی گیت گانے کے بعد شہزاد نے موسیقی کا انداز بدلتے ہوئے سیاسی اور ملے نغمے کانے شروع کردئیے جس میں شہزاد کو بہت پذیرائی ملی انہوں نے موسیقی کو ہی اپنا شیوہ بنایا بلکہ خود کو تعلیم کے لیے وقف کردیا اور زندگی کے نام سے فلاحی ادارہ بنایا جس کے تحت قابل قدر خدمات پر انہیں 2005 میں اعلیٰ سول ایوارڈ ستارہ امتیاز اور 2006 میں ستارہ ایثار سے نوازا گیا انہیں 2008 میں اولمپکس مشعل برادر ہونے کا بھی اعزاز ملا 2016 میں قائداعظم نیشنل گیمز میں شہزاد نے ساﺅنڈ ٹریک بس کھیل نہیں گایا جو بہت مقبول ہوا گزشتہ سال ان کی میوزک ویڈیو بلے بلے ریلیز ہوئی شہزاد نے دبئی میں پاکستان سپرلیگ ٹو کی افتتاحی تقریب میں بھی جاندار پرفارمنس دی بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی فلم” کھٹا میٹھا“میں بھی شہزاد کے گانے شامل ہیں شہزاد دو ٹی وی پروگراموں بھی کام کرچکے ہیں جو پاکستان کے سماجی حالات کے بارے میں تھے شہزاد نے پاپ سٹار سے سماجی رکن بننے کا کٹھن سفر بڑی کامیابی سے طے کیا خواہ محبت ہو سیاست ہو یا پھر کھیل کا میدان،ہر جگہ شہزاد کی آواز کی الگ گونج سنائی دیتی ہے
سوال:گلوکاری کی جانب کیسے آنا ہوا؟
شہزاد رائے:موسیقی سے محبت مجھے اپنے والدین سے ملی بچپن میں ابونے مجھے گٹار لاکر دیا تھا اور میں نے گٹار بجانا ویڈیو دیکھ دیکھ کر سیکھامیرے والدین میری حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ میں وہیں کروں جو میرا دل چاہتا ہے البتہ بچپن میں مجھے اپنے کرکٹ کے جنون کو پورا کرنے کی اجازت نہ ملی ،جب میں پریمئیر کالج کراچی میں سال دوم کا طالب علم تھا میرے گائے ہوئے گیت منظر عام پر آنا شروع ہوگئے تھے میری پہلی البم 1995 میں ریلیز ہوئی میں ایک کاروباری گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اتنے وسائل نہیں رکھتا تھا کہ میوزک ویڈیوز کے لئے رقم خرچ کرسکوں یہ میرے دوست تھے جنہوں نے مل کر مجھے متعارف کرایا اس کے بعد لگاتار اس نے چار برسوں میں پاپ میوزک میں خوب نام کمایا اور ایک کے بعد ایک ایوارڈ اپنے نام کیے۔

(جاری ہے)


سوال:رومانوی گیت گانے والا گلوکار انسانیت کے لیے ہمدردی رکھنے والا سماجی کارکن بن گیا؟
شہزاد رائے:ان کامیابیوں نے ہی مجھے اس قدر ہمت دی کہ میں نے اپنی دلی خواہش کی تکمیل کے لئے غریب بچوں کی تعلیم کی خاطر اپنے کنسرٹس کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا میں نے 2002 میں زندگی کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا اس کا مقصد نادرا اور غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنا تھا اب تک اس طرح کے 36 مراکز قائم ہوچکے ہیں میں بچپن میں اپنے والدین کو دوسروں کی مدد کرتے ہوئے دیکھا کرتا تھا اس لئے میرے لئے یہ نا ممکن تھا کہ میں اس راہ پر نہ چلوں،آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے اپنے گھریلو ماحول میں جو دیکھا وہی کیا میرے گھر میں ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے کی باتیں ہوتی تھیں کبھی کسی کی برائی نہیں سنی نہ رشتے داروں کی نہ دوستوں کی بس اپنی اصلاح اور کام میں دھیان دینے کا رجحان تھا۔
سوال:آپ نے کیا دیکھا اورکیا کچھ تبدیل کرنے کا جتن کیا؟
شہزاد رائے:کراچی کے تقریباً 9 لاکھ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں یہاں تعلیمی نظام کی حالت بہت تشویشناک ہے میٹرک کرنے کے بعد بھی بچوں کی ذہنی حالت نہیں بدلتی وہ اپنی کوئی سوچ نہیں رکھتے سکولوں میں وہ رٹے رٹائے طریقوں سے پڑھتے ہیں جو ان کے ذہنوں کو جامد رکھتا ہے میں یہ سن کر بہت حیران ہوا کہ کراچی میں ساڑھے تین ہزار سکولوں کی محض نو سو عمارتیں ہیں اور ایک ہی عمارت میں آٹھ سکول قائم کردئیے گئے ہیں ،آپ بتائیں کہ ایک بلڈنگ میں آٹھ پرنسپل ہوں تو کام کیسے چلے گا؟جب میں پہلی بار فاطمہ جناح سکول گیا اور وہاں کی پرنسپل کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا کہ میں سکول کی حالت بدلنا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ سب سے پہلے آپ سکول سے آوارہ کتوں کو نکالیں سکول میں تقریباً چالیس پچاس کتے تھے جو بعض اوقات بچوں کو کاٹ لیتے تھے میرے لئے یہ بہت تعجب کی بات تھی خیر اس کے بعد میں نے سکول اور دیگر تعلیمی اداروں میں شادی بیاہ کی تقریبات پر پابندی عائد کروائی تاکہ سکول کالج گراﺅنڈ صاف رہیں اور کتے یہاں رخ نہ کریںیہ سب آسان نہیں تھا لوگوں کو قائل کرنا ایک مشکل کام تھا میں ایک سنگر تھا تاہم شوبز میں کامیابیوں کے بعد مجھے اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی۔
سوال:کیا آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے؟
شہزاد رائے:میں جو کچھ کرنا چاہتا تھا وہ کلی طور پر نہیں کر پایا مجھے اساتذہ کی جانب سے احتجاج کا سامنا رہا اور دوسری جانب بیورہ کریسی میری راہ میں روڑے اٹکاتی رہی لیکن میں اس ساری صورتحال سے لڑتا رہا میری استقامت رنگ لائی میوزک نے میرے ارادوں کو جلا بخشی باقی سب کچھ ٹیم ورک کا نتیجہ ہے ہم نے تعلیم کے لیے ماحول سازگار بنایا چنانچہ جہاں پہلے بوسیدگی کے ڈیرے تھے وہاں اب روشنی اور ہریالی ہے تعلیم کے لئے ماحول سازگار بنایا اپنے خواب کو پورا کرنے چکر میں ، میں نے بہت سارے دشمن بنالیے لیکن اپنے مقصد کی لگن میں مگن رہا،
سوال:بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات کے بارے میںآپ کیا کہیں گے؟
شہزاد رائے:میرا خیال ہے کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی وارداتیں صرف قانون کی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہوتیں بلکہ والدین اور اساتذہ بھی اس کے ذمہ دار ہیں ایک رپورٹ کے مطابق ہر پانچوں بچہ زیادتی کا شکار ہوتا ہے یعنی بچے خوف کے باعث ایسی باتیں اپنے والدین اور اساتذہ کے ساتھ شئیر نہیں کرتے زیادتی کے کیسز اٹھا کر دیکھ لیں نوے فیصداپنے ہی جاننے والے رشتے دار بچوں کے ساتھ زیادتی کا جرم کرتے پائے گئے ہیں پولیس گھرگھر مجرم نہیں ڈھونڈ سکتی ہمیں خود اپنے اردگرد ایسے لوگوں پر نظر رکھنی چاہیے اور بچوں کو صحیح غلط کا فرق بتانا چاہیے ۔
سوال:آپ فلاحی کام کررہے ہیں سیاست میں آنے کا ارادہ تو نہیں؟
شہزاد رائے:سیاست میری سمجھ سے بالاتر ہے کس کو اچھا کہوں اور کس کو برا کہوں میرا خیال ہے کہ میں سیاست نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے لیے منافق ہونا پڑتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ میں جو کام کررہا ہوں یہ ریاست کو کرنے چاہئیں ایک گلوکار کو نہیں میں چاہ کر بھی اب ان ذمہ داریوں سے الگ نہیں ہوسکتا کیونکہ بہت سے لوگوں کی امیدیں اب مجھ سے وابستہ ہے ویسے مجھے عمران خان پسند ہے وہ میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں اور اکثر میری رہنمائی کرتے ہیں عمران خان صحیح بات کرتے ہوئے کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیںاور یہی چیز مجھے پسند ہیں۔
سوال:آپ کے سوشل ورک اور آگاہی مہم سے موسیقی فراموش تو نہیں ہوئی؟
شہزاد رائے:اس سارے مشن کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ موسیقی میری زندگی میں کہیں پیچھے چلی گئی وہ ہمیشہ رہے گی اسی کی بدولت میں یہ سب کچھ کررہا ہوں کنسرٹس اور میوزک البم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
سوال:آپ کے گانے”مولا“کے بارے میں بتائیے کہ اس کا آئیڈیا کیا ہے؟
شہزاد رائے:میں نے اس ویڈیو میں جون2014 میں کراچی ائیر پورٹ حملے میں شہید ہونے والے ائیر پورٹ سکیورٹی فورس(اے ایس ایف) کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیاہے ویڈیو کے پہلے حصے میئں مجھے ائیر پورٹ پر گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے بہترین میوزک اور جذباتی مناظر ہے بھرپور اس ویڈیو کے آخر میں قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد بھی دی ہے مولا ایک خاتون کی کہانی دکھائی ہے جن کے شوہر جون2014 میں کراچی ائیرپورٹ پر ہولناک حملے کے دوران اپنے سکیورٹی فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے جس کے بعد اس خاتون نے اے ایس ایف میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور سخت ٹریننگ کے بعد اپنی منزل کو پایا،ویڈیو میں مختلف کلپس کے ذریعے ائیر پورٹ سکیورٹی فورس میں شامل ہونے کے لئے کی جانے والی سخت ٹریننگ بھی دکھائی گئی ہے،
سوال:کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ویسے بھی انسان رومینٹک نہیں رہتا کہیں آپ کے ساتھ بھی ایسا تو نہیں ہوا؟
شہزاد رائے:(قہقہ لگاتے ہوئے)یہ سچ ہے کہ شادی کے بعد رومانس تھوڑا کم ہوجاتا ہے مگر میری بیوی مجھے ہر معاملے بہت سپورٹ کرتی ہے میری اہلیہ سلمیٰ نے ہارورڈ یونیورسٹی سے انٹرنیشنل افئےرز میں ماسٹر کیا ہے سلمیٰ سے میری ملاقات ایک کنسرٹ میں ہوئی تھی جہاں میں پرفارم کررہا تھا وہ میرے گیت بہت پسند کرتی ہے اور کوئی بھی گیت پرفارم کرتے ہوئے میرے ہمیشہ تصور میں ہوتی ہے وہ میرے سوشل ورک کو بہت پسند کرتی ہے درحقیقت وہ میری مینیجر ہے میرا یک بیٹا اور ایک بیٹی ہے مصروفیات کے باوجود میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزاروں دس سال پہلے جذباتی طبیعت کا تھا مگر اب تحمل مزاجی سے کام لیتا ہوں۔
سوال:کیا آپ کا بیٹا بھی گلوکار ہی بنے گا؟
شہزاد رائے:وہ ایک بہت اچھا انسان ہوگا لوگوں کی خدمت کرے گا اور چاہے کچھ بھی بن جائے یہ اس کا منحصر ہے۔
سوال:آپ نے فلموں کے لیے پس پردہ گائیکی کیون نہیں کی؟
شہزاد رائے:شاید میزا مزاج ایسا نہیں اور میں اس طرف کبھی راغب ہی نہیں ہوا ہوں میں نے ہالی ووڈ کی ایک فلم کا گیت گایا ہے اگر کوئی ایسی آفر ملی تو شاید فلم کے لئے بھی گاﺅں۔
سوال:سنا ہے آپ ایکٹنگ میں بھی قسمت آزمائی کررہے ہیں؟
شہزاد رائے:میں نے ایک فلم سائن کی ہے جو ایک کمرشل فلم ہوگی جو میں ایکٹنگ کیرئیر بنانے کے لیے نہیں کررہا نہ مجھے ہیرو آنے کا شوق ہے میں سمجھتا ہوں کہ میوزک ویڈیو کم سین اور کم الفاظ میں پیغام دیا جاتا ہے جبکہ فلم بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں سے لوگوں کی اصلاح زیادہ موثر ثابت ہو گی پاکستانی فلمیں اب کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہیں پڑھے لکھے لوگ فلم انڈسٹری کا حصہ بن رہے ہیں امید ہے میری فلم کی بھی پذیرائی ہوگی،

مزید لالی ووڈ کے مضامین :