لال کبوتر

منشاپاشا کاشمار پاکستان کی ان چند خوش قسمت فنکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم عرصے میں ترقی کی منازل طے کیں۔ انہوں نے ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ

جمعرات دسمبر

laal kabootar

سیف اللہ سپرا
منشاپاشا کاشمار پاکستان کی ان چند خوش قسمت فنکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم عرصے میں ترقی کی منازل طے کیں۔ انہوں نے ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ میں بھی اپنی مُنفرد پہچان بنائی ہے۔گھونگھٹ اور کتنی گرہیں باقی ہیں جیسی ٹیلی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے۔وہ زیادہ کام کرنے کی بجائے معیاری کام پریقین رکھتی ہیں۔ ان کے متعدد ڈرامے اور ٹیلی فلمیں ٹیلی کاسٹ ہوچکی ہیں جن میںہمسفر،شہر ذات،مدیحہ ملیحہ،زندگی گلزار ہے، وراثت، گھونگھٹ،شب آرزو کا عالم،محبت صبح کا ستارہ، شریک حیات،ایک اور ایک ڈھائی،زارا اور مہرالنسا،ہم ٹھہرے گناہگار،میرے اپنے،لفنگے پرندے،میرا نام یوسف ہے،بے وفائی تمہارے نام،دراڑ،پانی دا بلبلہ،تمہارے سوا،وفا، دل بے قرار، اور جھوٹ شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ان کی ایک فلم ’’چلے تھے ساتھ‘‘ بھی ریلیز ہوچکی ہے یہ فلم لوگوں نے پسند کی ہے۔اب اپنے کیرئر کی دوسری فلم کرنے جارہی ہیں جس کا نام’’ لال کبوتر ‘‘ہے اس فلم میں منشا پاشا ہیروئن کا کردار کررہی ہیں ان کے مدمقابل ہیرو کا کردار احمد علی اکبر کر رہے ہیں دیگر کاسٹ میں سلیم معراج اور علی کاظمی شامل ہیں۔پاکستان کی اس باصلاحیت فنکارہ کا خصوصی انٹرویو کیا گیا ہے جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں:
س:اپنی ابتدائی زندگی کے حوالے سے کچھ بتائیں۔
ج : میں حیدرآباد میں پیدا ہوئی اور پندرہ سال کی عمر تک وہیں رہی پھرہم لوگ کراچی شفٹ ہوگئے۔میری تین بہنیںہیں جو مجھ سے بڑی ہیں۔بھائی ہمارا کوئی نہیں۔میری تینوں بہنوں کیساتھ بہت خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔بہنیں پڑھائی میں بہت اچھّی تھیں۔جب میں نے بھی سکول جاناشروع کیا تووہاں بہنوں کی وجہ سے ہمیں’’پاشا سسٹرز‘‘کے نام سے پکاراجاتا تھا۔ میری بہنیں امتحان میںہمیشہ اچھّے نمبرلیاکرتی تھیں۔میں بھی ذہین توتھی لیکن اتنی محنتی نہیں تھی بلکہ کسی حد تک لاپرواہ تھی لیکن بڑی ہوکرپڑھائی میں بھی اچھّی ہوگئی۔
س:آپ شوبز میں کیسے آئیں؟
ج :مجھے ٹی وی دیکھ دیکھ کر اس کا شوق ہواتھا۔کسی حد تک مجھ میںفن کے جراثیم شروع سے ہی تھے۔کافی تخلیقی ذہن تھا۔سکول اورکالج میں ہونیوالی تقریبات میں بھی فن کامظاہرہ کرتی رہی تھی۔والد اور والدہ دونوں ڈاکٹرہیں لیکن مجھے شروع سے اندازہ تھا کہ میں اس طرف جانے کی بجائے کچھ مختلف کروں گی۔شروع میں میری اُردواتنی اچھّی نہیں تھی لیکن شوبز میں آنے کے بعدلوگوں کودیکھ دیکھ کراورسکرپٹ پڑھ پڑھ کرکافی اچھّی ہوگئی ہے۔میں نے گریجو ایشن میڈیامیں ہی کی تھی جس کے بعدکچھ عرصہ کیمرے کے پیچھے بطوراسسٹنٹ پروڈیوسرکام کیااورچھ سات ماہ بعد اداکاری شروع کردی۔’’زندگی گلزار ہے‘‘ پہلا باقاعدہ ڈرامہ تھا اوراس میں میراکردارمیرے دل کے بھی قریب تھا۔سُلطانہ صدیقی اورمومنہ درید کے ساتھ کام کرناایک اعزاز تھا۔اس میں اگرچہ میرا بہن کا کردارتھالیکن اس کے بعدمجھے مرکزی کردارملنے لگے اورآج کل بھی کئی ڈراموں میں مصروف ہوں۔میں سمجھتی ہوں کہ آغازآپ کا کہیں سے بھی ہو،محنت آپ کوآگے لے کرجاتی ہے۔ میںنے’’میرے اپنے‘‘میںندیم بیگ اور بُشریٰ انصاری کے مقابلے میں ایک خودسربہوکا کردار ادا کیا تھا۔ندیم بیگ کیساتھ مہرین جبارکی ایک ٹیلی فلم بھی کر چکی ہوں جوبہت اچھّاتجربہ تھا۔ ’’شہراجنبی‘‘ بھی اچھّا ڈرامہ ہے جس میں میں نے جاویدشیخ کی بیٹی کاکرداراداکیا تھا۔ میںکرداروں کے انتخاب کے حوالے سے بہت مُحتاط ہوں ُنتخب کام ہی کیاہے۔ ’’زندگی گلزار ہے‘‘کے بعد مجھے اس طرح کے کئی کرداروں کی پیش کش ہوئی جو میں نے قبول نہیں کی۔لیکن میں نے کچھ ڈرامے ناظرین کے لئے بھی کئے ہیں۔میری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کام کروں جسے کرکے مجھے بھی مزہ آئے کیونکہ وہ کام لوگوں کوبھی پسند آتا ہے۔ہر ڈرامہ اہم ہوتا ہے اوراس میں کئی لوگوں کی محنت ہوتی ہے لیکن میرے لئے ’’محبّت صبح کاستارہ‘‘ بہت چیلنجنگ تھا۔اگرچہ اس میں میرا عالیہ کا کردار منفی تھا لیکن وہ ساتھ ساتھ مثبت بھی تھا جسے کرکے مجھے کافی اچھّا لگا۔
س:آپ کے پسندیدہ ڈرامے کون سے ہیں؟
ج:جہاں تک پسندیدہ ڈراموں کاتعلّق ہے تو’’دھوپ کنارے‘‘ ہمیشہ سے پسندہے۔ ’’تنہائیاں‘‘ بھی دیکھتی تھی لیکن ’’دھوپ کنارے‘‘ زیادہ پسند تھا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ڈرامہ کی مصنفہ اورڈائریکٹردونوں خواتین تھیں۔اس میں راحت کاظمی،مرینہ خان اورساجد حسن کی اداکاری بھی اچھّی لگتی تھی۔
س: آپ نے ایک فلم بھی کی ہے فلم میں کام کا تجربہ کیسا رہا ہے؟
ج: میں نے فلم چلے تھے ساتھ میں کام کیا ہے بہت اچھی ٹیم تھی کام کا بہت مزا آیا اور فلم لوگوں نے پسند بھی کی ہے۔ اب دوسری فلم ’’لال کبوتر‘‘ کے نام سے کررہی ہوں۔ اس فلم میں میرا مرکزی کردار ہے۔احمد علی اکبر اس فلم میں میرے ساتھ ہیرو کا کردار ادا کرہے ہیں۔ دیگر کاسٹ میں سلیم معراج اور علی کاظمی شامل ہیں۔ کمال خان اس فلم کے ڈائریکٹر ہیں۔
س:پاکستانی فلموں کے بارے میں آپ کچھ کہنا پسند کریں گی؟
ج :پاکستان میں اب اچھّی فلمیں بننا شروع ہوگئی ہیں اورٹی وی کی زیادہ ترلڑکیاں ان فلموں میں کام کررہی ہیں۔ٹی وی کے لڑکے بھی اب فلموں میں کام کررہے ہیں۔ٹی وی ڈرامہ تو بہت عروج پر ہے فلم انڈسٹری کے حالات بھی بہتر ہورہے ہیں اگر اچھی فلمیں بنائی جائیں تو پاکستان کی فلم انڈسٹری اپنا کھویا ہوا مقام جلد حاصل کرلے گی۔
س:لاہور اور کراچی میں کام کرنے میں کیا فرق ہے؟
ج:میں نے کراچی کے ساتھ ساتھ لاہور میں بھی کافی کام کیا ہے اوردونوں شہروں میں کام کے حوالے سے کوئی خاص فرق نہیں ہے ہاں کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔
س:فرصت کے لمحات کیسے گذارتی ہیں؟
ج:فرصت کے لمحات میں میںکتابیں پڑھتی ہوں۔ شوہرکے ساتھ باہرگھومنے چلی جاتی ہوں کیونکہ مجھے گھومنے پھرنے کاشوق ہے۔
س:غیر ملکی ڈراموں کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
ج:ہم غیرملکی ڈراموں سے خوف زدہ نہیں۔اگر لوگ یہ ڈرامے دیکھ رہے ہیں تو یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے۔ان کی پروڈکشن کا معیار ہم سے بہتر ہے۔میں غیرملکی ڈرامے نہیں دیکھتی بلکہ اگروقت ملے تو پاکستانی ڈرامے دیکھتی ہوں۔
س:کیا آپ کو موسیقی سے دلچسپی ہے؟
ج:موسیقی سننے کا شوق ہے۔
س:پسندیدہ گلوکار کون سے ہیں؟
ج:مہدی حسن ، نور جہاں اور نصرت فتح علی۔
س:ماڈلنگ کا تجربہ کیسا رہا؟
ج: اداکاری کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ بھی کر رہی ہیں اور حال ہی میں کراچی میں ایک بڑے برانڈ کے لئے ماڈلنگ کی ہے لیکن میں بنیادی طور پر اداکارہ ہوں اوراداکاری میری پہلی ترجیح ہے۔
س:آپ کو کس طرح کے کردار اچھے لگتے ہیں ؟
ج:جہاں تک کرداروں کا تعلّق ہے تومجھے ایسے کردار اچھّے لگتے ہیں جن میں ناظرین کے لئے دلچسپی ہو۔رونے دھونے والے کردارزیادہ اچھّے نہیں لگتے اگرچہ آج کل زیادہ تر ڈراموں میں ہیروئنز رو رہی ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اگر لڑکی کو روتے ہوئے دکھانا ہے تو اس کی وجوہات بھی دکھانی چاہئیں کہ وہ کن حالات سے گزری ہے۔ میں نے شہرذات میں روشانہ،مدیحہ ملیحہ میں نشاء، زندگی گلزار ہے میں سدرہ،وراثت میں سجل،شبِ آرزو کا عالم میں رانیہ،گھونگھٹ میں عائشہ،محبّت صبح کا ستارہ ہے میں عالیہ،ایک اورایک ڈھائی میں ریما،ہم ٹھہرے گنہگار میں زرش،میرے اپنے میں سائرہ،لفنگے پرندے میں رومانہ،میرانام یوسف ہے میں مدیحہ،بے وفائی تمہارے نام میں مائرہ کا کردارکیا اورہرکردار کومختلف طریقے سے کرنے کی کوشش کی ہے ۔
س :آج کے ڈرامے کے حوالے سے کیا کہیں گی؟
ج:ہمارا ڈرامہ بہت اچھّا جا رہا ہے۔ہاں کہانیوں میں کسی حد تک یکسانیّت ہے جسے دور کرنے کیلئے نئے لکھنے والوں کو آگے آنا ہوگا۔

مزید متفرق کے مضامین :

Your Thoughts and Comments