ملکہ جذبات نیئر سلطانہ

مداحوں سے بچھڑے 28برس بیت گئے

منگل اکتوبر

Malka e Jazbaat Nayyar Sultana
وقار اشرف
اپنی خوبصورتی،سادگی اور معصومیت سے دلوں میں گھر کرنے والی پاکستان فلم انڈسٹری کی ور اسٹائل اداکارہ نیئر سلطانہ کو مداحوں سے بچھڑے 28برس بیت گئے مگر وہ مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔1938ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہونے والی نیئر سلطانہ کا اصل نام طیبہ تھا،تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی اور پھر لاہور آگئیں جہاں ہدایت کار انور کمال پاشا سے ملاقات ہوئی اور 1955 میں ایک فلم ”قاتل“ میں نازلی کے نام سے فلمی کیریئر کا آغاز کیا لیکن دوسری فلم ”انتخاب“ کے بعد اپنا نام نیئر سلطانہ رکھ لیا اور یہی نام ان کی پہچان بنا۔


نیئر سلطانہ نے روایتی کرداروں کی بجائے مختلف کرداروں میں اپنی جاندار پرفارمنس سے شائقین کے دل موہ لیے۔اپنے 37 برسوں پر محیط طویل فلمی کیریئر کے دوران انہوں نے 225 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں 140 اردو ، 49 پنجابی، 6پشتو اور ایک سندھی فلم شامل ہے۔

(جاری ہے)

ان کی مشہور فلموں میں آدمی،سات لاکھ،سہیلی،آنسو،دیوداس،باجی،سزا،گھونگھٹ، ثریا،ماں کے آنسو،بہشت، پہچان،اولاد اور ایک گناہ اور سہی شامل ہیں۔

انہوں نے فلمی کیریئر کے عروج میں ہی اداکار درپن سے شادی کر لی تھی جو پاکستانی فلمی تاریخ کی ایک کامیاب شادی ثابت ہوئی۔
نیئر سلطانہ اور درپن کی جوڑی فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی میں بھی سپرہٹ رہی ،دونوں کو سینما اسکرین کی حسین ترین جوڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔نیئر سلطانہ کو بجا طور پر ملکہ جذبات قرار دیا جاتا تھا۔باجی،سہیلی اور گھونگھٹ جیسی فلموں میں ہیروئن کے رول کرنے کے بعد ان کا دوسرا دور کریکٹر ایکٹریس کا تھا جس میں بھی انہوں نے خود کو منوایا اور ملکہ جذبات کہلائیں۔وہ 27اکتوبر 1992ء کو کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد راہی ملک عدم ہو گئی تھیں،انہیں ان کے شوہر درپن کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments