بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشڈیزائن کا عناصر

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین -
ڈیزائن کا عناصر
کسی کمرے میں موجود چیزوں کا تجزیہ کیا جائے تو وہاں فرنیچر کی سطح پالش اور روغن کی وجہ سے قالین کی روئیں دارسطح سے مختلف ہوگی
ڈیزائن کا عناصر
آرائش خانہ کی تشکیل و تزئین میں فرنیچر،فرشی اشیا،پردے،سجاوٹی چیزیں شامل ہوتی ہیں مگر ان سب کی موزوں تربیت اور خوبصورت ماحول کی تکمیل جن اجزاء پر منحصر ہے ان کو ڈیزائن یا خوبصورتی کے عناصر کہا جاسکتا ہے،چیزوں کی اپنی خوبصورتی اس باپ پر منحصر ہوتی ہیں کہ ان کا رنگ نمایاں خطوط،سطحی کیفیت اور شکل و بیئت کیسی ہے اور کسی جگہ جہاں بہت سی چیزیں یکجا رکھی جائیں وہاں کی خوبصورتی کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ رنگ ،خطوط سطحی کیفیت وغیرہ کے لحاظ سے ان چیزوں میں ہم آہنگی،توازن اور تسلسل موجود ہو۔ یہی ڈیزائن کے اصول مانے گئے ہیں ذاتی آرائش و زیبائش کا سوال ہو یا ماحول کی دل کشی کا،خوبصورتی کے عناصر سے واقفیت بہت ضروری ہے وہی چیز دل کو بھاتی ہے جو خوش رنگ ہو،اپنے مقصد کے لیے مکمل طور پر موزوں اور کارآمد ہو،موزونیت کے اعتبار سے مٹی کا ارزاں قیمت پیالہ شیشے کے قیمتی غیر موزوں بھدے پیالے سے زیادہ خوشنما اور کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔
خطوط: چیزوں کی ساخت سے ان کی شکل متعین ہوتی ہے۔مختلف شکلوں میں مخصوص خطوط واضح نظر آتے ہیں،شکل کے اعتبار سے چیزیں مستطیل،مربع،تکونی اور مخروطی شکل میں ہوتی ہیں،مربع مستطیل شکلوں میں افقی و عمودی خطوط نظر آتے ہیں،تکونی شکل کے خطوط آڑے ترچھے ہوتے ہیں اور گول و مخروطی شکل کے خطوط لہرائے ہوئے ہوتے ہیں۔خطوط اپنی خوبی کی وجہ سے چار گروہوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں کسی بھی چیز منظر یا ماحول میں بیک وقت کئی قسم کے خطوط نظر آسکتے ہیں،مختلف خطوط کو دیکھ کرنظر کی جنبش مختلف سمتوں کی طرف ہوتی ہے جس کی وجہ سے خطوط نمایاں ہونے پر نظر کی جنبش سے خاص کیفیت پیدا ہوتی ہیں۔
افقی خطوط: یہ خطوط زمین کے متوازی ہوتے ہیں ان پر نظر پڑنے سے نگاہ بائیں سے دائیں اور دائیں سے بائیں جانب جاتی ہیں نظر کی اس جنبش میں پھیلاؤ اور سکون کا احساس ہوتا ہے سونے کے کمرے میں جو آرام کی جگہ ہے ان خطوط کو دہرا کر ماحول میں سکون کی کیفیت کونمایاں کیا جاسکتا ہے،
عمودی خطوط:زمین سے اوپر کی طرف جاتے ہوئے خطوط دیکھ کر نظر کی جنبش اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر جاتی ہیں،اس جنبش میں حرکت کا احساس زیادہ ہوتا ہے جس طرح سیدھے کھڑے ہونے پر طاقت اور استحکام کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح جب کسی چیز میں یہ خطوط دہرائے جائیں تو اس سے قوت اور استحکام کا تاثر ملتا ہے۔
آڑے ترچھے خطوط:
سمت متعین نہ ہونے کی وجہ سے یہ خطوط کسی بھی طرف نظر کی جنبش پھیر سکتے ہیں،خطوط کے یوں جمع ہونے پر ہلچل کی کیفیت اجاگر ہوتی ہے۔
لہرائے ہوئے خطوط: ان خطوط میں لچک اور تسلسل ہوتا ہے ان خطوط کو اگر دہرایا جائے تو غیر رسمی قسم کا ماحول پیدا ہوتا ہے کسی ایک چیز یا نمونے میں یکساں خطوط بار بار دہرائے جائیں تو اکتاہٹ پیدا ہوگی،اور اگر مختلف خطوط یکجا کردیے جائیں تو حرکت کی زیادتی پریشان کن ہوجائے گی یوں اگر کسی ماحول میں ایسی چیزوں کی زیادتی ہوجائے جن میں یکساں خطوط ملیں تو ماحول میں یکسانیت کی زیادتی سے اکتاہٹ ہوگی۔اگر کئی مختلف خطوط اور شکلوں کی چیزیں رکھی جائیں تو ہلچل پیدا ہوگی اور سکون کی کمی ہوگی،مثال کے طور پر اگر ڈرائنگ روم میں صوفے اور کرسیوں کے درمیان کم جگہ پر تین مختلف نمونے کی میزیں رکھی جائیں تو ان کی موجودگی سے (خطوط کی وجہ سے) بے ترتیبی محسوس ہوگی،لیکن اگر اس جگہ ایک ہی نمونے کی ایک بڑی اور دو چھوٹی میزیں رکھی جائیں تو بے ترتیبی ختم ہوجائے گی اور خطوط کی یکسانیت کی وجہ سے ربط پیدا ہوجائے گا۔
سطحی کیفیت: قدرتی طور پر ہر چیز کی اپنی سطحی کیفیت ہوتی ہے،اکثر پالش،پینٹ یا کسی خاص فینش(Finish) کی وجہ سے قدرتی سطحی کیفیت کو بدل دیا جاتا ہے۔یا اس کو بڑھا چڑھا کر ظاہر کیا جاتا ہے،سطح کے اعتبار سے چیزیں ہموار،چکنی،مخملی اور کھردری وغیرہ ہوسکتی ہیں،کسی کمرے میں موجود چیزوں کا تجزیہ کیا جائے تو وہاں فرنیچر کی سطح پالش اور روغن کی وجہ سے قالین کی روئیں دارسطح سے مختلف ہوگی۔صوفے کے غلاف،پردوں اورقالین کی سطح بنت اور نمونے کی وجہ سے مختلف ہوگی۔گھریلو آرائشی اشیا کی ہونے کی وجہ سے چمکدار اور چکنی سطح کی ہوسکتی ہیں، مختلف قسم کی سطح پر روغن کا اثر مختلف ہوتا ہے۔خاص سطح کی چیزوں پر روشنی کے عکس کی وجہ سے اس جگہ چمک کی کمی یا زیادتی ہوسکتی ہے،دیواروں کی سطح پر اگر چکنا روغن کیا جائے تو وہاں روشنی پھیلے گی اور زیادہ محسوس ہوگئی۔اگر روغن میں چکنے کی جگہ نفیس سا کھردرا پن ہے تو روشنی کا عکس کم ہوگا اور ایسی جگہ کم روشن معلوم ہوگی،چیزوں کے درمیان ربط اور ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے چیزوں کی مخصوص سطح سے خاطر خواہ طور پر کام لیا جاسکتا ہے۔
شکل و ہیئت:ہر چیز کی شکل اور حجم خاص نمونے ،اونچائی،چوڑائی اور گہرائی سے متعین ہوتا ہے۔چیز کی مجموعی خوبصورتی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے مختلف حصوں میں تناسب ہو،کرسی کی چوڑائی،سیٹ کی گہرائی،ٹیک اور ہتوں کی لمبائی اونچائی سب میں ایک خاص توازن ہونا لازمی ہے ورنہ نہ تو کرسی آرام دہ ہوگی اور نہ ہی دیکھنے میں خوبصورت۔
رنگ:موجودہ صدی کو رنگ کی صدی کہا جاسکتا ہے۔جدھر بھی نظر پڑتی ہے،رنگارنگ چیزیں نظر آتی ہیں،رنگ انسان کے جذبات اور احساسات کو بہت لطیف طور پر اُجاگر کرتے ہیں مگرانہی نسبت کی وجہ سے کچھ رنگ خطرے،کچھ سکون کچھ حزن و یاس اور کچھ مسرت کی علامت بنتے ہیں،رنگوں کی اپنی خاصیت ہوتی ہیں۔کچھ رنگ گرم اور کچھ سرد کہلاتے ہیں ۔آگ اور سورج کی سرخی حرارت اور گرمی سے مطابقت رکھتی ہے۔خطوط اور سطح کے علاوہ چیزوں کا رنگ ان کو جاذب نظر اور خوبصورت بنانے کے لیے بڑا اہم ہوتاہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے