بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر کا فرنیچر اور اس کی ترکیب

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھر کا فرنیچر اور اس کی ترکیب
فرنیچر یہ ہے کہ وہ آرام کے لحاظ سے آرام دہ ہو دیکھنے میں خوشنما ہو،قیمت کی مناسبت سے مضبوط اور پائدار ہو اور جس جگہ یا جس کمرے میں استعمال کیا جارہا ہو اس کے لیے موزوں ہو۔
گھر کا فرنیچر اور اس کی ترکیب
بیٹھنے لیٹنے آرام کرنے اور چیزوں کو رکھنے کے لیے مختلف اقسام کا فرنیچر استعمال ہوتا ہے اچھے معیار کا فرنیچر یہ ہے کہ وہ آرام کے لحاظ سے آرام دہ ہو دیکھنے میں خوشنما ہو،قیمت کی مناسبت سے مضبوط اور پائدار ہو اور جس جگہ یا جس کمرے میں استعمال کیا جارہا ہو اس کے لیے موزوں ہو۔آرام دہ فرنیچر کا انحصار اس کی ساخت پر ہوتا ہے چونکہ فرنیچر کی مختلف چیزیں انسان کو آرام پہنچانے اور کام کو آسان بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں اس لیے فرنیچر کی ساخت انسانی جسم کی ساخت کی مناسبت سے ہونی چاہیے چنانچہ فرنیچر کی اونچائی،لمبائی اور گہرائی کے متعلق کچھ معیار مقرر ہیں مثلاً صوفوں اور آرام کرسیوں وغیرہ کی سیٹ کی اونچائی 32 انچ ہوتی ہیں اگر یہ اونچائی دو یا تین انچ کم ہوگی تو گھٹنوں پر زور پڑے گا اور اگر اونچائی زیادہ ہوگئی تو پاؤں زمین پر صیح طور پر نہیں ٹکیں گے۔فرنیچر کے ڈیزائین کے متعلق مغربی ممالکا میں وسیع پیمانے پر تحقیق اور تجربات ہوتے رہتے ہیں اور جو فرنیچر سائنسی معلومات کی بنا پر صیح ناپ نمونہ اور مناسب لکڑی اور دوسری خام اشیاء سے بنایا جاتا ہے وہ آرام دہ بھی ہوتا ہے اور خوبصورت بھی۔ہر گھر میں تھوڑا بہت فرنیچر ضرور ہوتا ہے گھر کو آرام دہ بنانے اور سجانے کا ایک اہم جز فرنیچر ہے عموماً فرنیچر کی مختلف اشیاء وقتا ًفوقتاً خریدی جاتی ہیں ،گراں قیمت ہونے کی وجہ سے بیک وقت سارے گھر کی ضرورت کا فرنیچر ایک ساتھ نہیں خریدا جاسکتا اس لیے اگر اصولی طور پر فرنیچر کے متعلق پلاننگ کرکے خریداری کے اصولوں کو اپناتے ہوئے چیزیں خریدی جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔استعمال کے لحاظ سے فرنیچر کی گروہ بندی مندرجہ ذیل طریقے پر کی جاسکتی ہے:
بیٹھے کا فرنیچر:صوفہ سیٹ،کرسیاں،سٹول،مونڈھے،پیڑھیاں وغیرہ۔
کھانے کے کمرے کا خاص فرنیچر کھانے کی میز سائیڈ بورڈ،دیوار میں نصب الماریاں وغیرہ۔
سونے یا آرام کرنے کا خاص فرنیچر چارپائیاں،مسہریاں،پلنگ،تخت وغیرہ۔دیگر استعمال کا فرنیچر:چھوٹی میزیں(Beside Table) کپڑے کی الماریاں(Wardrobes) میز،ڈیسک،الماری،شیلف وغیرہ۔
بیٹھنے کا فرنیچر: بیٹھنے کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں میں کئی ایسی ہوتی ہیں جن میں پیچھے کی اور ہاتھ رکھنے کی ٹیک ہوتی ہیں اور کچھ میں پیچھے ٹیک ہوتی ہیں،گھر کے مختلف کام بیٹھ کر کیے جاتے ہیں کام کی نوعیت کے لحاظ سے بیٹھنے کے لیے مختلف قسم کی کرسیاں استعمال ہوتی ہیں مثلاً کھانے کی کرسی،ڈرائینگ روم میں استعمال ہونے والی کرسی سے مختلف ہوتی ہیں کرسی کا انتخاب کرتے وقت مندرجہ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہیں۔
بناوٹ میں مضبوط،وزن میں ہلکی اور نمونے میں خوشنما ہو۔سیٹ کی اونچائی اتنی ہوکہ بیٹھنے والے کے پاؤں فرش پر آرام سے ٹک سکیں سیٹ کی گہرائی اتنی ہوکہ گھٹنے سے نچلے حصے پر دباؤ نہ پڑے اور پشت کے ساتھ آسانی سے ٹیک لگائی جاسکے۔سیٹ کی چوڑائی ایسی ہوکہ آسانی سے پہلو بدلا جاسکے کرسی کی پشت اور گدی میں تقریباً 95 ڈگری کے زاویے کا فرق ہونا چاہیے ورنہ ٹیک لگانے سے کمر میں دباؤ پڑے گا۔
پیڑھی اور چوکیاں: بازار میں دستیاب پیڑھی اور چوکی اونچائی میں کم ہوتی ہیں مگر مرضی کے مطابق ان کو اونچا بنوایا جاسکتا ہے بہت نیچی پیڑھی یا چوکی پر بیٹھنے سے گھٹنوں اور ٹانگوں پر دباؤ پڑتا ہے باربار اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوتا ہے پیڑھی اور چوکی میں ہاتھ کی اور پیچھے ٹیک نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر بیٹھنے سے تھکان ہوجاتی ہیں کام کرنے کام کرنے کی سطح کی اونچائی کی مطابقت سے پیڑھی اور چوکی کی اونچائی متعین کرنی چاہیے۔
پیڑھیاں: لکڑی کے پائے اور فریم پر بان نواڑ یا پلاسٹک سے بنائی ہوتی ہیں پیڑھیاں لوہے کے ہلکے فریم اور پلاسٹک کے تار سے بنی ہوئی بھی بازار میں ملتی ہیں اور کئی سائز میں دستیاب ہیں۔
چوکیاں: لکڑی کی ہوتی ہیں ضرورت کے مطابق کئی سائز میں بنوائی جاتی ہیں بیٹھنے کے سطح لکڑی کی ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر بیٹھنے پر تھکان ہوجاتی ہے،خاص طور پر غسل خانوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
مونڈھے: بازار میں دو طرح کے مونڈھے ملتے ہیں پشت والے اور بغیر پشت کے یہ بان اور سرکنڈوں سے بنائے جاتے ہیں ۔مونڈھے کم قیمت ہوتے ہیں مگر زیادہ پائدار نہیں ہوتے پیڑھیاں اور چوکیاں عموماً باورچی خانے میں استعمال کی جاتی ہیں مگر مونڈھے گھر کے مختلف حصوں میں استعمال کیے جاسکتے ہیں مونڈھوں پر گدی اور غلاف چڑھا کر انہیں زیادہ خوشنما بنایا جاسکتا ہے ہتھے والے مونڈھوں کے ہتھوں پر بھی غلاف چڑھایا جاسکتا ہے۔
سٹول:عموماً لکڑی کا ہو تا ہے اور اکثر تین پاؤں کا بنایا جاتا ہے بیٹھنے کے علاوہ چیزیں رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے عام طور پر سٹول کی اونچائی کرسی سے زیادہ ہوتی ہیں لیکن اگر سٹول خاص طور پر بیٹھنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کی اونچائی کم کروا لینی چاہیے، سٹول کی سیٹ پلاسٹک تار سے بنوائی جاسکتی ہیں جگہ کی قلت ہو تو کھانے کے کمرے میں کرسی کی جگہ سٹول استعمال کیے جاسکتے ہیں کیونکہ کھانا کھانے کے بعد ان کو میز کے نیچے مکمل طور پر کھسکایا جاسکتا ہے۔ڈرائینگ ٹیبل کے ساتھ بھی سٹول استعمال کیے جاتے ہیں یہ سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں سونے کا کمرا اگر چھوٹا ہے تو وہاں بھی چھوٹے سائز کے سٹول بیٹھنے کے لیے رکھے جاسکتے ہیں۔
صوفہ سیٹ: صوفہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گدیلا کے ہوتے ہیں عموماً صوفے کی سیٹ پشت کی ٹیک ہتھے وغیرہ گدیلے کے ہوتے ہیں صوفے کی سیٹ نسبتاً چوڑی اور گہری ہوتی ہے نمونے کے اعتبار سے صوفہ کئی طرح کا ہوتا ہے صوفہ سیٹ میں عموماً ایک درمیانی بڑی اور دو چھوٹی کرسیاں ہوتی ہیں یعنی تین پیش مل کر پورا SET بنتا ہے۔نئی وضع کے صوفے پرانے نمونے کے صوفوں سے کئی طرح سے مختلف ہیں۔صوفے کی وضع اور سائز کمرے کی خوشنمائی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے کمرا چھوٹا یا درمیانے سائز کا ہو لیکن صوفہ سائز میں بڑا اور نمونے کے اعتبار سے بھاری پن کی کیفیت پیدا کرے توکمرا زیادہ چھوٹا اور گھرا ہوا معلوم ہوگا صوفے پرچڑھے ہوئے کپڑے رنگ اور نمونے کا اثر بھی بہت نمایاں ہوتا ہے۔صوفہ سیٹ کے علاوہ ڈرائینگ روم میں کئی اور قسم کی کرسیاں وغیرہ ہوتی ہیں مثلاً کوچ،لارنج سیٹی وغیرہ۔گھر میں استعمال کی نوعیت کے لحاظ سے کئی قسم کی کرسیاں ہوتی ہیں آرام سے بیٹھنے اور بات چیت کرنے کے لیے آرام کرسیاں بہتر ہیں۔کھانے کے کمرے اور پڑھنے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے استعمال ہونے والی کرسیاں نسبتاً مختلف ہوتی ہیں کرسیوں میں ہاتھ کی ٹیک ہونا ضروری نہیں اکثر کرسیوں کی سیٹ بید ،نواڑ اور پلاسٹک کی تار سے بنی جاتی ہیں اور بعض کی سیٹ اور پشت پر کپڑا منڈھا ہوتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے