بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر کے پردے

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھر کے پردے
پردوں کے صیح انتخاب کے لیے پارچہ جات کے ریشے،بنت نمونے اور رنگ سے واقفیت لازمی ہے
گھر کے پردے:
درون خانہ آرائش میں پردے بہت اہم جز ہیں پردوں کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان سے کس حد تک خلوت یا تخلیے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔پردے،دھوپ،روشنی اور گرد کو بھی روکتے ہیں،ان کی افادیت سے قطع نظر ان کی موجودگی سے دیواروں کی سادگی خوبصورتی میں بدل جاتی ہیں پردوں کے صیح انتخاب کے لیے پارچہ جات کے ریشے،بنت نمونے اور رنگ سے واقفیت لازمی ہے،پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت سرعت کے ساتھ ترقی کی منازل طے کررہی ہے،گذشتہ چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے لاتعداد قسم کے پارچہ جات گھر میں استعمال کے لیے ملنے لگے ہیں۔قیمت کے اعتبار سے پردوں کے لیے ایک روپیہ گز سے لے کر پچیس تیس بلکہ اس سے بھی مہنگا کپڑا دستیاب ہے بنت اور رنگ کے لحاظ سے سستا کپڑا نسبتاً کم پائدار ہوتا ہے مگر جہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پردے کی مد میں کیا خرچ کیا جاسکتا ہے؟چاہے کسی ایک کمرے کے لیے پردے خریدنا ہوں پھر بھی دس پندرہ گز کپڑا درکار ہوتا ہے اب اگر ڈھائی تین روپے گز کا بھی کپڑا خرید ا جائے تو اس مد میں کافی خرچ ہوجائے گا اس لیے ضروری ہے کہ کپڑے کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کرکیا جائے۔پردوں کے لیے جو پارچہ جات دستیاب ہیں ان میں سوتی کپڑا عام ہے ریشمی پارچہ جات نسبتاً زیادہ مہنگے ہوتے ہیں،گذشتہ چند سالوں میں پردوں کے لیے کچھ پارچہ جات ایسے بھی بنائے جارہے ہیں جن میں جھوٹ یا رے آن کی آمیزش ہوتی ہے،جوٹ کے پردے بھی کئی نئی بنت میں ملنے لگے ہیں،بنت کے لحاظ سے عام سوتی کپڑا سادہ بنت کا ہوتاہے پردوں اورصوفوں کے لیے استعمال میں لائے جانے و الے پارچہ جات کا دھاگہ نسبتاً موٹا ہوتا ہے۔کھڈی پر بنا ہوا کچے دھاگے کا کھدر قیمت میں ارزاں ہوتاہے مگر پائداری کے لحاظ سے اچھا ثابت نہیں ہوتا۔عموماً پردوں کے پارچہ جات میں بنت میں نمونہ بنایا جاتا ہے مگر اکثر کم قیمت پارچہ جات پر چھپائی سے بھی نمونے بنادیے جاتے ہیں۔چھپائی والے پارچہ جات کا الٹا سیدھا بہت مختلف ہوتاہے اور اگر ایسے کپڑے کے پردے بغیر استر کے لگائے جائیں تو کسی ایک طرف بہت بھدے معلوم ہوتے ہیں چنانچہ بہتر یہ ہے کہ پردوں کے لیے بھاری دبیز پارچہ جات کا انتخاب کیا جائے اور اگر بجٹ اجازت دے تو پردوں میں استر ضرور لگا لینا چاہیے کیونکہ اس طرح دبیز ہوجانے پر پردے روشنی زیادہ بہتر طور پر روک سکتے ہیں اور ان کی پائداری بھی بڑھ جاتی ہیں۔پردے اگر صرف آرائش کے لیے لگائے جارہے ہیں توجالی یا باریک کپڑا مناسب رہے گا،مگر ایسے پردے ان دروازوں اور کھڑکیوں پر ڈالے جاسکتے ہیں جو باہر کو نہیں کھلتے یا جہاں پردوں کی مدد سے تخلیے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اکثر بڑی دکانوں میں پردوں کے پارچہ جات لٹکا کر رکھے جاتے ہیں تاکہ گاہک کو رنگ نمونے اور پردے کے جھکاؤ کا صیح اندازہ ہوسکے لیکن اگر ایسا نہیں ہے توتھان کھلوا کر اچھی طرح دیکھ لینا چاہیے۔پردوں کے پارچہ جات میں طرح طرح کی پھول پتیاں شکلیں اور نمونے ملتے ہیں کچھ نمونے بہت واضح ہوتے ہیں یعنی پھول پتیاں چیزوں کی شکلیں بالکل اصلی کیفیت میں ہوتی ہیں کچھ نمونے بالکل واضح نہیں ہوتے بلکہ صرف رنگ اور خطوط کے امتزاج سے تشکیل پاتے ہیں اکثر قلیدسی نمونے بھی عام ملتے ہیں جو بنت میں بنائے جاتے ہیں اس کے علاوہ دھاری دار کپڑا بھی دستیاب ہے۔اوسط قیمت کے پردوں کے پارچہ جات کا انتخاب مشکل کام ہے کیونکہ عام طور پر ان کپڑوں میں نمونوں اور بے جوڑ رنگوں کی بھرمار ہوتی ہیں ان پارچہ جات میں شوخ اور بھڑکیلے رنگ اکثر اس طرح استعمال کیے جاتے ہیں کہ مجموعی کیفیت بہت غیر تسلی بخش ہوتی ہیں۔پردوں کے پارچہ جات کا چناؤ کرتے وقت چند ہدایات یہ ہیں کہ کمرے کا سائز دیواروں کا رنگ صوفہ،قالین وغیرہ کا رنگ نمونے اور کمرے کی سجاوٹی اشیا کی بناوٹ کو مدنظر رکھنا چاہیے۔بڑے کمروں یا ہال کے لیے شوخ رنگ میں پھیلے پھیلے نمونے کے پردے زیادہ مناسب رہتے ہیں کمرے چھوٹے ہوں تووہاں سادہ رنگ کے پردے زیادہ خوشنما معلوم ہوں گے۔خواتین اور لڑکیوں کے کمرے کے لیے چھوٹے نازک نمونے کے پردے بہتر ثابت ہوں گے یا پھر پتلی دھاری کے پردے بھی اچھے لگیں گے،مرد حضرات یا لڑکوں کے کمرے میں اس سے مختلف نمونے بہتر ہوں گے، پردوں پر بنے ہوئے نمونے یا پردے کے پارچہ جات کی زمین کا رنگ دیواروں کے رنگ سے ہم آہنگ ہو تو تسلسل کی کیفیت زیادہ نمایاں ہوگی اکثر پردوں اور صوفہ کور کے لیے دو بالکل مختلف نمونے اور رنگ کے پارچہ جات کا انتخاب کرلیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کمرے میں رنگ اور نمونے کی جنگ سی چھڑ جاتی ہے،اس قسم کی کیفیت سے ہر حال میں بچنا چاہیے اگر صوفے پر نمونے والا کپڑا چڑھا ہوا ہو تو یا تو پردوں کے لیے بھی اسی کپڑے کا انتخاب کریں اور اگر یہ ممکن نہیں تو سادہ پردے ایسے رنگ میں خریدیں جو صوفے کے نمونے میں کسی نہ کسی طرح موجود ہوں لیکن اگر پردوں دیواروں اور صوفے کے رنگ سے کسی خاص رنگ کا امتزاج اجاگرکرنا مقصود ہے تو پھر اسی لھاظ سے پردوں کے رنگ کا انتخاب کریں،پردے مختلف طریقوں سے دروازوں اور کھڑکیوں پرلٹکائے جاتے ہیں عموماً ہردے پر رنگ(Ring) لگا کر یہ رنگ ڈنڈے میں ڈال دیے جاتے ہیں اس کے علاوہ اب ایک خاص قسم کی ریلنگ(Railing) بہت استعمال ہوتی ہیں پردوں کی خوبصورتی کا اصل انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح کے سیئے گے ہیں اور ان کو کس طرح لٹکایا گیا ہے۔پردے گھر میں سیئے جائیں یا درزی سے بنوائے جائیں ان کا صیح ناپ لینا ضروری ہے۔بہتر یہ ہے کہ ہر کھڑکی اور دروازے کا ناپ الگ الگ لے کر اس کے مطابق پردے سلوائے جائیں کیونکہ دروازے کھڑکیوں میں انچ ادھ انچ کا فرق بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے ورنہ ایک ناپ کے پردے ہوسکتا ہے ایک کھڑکی پر ذرا نیچے اور دوسری پر ذرا اونچے معلوم ہوں،پردوں کا صیح ناپ (Rod) یا ریلنگ لگانے کے بعد لینا چاہیے۔پردوں کا کپڑااگر سکڑنے کا امکان ہو تو اسے پہلے سے بھگو کر سکیڑلینا چاہیے اور نیچے تہہ کے لیے ساڑھے تین یا چار انچ کپڑا زیادہ ہونا چاہیے،اچھی چنت کے لیے دروازے اور کھڑکی کی چوڑائی کے لحاظ سے دوگنا یا اس سے بھی زیادہ کپڑا استعمال کرنا چاہیے۔ایک چوڑائی کے پردے میں بہت کم چنت ہوتی ہے یوں ڈیڑھ گنا چوڑائی کے پردے بھی ڈالے جاسکتے ہیں ،کپڑے میں اگر تہہ لگتی ہے تو تہہ کا کپڑا بھی پہلے سکیڑلینا چاہیے اور چوڑان و لمبا ن میں اس کی ناپ اصل پردے سے مختلف ہوگی مثلاً تہہ کا کپڑا چوڑان میں ایک انچ کم ہونا چاہیے اور لمبان میں ایک انچ زیادہ تاکہ اس کو دبا کو سلائی کی جاسکے۔پردوں کا ایسا کپڑا جس کے کے نمونے کا جوڑ ملاتا ہو اسے نمونے کے لحاظ سے کچھ زیادہ خریدنا چاہیے تاکہ پردے کے کئی حصوں میں اگر نمونے کو ملانے کی خاطر تھوڑا سا کپڑا ضائع ہوجائے تو کوئی فرق نہ پڑے دو حصوں میں بے شمار نمونے ناگوار معلوم ہوتے ہیں۔کمرے کی سجاوٹ میں پردوں کے رنگ اور نمونے کا بہت اثر پڑتا ہے اس لیے پردوں کے لیے کپڑے کا انتخاب کرنے اورپردے سلواتے وقت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ پردوں کو صاف ستھرا رکھنا اور اچھی حالت میں لٹکانا دوسرے ایسے امور ہیں جو ہر حال میں مدنظر رکھنے چاہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے