بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر کی آرائش میں تسلسل

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین -
گھر کی آرائش میں تسلسل
ہر وہ چیز جو اپنے اندر کسی طرح کی کشش رکھتی ہے نظر کو اپنی طرف راغب کرتی ہے
گھر کی آرائش میں تسلسل:
دل کی مسلسل حرکت دن رات کا بدلنا موسم کا تغیرو تبدیل تسلسل کی مثالیں ہیں ،چیزیں ایسی ترتیب سے رکھی جائیں کہ ان میں یکسانیت اور تبدیلی بار بار دہرائی جائے تو ماحول میں تسلسل کی کیفیت پیدا ہوگئی۔مختلف چیزوں میں کسی ایک رنگ کی موجودگی ان چیزوں میں تسلسل کی کیفیت پیدا کردے گی اور لے میں تسلسل اور ہم آہنگی سے آواز موسیقی کا روپ دھار لیتی ہے،گھر کے ماحول میں تسلسل کی موجودگی سے ایک خاص دلکش کیفیت پیدا ہوتی ہیں،ہر وہ چیز جو اپنے اندر کسی طرح کی کشش رکھتی ہے نظر کو اپنی طرف راغب کرتی ہے،دکان پر سجی ہوئی اشیاء اپنی لاگ نوعیت کی وجہ سے دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں۔مگر جب گھر میں یہی اشیاء اسی طرح رکھ دی جائیں تو ماحول میں کوئی خاطر خواہ اثر پیدا نہیں ہوتاکیونکہ میں ماحول میں موثر طور پر خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے آرائش کی چیزوں میں اور ان کی ترتیب میں تسلسل لازمی ہے،ظاہر ہے اس کے لیے مخصوص اشیاء کا چناؤ کرنا پڑے گا اور ان کو خاص ترتیب سے رکھنا ہوگا۔قالین،پردے،صوفے اور سجاوٹی اشیاء میں مختلف شدت کا کائی ایک رنگ مختلف مقدار میں استعمال کیا گیا ہو تو ماحول میں اس کی وجہ سے تسلسل پیدا ہوجائے گا۔جب نظر مختلف چیزوں کی طرف ربط و ضبط کے ساتھ متوجہ ہو تو چیزوں میں ایک تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔نظر کی ایک خاص جنبش کی وجہ سے خوشگوار کیفیت محسوس ہوتی ہے۔قالین دری پردے اور صوفے گراں قیمت ہونے کی وجہ سے بار بار نہیں بدلے جاسکتے مگر کم قیمت اشیاء کا چناؤ سوجھ بوجھ کے ساتھ اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ ان کی وجہ سے موجودہہ اشیاء میں تسلسل پیدا ہوجائے۔فرض کیجیے صوفہ یا تخت دیوار سے لگا کر رکھا گیا ہے اور صوفے کے دونوں طرف دروازے پر پردے لگے ہوئے ہیں،پردے اور صوفے کے رنگ میں کوئی مطابقت نہیں اور اس لیے تسلسل کی کمی ہے،اب اگر پردے کا کپڑا دو تین کشنوں پر چڑھا کر یہ کشن صوفے پررکھ دیے جائے گا یا فرض کیجیے کہ دری اور صوفے کے رنگ میں مطابقت نہیں ہے اور تسلسل کی کمی محسوس ہوتی ہیں تو صوفے والی دیوار پر کسی ایسی تصویر کا انتخاب کریں جو میں دری کے رنگ یا ڈیزائین ہوں تاکہ تسلسل کی کیفیت جو دری اور قالین کے درمیان پیدا ہو،اس سے صوفے کی بھی درجہ بندی ہوجائے،تسلسل کی کیفیت اجاگر کرنے کے لیے ایسی چیزوں کو دہرانا چاہیے جو شکل رنگ یا سطحی کیفیت کی وجہ سے یکساں ہوں اور نمایاں بھی۔معمولی اور بے اثر چیزوں کو دہرانے سے بچنا چاہیے کیونکہ بے اثری کی وجہ سے تسلسل کی کیفیت پیدا نہیں ہوگی،البتہ اکتاہٹ ضرور پیدا ہوسکتی ہیں۔
گھر کی آرائش میں فوقیت: کسی کمرے میں داخل ہوتے ہی جب یہ کیفیت محسوس ہو کہ کسی ایک خاص چیز نے آپ کو پکارا یا آپ کی ساری توجہ اپنی طرف مرکوز کرلی تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوسری باقی چیزوں پر اس چیز کی فوقیت حاصل ہے ،آرائشی اشیا ء میں ماحول میں خوبصورتی کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے بشرطیکہ ان کا انتخاب اور ترکیب صیح کی جائے۔ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے ہی اگر آپ کو سامنے کی دیوار پر آرائشی اشیاء کی چونکا دینے والی ترتیب فن کا کوئی نادر نمونہ یا پھولوں کی خوشنما سجاوٹ نظر آجائے تو ایک کمرے کے ماحول میں خوبصورتی کا احساس بڑھ جاتا ہے،سونے کے کمرے میں معمولی پلنگ پوش پر رکھے ہوئے کشن یا تکیے کا غلاف اپنے رنگ یا کڑھائی کے دلکش نمونے کی وجہ سے آپ کی ساری توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے اور پلنگ ہوش کی وجہ سے آئے دن نہیں بدلی جاسکتیں مگر ایک چھوٹا قالین کا ٹکرا مناسب جگہ پر ڈال کر قالین یا دری کے بھدے پن کی پردہ پوشی کی جاسکتی ہے اور اس جگہ فوقیت کا احساس پیدا کیا جاسکتا ہے۔بہر حال اگر آمدنی ،افراد خانہ کی پسند اور شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چیزوں کا انتخاب اور ترتیب اس طرح کریں کہ ان کی موجودگی سے ماحول میں تناسب پیدا ہو۔ترتیب میں ہم آہنگی،توازن اورتسلسل وغیرہ نمایاں ہوں تو گھر یقینا خوبصورت اور آرام دہ بن جائے گا۔
گھر کی آرائش میں رنگت:رنگوں کا استعمال کرتے وقت رنگوں کی خصوصیات کو مدنظر رکھ کر یامقصد طور پر رنگ استعمال کیے جائیں تو ماحول میں مختلف قسم کی کیفیت پید اکی جاسکتی ہیں ۔رنگوں کے استعمال کے لیے کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی کیونکہ رنگ کا تعلق ذاتی پسند سے ہے اور چیزیں لاتعداد رنگوں میں دستیاب ہیں۔ایک جیسے رنگ میں انیس بیس کا فرق کہیں بھلامعلوم ہوتا ہے اور کہیں بھدا لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ استعمال کی نوعیت کے لحاظ سے سونے کے کمرے میں سبز،نیلے،اودے ہلکے گلابی کریم اور پستی رنگ جچتے ہیں جب کہ ڈرائنگ روم میں نسباً شوخ اور گرمی کی کیفیت رکھنے والے رنگ زیادہ خوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔کچھ ماہرین فن نے تین اورکچھ نے پانچ رنگوں کو بنیادی قرار دیا ہے،نیلا،زرد اور سرخ بنیادی رنگ کہے جاتے ہیں کیونکہ ان تینوں کی آمیزش سے مختلف رنگ بن جاتے ہیں۔مثال کے طورپرنیلا اور زرد برابربرابر ملائیں جائے تو سبز اور سرخ زرد و سرخ برابر مقدار میں ملائے جائیں تو نارنجی رنگ بن جاتا ہے۔اسی طرح نیلا اور سرخ رنگ برابر مقدار میں ملایا جائے تو اودارنگ بن جاتا ہے،اس اعتبار سے سبز،نارنجی اور اودے رنگ کو ثانوی رنگ کہا گیا ہے۔بنیادی و ثانوی آس پاس کے رنگ اگر مخلتف مقدار میں ملائے جائیں تو لاتعداد نئے رنگ بنتے جائیں گے۔رنگ میں پانی کی آمیزش اس کی اصل کیفیت کو ہلکا کردیتی ہے۔اس بدلتی کیفیت کو رنگ کو قدر کہا جاسکتا ہے پانی کی مقدار کم و بیش کرنے پر رنگ کی اصل قدر گھٹائی بڑھائی جاسکتی ہے۔اس طرح جب رنگ میں سفیدہ یا سیاہی ملادی جائے تو رنگ کی اصلیت بدل جائے گی رنگ میں سفیدی یا سیاہی ملانے سے جو تبدیلی پیدا ہوتی ہے اسے رنگ کی شدت کہا جاتاہے۔گویا کوئی بھی اصل رنگ دو طرح سے یعنی قدر اور شدت سے مختلف نظر آئے گا،درون خانہ کی چیزوں میں بہت سے رنگ نظر آتے ہیں لیکن اگر مختلف چیزوں میں رنگوں کی وجہ سے مطابقت،ہم آہنگی اور تسلسل وغیرہ کی کیفیت نہ ہو تو ماحول میں بھدا پن نمایاں ہوجاتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے