بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشگھر کی دیواریں ،دروازے، کھڑکیاں اور پردے

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھر کی دیواریں ،دروازے، کھڑکیاں اور پردے
دیواروں پر تصاویر وغیرہ لگا کر دیوار کی سطح کی اکتاہٹ کم کی جاسکتی ہیں لیکن اگر کمرے کی ہر دیوار پر کچھ نہ کچھ آویزاں کردیا جائے تو سجاوٹ کی زیادتی سے اکتاہٹ پیدا ہونے کاامکان ہوتا ہے
گھر کی دیواریں ،دروازے، کھڑکیاں اور پردے:
کمرے کے احاطہ بندی دیواروں چھت اور فرش سے ہوتی ہے،کمرے کی ایک یا دو دیواریں ایسی ضرور ہوتی ہیں جن میں دروازے اور کھڑکیاں ہوتی ہیں،جس کمرے میں آتش دان ہو وہاں ایک دیوار آتش دان سے گھر جاتی ہیں اکثر دیواروں میں الماریاں شلف وغیرہ بنے ہوتے ہیں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کمرے کی دو دیواریں بالکل سادہ ہوں،لیکن اس کے باوجود کمرے کی مجموعی ماحول پر دیواروں کی وسعت کا بہت اثر پڑتا ہے،دیواریں رقبہ کے لحاظ سے کمرے کی مکمل وسعت کا دو تہائی حصہ ہوتی ہیں کمرے کی مجموعی سجاوٹ پر دیواروں کے رنگ اور سجاوٹ کا بڑا اثر ہوتا ہے،دیواروں پر کیے گئے رنگ مناسب ہوتو ماحول میں ہم آہنگی اور تسلسل پیدا ہوسکتا ہے۔درون خانہ کی دیواروں کی سطح عموماً پلاسٹر کرکے ہموار کردی جاتی ہے اور پھر اس پر سفیدی یا رنگ و روغن کروایا جاتا ہے دلچسپی پیدا کرنے کی خاطر اکثر آتش دان والی دیوار اینٹوں،پتھر ایا لکڑی کی بنوا دی جاتی ہیں،دیواریں چونکہ کمرے کی سجاوٹ اور فرنیچر کے لیے پس منظر کا کام دیتی ہیں،اس لیے دیواروں کا رنگ اور سطحی کیفیت مدھم ہونی چاہیے تاکہ آزادی کے ساتھ مختلف رنگ اور نمونے کی چیزیں سجاوٹ کے لیے رکھی جاسکیں دیواروں کے پاس رکھے ہوئے فرنیچر کی وجہ سے ایک خاص اونچائی تک دیوار کی سطح نظرسے اوجھل ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی دیواروں کا ایک بڑا رقبہ نظر آتا رہتا ہے،جسے سجانے کے لیے تصاویر اور دوسری لٹکانے والی آرائش اشیا استعمال کی جاتی ہیں،دیواروں پر تصاویر وغیرہ لگا کر دیوار کی سطح کی اکتاہٹ کم کی جاسکتی ہیں لیکن اگر کمرے کی ہر دیوار پر کچھ نہ کچھ آویزاں کردیا جائے تو سجاوٹ کی زیادتی سے اکتاہٹ پیدا ہونے کاامکان ہوتا ہے،بہتر یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر صرف کسی ایک دیوار کی سجاوٹ کی جائے،اصولی طورپر کمرے کی دیواروں پر مدھم رنگ کروانا چاہیے،دیواروں کے رنگ کا انتخاب کرنے کے لیے گھر کے افراد کی ذاتی پسند کا خیال رکھنا چاہیے اور یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ کمرہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا،پاکستان میں دیواروں پر کرنے کے لیے طرح طرح کے رنگ و روغن دستیاب ہیں اور ان کو مختلف طرح سے دیواروں پر لگایا جاتا ہے لاتعداد رنگوں کے پوڈر اور روغن کئی مختلف طریقوں سے استعمال کیے جاتے ہیں،ایک اچھا پینٹر اس بات کا مشورہ دے سکتا ہے کہ کتنے بجٹ میں کتنے رقبے پر کس قسم کا پینٹ کیا جاسکتا ہے اور اندازاً خرچ کتنا ہوسکتاہوگا،دیواروں دروازوں اور کھڑکیوں کے لیے رنگ کا انتخاب کرنے کے لیے اگر رنگوں کے کارڈ کا مشاہدہ کرلیا جائے تو بہترہے رنگوں کے کارڈ دکانوں پر دستیاب ہوتے ہیں۔اوسط اور چھوٹے سائز کے کمرے میں دو دیواروں پر مختلف رنگ کروانے سے پرہیز کرنا چاہیے اگر کمرہ مستطیل ہے اور لمبائی بہت زیادہ ہے تو مقابل کی دونوں چھوٹی دیواروں پر مختلف رنگ کروادینے سے کمرے کی لمبائی اور چوڑائی میں تناسب پیدا کیا جاسکتا ہے۔چھوٹے اور اوسط سائز کے کمرے کی کھڑکیوں اور دروازوں پر گہرے رنگ کا مختلف روغن کروانے سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ رنگ کے اختلاف کی وجہ سے جگہ میں تنگی کا احساس بڑھ جائے گا،اس کے برعکس اگر دروازوں اور کھڑکیوں کا روغن دیوار کے روغن کی طرح ہوگا تو جگہ میں وسعت محسوس ہوگی،مختلف رنگ روشنی کی مختلف مقدار منعکس کرتے ہیں ایسے کمرے جن میں روشنی کم آتی ہو ان میں ہلکے رنگ بہتر رہیں گے اور وہ کمرے جن میں روشنی زیادہ ہوتی ہیں ان میں مٹیالے اور گہرے رنگ روشنی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہوں گے،تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ رنگ و روغن کرنے والے کاریگر گہرہ رنگ کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں کیونکہ گہرے رنگ میں کئی قسم کے عیب چھپ جاتے ہیں،اس لیے جس وقت رنگ کیا جارہا ہو،خود اپنی پسند کے مطابق کسی تھوڑی سی جگہ پر رنگ کروا کر کاریگر کو نمونے کے طور پر رنگ کا صیح شیڈ دکھا دینا چاہیے،رنگ کے صیح شیڈ کا اندازہ رنگ سوکھنے پر ہوسکتا ہے،اس لیے نمونے کے رنگ کو اچھی طرح سے سوکھ جانے پر پسند کرنا چاہیے،وہ افراد جو مکان بنانے کے بعد اس پر پہلی دفعہ رنگ و روغن کروا رہے ہوں ان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ نئی تعمیر شدہ دیوار مخصوص رنگ و روغن کے لیے صیح طور پر تیار کرلی گئی ہے،اس سلسلے میں ماہر کاریگر کا مشورہ درکار ہیں،ایسی دیواریں جن میں دروازے یا کھڑکیاں کھلتی ہوں کئی حصوں میں بٹی معلوم ہوتی ہیں،یوں ان دیواروں پر عمودی خطوط نمایاں نظر آتے ہیں لیکن پردے لٹکانے کے بعد عمودی افقی خطوط اتنے واضح نہیں رہتے کیونکہ پردوں کی چنت اور جھکاؤ میں نرمی ہوتی ہیں کمرے کے ماحول پر پردوں کے رنگ نمونے اور ان کو لٹکانے کے انداز کا بہت اثر ہوتا ہے،دیواروں کے کئی عیب پردوں کی مدد سے نظر سے اوجھل کیے جاسکتے ہیں مثلاً کوئی ایسا دروازہ یا الماری جو استعمال نہیں ہوتی یا کم استعمال ہوتی ہیں وہاں پردہ ڈالنے سے زیادہ خوشنمائی پیدا ہوجاتی ہے۔ایک سے دوسرے کمرے میں کھولنے والے دروازے عموماً دو پٹ کے ہوتے ہیں لیکن ایسے درمیانی دروازے ایک پٹ کے بھی ہوسکتے ہیں،دروازے جس طرف کھلتے ہیں اس طرف کافی جگہ گھیرتے ہیں،لیکن پردے کمروں کے درمیانی دروازوں کے دونوں طرف آسانی سے ڈالے جاسکتے ہیں،کھڑکیاں جو کمرے میں باہر کی طرف کھلتی ہیں ان پر اندر کی طرف والی دیوار پر پردے ڈالے جاتے ہیں،مگر عموماً کھڑکیوں میں دو طرح کے پٹ ہوتے ہیں،ایک شیشے کے اور دوسرے جالی کے،جالی کے پٹ پر بھی پردے لگائے جاتے ہیں،جن کو انگریزی میں بلائنڈز(Blinds) کہتے ہیں،کمرے میں باہر برآمدے یا صحن میں کھلنے والے دروازوں کے بھی دو طرح کے پٹ ہوتے ہیں ایک شیشے والے اور دوسرے جالی لگے ہوئے جالی والے دروازے بلائنڈز(Blinds) ڈال دیے جائیں تو دوسرے پردے ہٹا دینے پر بھی تخلیہ پیدا کیا جاسکتاہے،کمرے میں موجود دروازے اور کھڑکیوں کو آسانی سے نہیں بدلا جاسکتا لیکن ان میں مناسب قسم کے پردے ڈال کر کمرے کے سائز میں خاطر خواہ فرق پیدا کیا جاسکتا ہے مثلاً چھوٹے سائز کے کمرے میں دیوار کے رنگ کے پردے ڈال کر وسعت کا احساس پیدا کیا جاسکتا ہے،کمرا اگر بہت بڑا ہے تو وہاں پردوں کی درجہ بندی کی مدد سے کمرے کی وسعت میں تواازن پیدا کیا جاسکتا ہے،اس طرح چھوٹی یا غیر مناسب کھڑکیوں کو پردوں کی مدد سے صیح رنگ دیا جاسکتا ہے،

(0) ووٹ وصول ہوئے