Mukhtasar Kamre Kushada Kaise Nazar Ayeen - Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish

مختصر کمرے کشادہ کیسے نظر آئیں - گھر کی آرائش

ہفتہ جنوری

Mukhtasar Kamre Kushada Kaise Nazar Ayeen
کم قیمت پر تعمیر شدہ مکانات میں کمروں کا حجم چھوٹا رکھنا مجبوری ہوتی ہے فلیٹوں میں بھی یہی صورتحال پیش آتی ہے۔اگر آپ مختصر مکانوں میں بڑے حجم کا فرنیچر رکھ لیں تو یوں تاثر ملتا ہے جیسے سامان آپ کے سر پر آن رہے گا۔یہ بوجھل پن ایسا Aura تخلیق کرتا ہے جو مزاجوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔صحت و صفائی کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔جو لوگ وال پیپرز پسند کرتے ہیں وہ بھی مدھم رنگوں اور چھوٹے ڈیزائنوں پر مشتمل پیپرز کا انتخاب کرتے ہیں۔


ہر کمرے میں ہر چیز ضرورت کی ہو یہ ضروری تو نہیں مگر گھر کے مکین اپنی ضروریات سے آگاہ ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر لیونگ روم میں کچھ لوگ ٹی وی رکھنا پسند نہیں کرتے۔کچھ گھروں میں لاؤنج ہی ٹی وی روم بھی ہوتا ہے۔
کچھ لوگ ڈرائنگ روم کی وسعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک حصہ ڈائننگ کے لئے استعمال کر لیتے ہیں خیال یہ بھی برا نہیں لیکن روزمرہ کی مصروفیات اور مہمانوں کی دعوت کی صورت میں اس حصے کے استعمال کی ترجیحات کا تعین آپ خود بخوبی کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

بہتر یہی ہو گا کہ روزانہ تین وقت کا کھانا آپ ڈرائنگ روم والے حصے میں نہ کھائیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
کمروں کو کشادہ رکھنے کے لئے ایک مشہور زمانہ اور آزمودہ ترکیب کمروں میں آئینے لگانا ہے۔ان آئینوں کا سائز جتنا بڑا ہو گا کمرہ اتنا ہی وسیع دکھائی دے گا۔آج کل Console پر بڑے سائز کا آئینہ دیوار پر لگانے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔


برآمدوں کی وسعت میں اضافے کا تاثر دینے کے لئے Antonovich ڈیزائن بہتر رہ سکتا ہے۔پاکستان میں چنیوٹ اور بالائی علاقوں میں اس کے کاریگر موجود ہیں۔کراچی کی فرنیچر پارکیٹوں میں بھی اس کلاسیکی طرز کی اشیاء نظر آجاتی ہیں۔
بچوں اور بڑوں کی کتابوں کے لئے الماری جگہ گھیرے گی مگر دیواری شیلفز پر کتابیں رکھنا اچھا اور متاثر کن تخیل ہے۔

یہاں آپ نوادرات، مجسمہ،پھولوں کا چھوٹا سا واز بھی رکھ سکتی ہیں۔
صوبہ کم بیڈ بھی ایک اچھی تجویز ہے۔فرنیچر خاص کر بڑے کنبے کے لئے سونے کے کمرے کم پڑتے ہوں یا مہمانوں کی آمد پر علیحدہ بستر درکار ہوں تو صوفہ کم بیڈ کا استعمال ضرورت ہے تعیش نہیں۔
اوپن کچن اور لاؤنج کا تصور بھی مختصر مکانوں سے ترویج پایا ہے۔اس طرح کچن اور لاؤنج دونوں میں وسعت محسوس ہوتی ہے اور اگر آپ پردہ کرتی ہیں تو پارٹیشن ڈال کر ان دونوں جگہوں کو علیحدہ ظاہر کر دیں۔


دیواری الماریاں دوران تعمیر بنا لی جائیں تو کپڑوں اور دیگر سامان رکھنے کی گنجائش نکل آئے گی۔
قالین،رگڑ اور فرشی نشستوں کا اہتمام کرتے ہوئے ہر جگہ صوفے رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
چھتوں پر نصب لائٹس اور LED توانائی کی بچت کے علاوہ کمروں کی وسعت بھی دیتی ہیں۔
کمروں میں بڑے سائز کی کھڑکیاں اور گلاس ڈور لگانے سے قدرتی روشنی کا دیر تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس طرح وافر مقدار میں روشنی گھر میں داخل ہو گی اور دھوپ کا آنا تو بہت ضروری ہوتا ہے۔آپ ہمہ وقت پارکوں یا کھلی جگہوں پر دھوپ سینکنے نہیں جا سکتے۔
کمروں کی اضافی ضرورت کو زینے کے نیچے والے حصے میں صوفہ کم بیڈ،لائبریری یا چار کر سیوں والی ڈائننگ ٹیبل رکھ کر صبح و شام کے ناشتے یا مہمانوں کی تواضع کے لئے کار آمد ہوتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-02

Your Thoughts and Comments

Special Home Interior & Decoration - Ghar Ki Aaraish article for women, read "Mukhtasar Kamre Kushada Kaise Nazar Ayeen" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.