بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشصفائی کا سامان

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
صفائی کا سامان
میزیں کرسیاں سٹول صندوق اور کمروں کے کوڑا صاف کرنے میں عام طورپر ان کا گردوغبار کپڑے ک جھاڑن سے دور کرنا چاہیے کرسیوں،میزوں یا دوسری پالش دار چیزوں کو روزانہ جھاڑ دینے سے ان کا گردوغبار دور ہوتا ہے رہے گا
مکان کی صفائی کے لیے مندرجہ ذیل سامان درکار ہوتاہے:
۱۔جھاڑو،۲۔مختلف قسم کے موٹے بالوں کے برش،۳۔بانس کا جھاڑن،۴۔بانس یا پلاسٹک وغیرہ کی ٹوکریاں(مٹی کوڑا جمع کرنے کے لیے)،۵۔برتن جیسے ٹب،بالٹی،تسلا،شیشے کا سامان اور کپڑے وغیرہ دھونے کے لیے،۶۔جھاڑن،برتنوں اور دوسرے سامان کو جھاڑنے پونچھنے کے لیے،
مختلف قسم کے فرشوں اور دیواروں کی صفائی:
سنگ مر مر کا فرش: صابن کو پانی میں گھول کر برش یا کپڑے سے فرش صاف کرلیں اس مقصد کے لیے کھویا مٹی کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ویسے سنگ مر مر کا فرش صاف کرنے والے پاؤڈر بھی بازار سے مل جاتے ہیں۔
پتھر کا فرش: اس کی صفائی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر روز اس پر جھاڑو دینا یا برش سے صاف کرنا چاہیے اس کے بعد صاف پانی سے دھودینا چاہیے۔
اینٹوں کا فرش: اینٹوں کا فرش بھی پتھر کے فرش کی طرح صاف کرنا چاہیے۔
ٹائل کا فرش: پہلے برش سے جوڑوں کا گردوغبار نکال دینا چاہیے اس کے بعد صابن ملے پانی سے دھونا چاہیے بعد میں اسے کپڑے سے خشک کرنا ضروری ہے ورنہ نمی کئی روز تک نہ جائے گی۔
سیمنٹ کا فرش: صرف صرف پانی سے دھو دینا کافی ہے۔
سفیدی یا رنگ ہوئی دیواریں: لمبے بانسی جھاڑو سے صاف کرنا چاہیے یا بانس والے برش سے اگر کہیں دھبے ہوں تو گیلے جھاڑن سے صاف کرلیں لیکن یہ خیال رکھیں کہ زیادہ گیلے پن نہ چھٹ جائے لہٰذا سوکھے جھاڑن ہی سے انہیں صاف کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
فرنیچر اور کوڑوں کی صفائی: میزیں کرسیاں سٹول صندوق اور کمروں کے کوڑا صاف کرنے میں عام طورپر ان کا گردوغبار کپڑے ک جھاڑن سے دور کرنا چاہیے کرسیوں،میزوں یا دوسری پالش دار چیزوں کو روزانہ جھاڑ دینے سے ان کا گردوغبار دور ہوتا ہے رہے گا اور داغ دھبے سے محفوظ رہیں گے،اگر پالس دار لکڑی پر دھبہ پڑگیا ہو تو پہلے صابن کی جھاگ ملے پانی سے کپڑے کو بھگو کر ہلکے ہاتھ سے صاف کریں پانی لگنے سے پالش کی چمک دمک کم ہوتی ہیں اس لیے اس پر پھر پالش کرنے کی ضرورت ہوگی اگر پالش کا بنانا کچھ دشوار نہیں مگر پالش کرنا ضرور مشکل ہوتا ہے بازار سے بنی ہوئی پالش مل تو جاتی ہیں لیکن خود بنانے کی ترکیب بھی آپ کے استفادے کے لیے درج ذیل ہے۔
ایک بوتل سپرٹ1/4 پاؤ دانہ لاکھ ڈال کر کچھ دیر دھوپ میں رکھیں جب دانہ لاکھ گل جائے تو اسے چھان لیں پالش تیار ہے پالش کرنے کے لیے روئی کی پوٹلی تیار کریں اور تھوڑی سی پالش چینی کے پیالے یا ٹین کے کسی ڈبے میں نکال لیں اور اس میں تھوڑا سا السی کا تیل ملالیں پوٹلی کو اس پالش سے خوب ترکرلیں اور آہستہ آہستہ لکڑی پر پھیر لیں،تھوڑی تھوڑی دیر بعد خفیف پیدا ہوجاتی ہیں اس عمل میں پالش انگلیوں پر جم جاتا ہے لہٰذا سپرٹ میں انگلیوں کو خوب تر کرکے کپڑے سے پونچھ دیں،انگلیاں صاف ہوجائیں گی۔
قالینوں اور دریوں کی صفائی: ایسی دریاں جو سہولت سے کمرے میں اٹھائی جاسکتی ہیں ان کے کمرے سے باہر نکال لیا جائے اور کچھ دیر دھوپ دینے کے بعد کنارے پکڑ کر جھاڑ دینا چاہیے،باہر نکال کر کسی صاف ستھرے فرش پر بچھا کر برش سے بھی ان کو صاف کیا جاسکتا ہے،بڑی دریاں جن کو کمروں سے اٹھایا دشوار ہے،وہ کمرے میں اسی طرح برش سے صاف کی جاسکتی ہیں۔لیکن یہ یاد رہے کہ اس طرح صرف وہ گرد صاف ہوسکتی ہیں جو دری یا قالین کے اوپر ہوگئی ورنہ جو گرد اندر بیٹھ چکی ہیں وہ پانچ چھ آدمیوں کے مل کر جھاڑے بغیر مشکل ہی سے دور ہوسکتی ہیں دری کے بہت زیادہ میلا ہوجانے کی صورت میں اسے لانڈری سے دھلائیں۔غالیچوں اور دریوں کی صفائی غالیچہ جھاڑ قمچیوں (Carpet Sweeper) اور ہوا کے زور سے صاف کرنے والی مشین (Vacuum Cleaner) سے بھی کی جاتی ہیں،غالیچہ جھاڑ قمچی سے کارپٹ صاف کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ غالیچے کو گھر کے صحن میں الگنی پر لٹکا کر قمچی سے زور زور سے پیتا جاتا ہے،غالیچہ جھاڑنے والا منہ ناک پرپٹی باندھ لیتا ہے تاکہ غالیچے کا گردوغبار سانس کے ذریعے پھیپھروں میں نہ جائے۔کارپٹ سویپر کے راڈ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر جھاڑو کی طرح غالیچے پر چلاتے ہیں،راڈ کے اگلے سرے پر سخت بالوں کا برش لگا ہوتا ہے اور یہ برش بالکل کنگھی کے مشابہ ہوتا ہے یہ برش غالیچے کی گرد کو اسی ڈبے میں ڈال دیتا ہے جو سویپر کے اندر لگا ہوتا ہے۔ویکیوم کلینر کسی شکلوں اور سائزوں کے ہوتے ہیں جھاڑ پونچھ کا کام ان کے اندر لگے ہوئے پنکھے کرتے ہیں ایک بجلی کا پنکھا ہوا کی دھار سامنے کی طرف پھینکتا ہے اور دوسری جانب سے ہوا پردوں کی جانب کھینچتی رہتی ہے یہ ہوا اس نالی سے آتی ہیں جس کا منہ غالیچے کے ساتھ لگا ہوتا ہے جب ہوا تیزی سے نالی کے منہ کی طرف آتی ہیں تو گرد اپنے ساتھ اٹھالاتی ہیں یہ ہوا اور گرد تھیلے میں پہنچ جاتی ہیں پھر ہوا تو اپنے زور میں تھیلے کے باہر نکل جاتی ہیں لیکن گرد تھیلے سے باہر نہیں جاسکتی ،اس لیے اس میں جمع ہوتی رہتی ہیں،تھوڑی دیر کے بعدتھیلااتار کر اس میں بھری ہوئی گرد ٹھکانے لگا دی جاتی ہیں،بہت سے دیکیوم کلینروں میں پنکھا نیچے کی طرف لگا ہوتا ہے اور تھیلا اس کے اوپر بعض میں پنکھا اور تھیلا اس عمودی ٹنکی پر نصب ہوتے ہیں جو فرش پر ٹکی ہوتی ہیں ،بعض میں لمبے سے منہ کے اندر ایک چھوٹا سا گھومنے والا برش بھی ہوتا ہے کچھ ویکیوم کلینر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں گرد ایک کاغذی تھیلے میں جمع ہوتی رہتی ہیں اور جب تھیلا بھر جاتا ہے تو گرد کو اس سے نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے