بند کریں
خواتین مضامینگھر کی آرائشسونے لیٹنے یا آرام کرنے کا فرنیچر

مزید گھر کی آرائش

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سونے لیٹنے یا آرام کرنے کا فرنیچر
اگر گھر میں کرسیوں یا بیٹھنے کے فرنیچر کی کمی ہو یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے زیادہ چیزیں نہ رکھی جاسکیں تو چارپائی پلنگ مسہری اور تخت بیٹھنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہی
سونے لیٹنے یا آرام کرنے کا فرنیچر:
جسم کی تھکان دور رنے کے لیے سونا اور آرام سے لیٹنا بہت ضروری ہے گھروں میں چارپائیاں مسہری پلنگ وغیرہ اس مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔اگر گھر میں کرسیوں یا بیٹھنے کے فرنیچر کی کمی ہو یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے زیادہ چیزیں نہ رکھی جاسکیں تو چارپائی پلنگ مسہری اور تخت بیٹھنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں خاص طور پر برآمدوں میں ان سونے کی چیزوں کو بیٹھ کر کام کرنے کی خاطر استعمال کرتے ہیں۔چارپائی پلنگ مسہری سب ساخت کے اعتبار سے تقریباً یکساں ہوتے ہیں مگر سائز اور نمونے کے اعتبار سے بان کی چارپائی اور پلنگ میں بہت کم فرق ہے چارپائی بان سے بنائی جاتی ہیں۔پلنگ بان یانواڑ دونوں سے بنے جاتے ہیں مسہری پر بھی اکثر نواڑ کی بنائی ہوتی ہیں یا لکڑی کے فریم پر سپرنگ روئی یا ربر فوم(Rubber foam) کے گدے ڈالے جاتے ہیں قیمت کے لحاظ سے چارپائی کم قیمت اورکم پائدار ہوتی ہیں پلنگ کی مضبوطی کا انحصار پائے اور پٹی کی لکڑی پر ہوتاہے عموماً فرنیچر کی دوکان پر جو مسہریاں نظرآتی ہیں ان کے سرہانے اورپائینی کی طرف ٹیک ہوتی ہیں سرہانے کی ٹیک نسبتاً اونچی ہوتی ہیں اوراس پر عموماً نقش ونگار،کٹاؤ کاکام وغیرہ بنا ہوتا ہے اگر یہ نقش و نگار اور ان کے رنگ موزوں اور خوبصورت نہیں تو پورے کمرے کی سجاوٹ پر غلط اثر پڑتا ہے مسہری کا انتخاب کرتے وقت جہاں اس کی ساخت اور پائداری کی طرف توجہ لازمی ہے وہاں اس کے ڈیزائین یا نمونے کو بھی سوچ سمجھ کر پسند کرنا چاہیے بہتر تو یہ ہے کہ سادہ سرہانے اور ٹیک کی مسہری کا انتخاب کیا جائے۔
فرنیچر کا انتخاب: اکثر لوگ فرنیچر کی مختلف اشیا گھر پر یا آرڈر دے کر بنواتے ہیں فرنیچر خود بنوایا جا رہا ہو یا بازار سے خریدا جارہا ہو اس کے انتخاب کے سلسلے میں مندرجہ ذیل اصولی باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
استعمال کی مناسبت: یعنی یہ دیکھتا چاہیے کہ جو چیز جس خاص استعمال کے لیے حاصل کی جارہی ہے وہ اس کے لیے مکمل طور پر موزوں اور مناسب ہے۔
پائداری اور کفایت شعاری: فرنیچر کی پائداری کا انحصار اس بات ہر ہوتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی خام اشیا لکڑی لوہا وغیرہ استعمال کیا گیا ہے اور ساخت کا طریقہ کس قدر صیح ہے یعنی جوڑ کس طرح کے ہیں چولیں جلدی خراب تو نہیں ہوجائیں گی اور اس کی پالش وغیرہ اچھی ہے یا نہیں۔ چونکہ بازار میں دستیاب فرنیچر پر پالش ہوئی ہوتی ہیں اس لیے اس کے جوڑوں اور چھپے ہوئے حصوں کے متعلق رائے قائم نہیں کی جاسکتی ،مثلاًصوفے کو دیکھ کر یہ نہیں معلوم ہوسکتا کہ اس میں کسی قسم کے سپرنگ لگے ہیں اس الجھن سے نجات پانے کا بہترین کا طریقہ یہ ہے کہ فرنیچر ایسی دکان سے خریدا جائے جس کی ساکھ اچھی ہو اور جو کسی قسم کی گارنٹی دینے کو تیار ہو جو چیز پائدار ہوگی اس میں قیمت کے لحاظ سے کفایت شعاری کا پہلو بھی نمایاں ہوگا۔کفایت شعاری کو برتنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا فرنیچر خریدا جائے جو کئی طرح سے استعمال کیا جاسکے مثلاً ایسا صوفہ جو بستر میں تبدیل کیا جاسکے یا کھانے کی میزضرورت پڑنے پر بڑی یا چھوٹی کی جاسکے۔پائداری اور کفایت شعاری کے علاوہ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کس چیز سے دیرپا تسلی حاصل ہوتی ہے،دیرپا تسلی کا تعلق اس بات سے ہے کہ استعمال شدہ خام مال اچھی قسم کا ہے اور اس پر کوئی مصنوعی تہہ نہیں جمائی گئی۔ پالش اور فنش جیسی بھی ہے اسے بہ آسانی بار بار کروایا جاسکتا ہے یا اگر سطح پر کپڑا منڈھا ہوا ہے تو اسے آسانی سے بدلا جاسکتا ہے۔
دلکشی اور خوبصورتی: خوبصورتی کا انحصار کئی باتوں پر ہوتا ہے جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ وہ چیز جس میں تناسب توازن اور تسلسل جیسی کیفیات ہوں گی یہ یقینا خوبصورت ہوگی ایک مغربی مفکر کا کہنا ہے کہ خوبصورتی بے جا آرائش سے گریز اور اعتدال کا نام ہے۔چیزوں کے انتخاب کے وقت اگر یہ بات یاد رکھی جائے کہ بے جا سجاوٹ خوبصورتی کی بجائے بدصورتی پیدا کرتی ہے تو یقینا صیح انتخاب میں مدد ملے گی۔ کسی بھی چیز کا چناؤ کرتے ہوئے اگر ایک جیسی کئی چیزوں کا موازنہ کیا جائے تو اچھی اور بری خصوصیات کا اچھی طرح اندازہ ہوسکتا ہے۔
ذاتی پسند: فرنیچر ہو یا گھر کی دوسری اشیا ان کا استعمال تقریباً یکساں ہوتا ہے لیکن ذاتی پسند کی وجہ سے مختلف وضع نمونے اور نگ کی چیزوں کا انتخاب کیا جاتا ہے عموماً لوگ دوستوں رشتہ داروں کی مدد سے اپنے لیے چیزوں کا انتخاب کرلیتے ہیں مگر غور کیا جائے تو ضروری نہیں کہ جو چیز کسی اور کو اچھی معلوم ہورہی ہے وہ آپ کو بھی اتنی ہی بھلی معلوم ہو۔کسی سمجھدار شخص سے رائے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر اپنی اور گھر کے افراد کی پسند کو پشٹ ڈالنا بھی صیح نہیں۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ اکثر ایسی چیزوں کو اپنے لیے چن لیا جاتا ہے جو کسی اور کے گھر میں رکھی ہوئی اچھی معلوم ہوتی ہیں اس طرح کے چناؤ میں بھی غلطی کا امکان موجود رہتا ہے کیونکہ وہ صوفہ سیٹ الماری یا میز جو اپنے نمونے اور رنگ کی وجہ سے کسی خاص کمرے میں موزوں معلوم ہوتی ہیں ضروری نہیں ہر جگہ اتنی ہی موزوں معلوم ہو۔وہ خاندان جن کا اپنے مخصوص پیشے یا کاروبار کی وجہ سے تبادلہ ہوتا رہتا ہے ان کو ایسے فرنیچر کا انتخاب کرنا چاہیے جسے آسانی سے باندھا اور پیک کیا جاسکے اور جو بہت وزنی نہ ہو۔پاکستان میں فرنیچر بنانے کے لیے عام طور پر شیشم،دیار،ساگوان اور اخروٹ کی لکڑی استعمال ہوتی ہیں۔شیشم کی لکڑی سخت اور مضبوط ہوتی ہیں اس پر ہر طرح کی فنش ہوسکتی ہیں کھدائی کا کام آسانی سے کیا جاتا ہے۔دیار کی لکڑی نرم اور گھٹیا قسم کی ہوتی ہیں وزن میں ہلکی اور کمزور ہوتی ہیں سستے فرنیچر اور منڈھے ہوئے فرنیچر کے اندروزنی ڈھانچوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ساگوان کی لکڑی شیشم سے زیادہ پائدار اور قیمت میں گراں ہوتی ہیں یہ اپنی سطحی کیفیت کی خوبصورتی کی وجہ سے مقبول ہے مگر اس کا فرنیچر بہت مہنگا پڑتا ہے۔اخروٹ کی لکڑی پر بے حد خوبصورت دھاریاں اور نقش و نگار ہوتے ہیں پائدار ہوتی ہے مگر بہت گراں۔فرنیچر بنانے سے پہلے کچی لکڑی کو سُکھانا ضروری ہے قدرتی طور پر لکڑی کو سوکھنے کے لیے سالوں درکار ہوتے ہیں لیکن مصنوعی طریقے سے لکڑی جلد سکھائی جاسکتی ہیں اس عمل کو سیزننگ(Seasoning) کہتے ہیں اگر لکڑی کی سیزننگ نہ کی جائے تو وہ جاڑوں اور برسات میں پھیلتی اور کرسی میں سکڑتی ہے جس کی وجہ سے گرمی میں تختوں کے درمیان دراڑیں پڑجاتی ہیں اور جاڑوں اور برسات میں جب لکڑی پھیلتی ہے تو درازیں،دروازے وغیرہ بند کرنا کھولنا مشکل ہوجاتاہے۔لکڑی کے فرنیچر کو کارآمد،دیرپا بنانے کے لیے لکڑی سے نبی ہوئی چیزوں پر پالش وارنش وغیرہ کردیا جاتا ہے پالش یا وارنش کے عمل کو فنش کیا جاتا ہے اس سے لکڑی گلنے اور کیڑا لگنے سے محفوظ ہوجاتی ہیں سطح پر داغ دھبے آسانی سے نہیں پڑتے اور سطح کو بالکل صاف ستھرا رکھا جاسکتا ہے پالش یا وارنش ہلکے اور گہرے رنگ میں کی جاسکتی ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اگر اچھی قسم کی لکڑی استعمال کی گئی ہے تواس پر ہلکے رنگ کی فنش کی جائے تاکہ لکڑی کی اپنی خوبصورتی نظر آئے۔ آج کل شفاف اور پھیکی قسم کی فنش کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
وارنش کی ہوئی سطح پر ایک طرح کی چمک ہوتی ہیں مگر پالش کی ہوتی سطح پر مدھم مخملی کیفیت ہوتی ہیں اور یہ کیفیت چمکیلی سطح سے بہتر ہوتی ہیں۔لکڑی کے فرنیچر کی سطحی کیفیت برقرار رکھنے کے لیے گھر پر بھی وارنش اور پالش کی جاسکتی ہیں۔گزشتہ چندسالوں میں فرنیچر بنانے لے لیے دھات کا استعمال عام ہورہا ہے فولاد کے ڈھانچے کا فرنیچر عام دستیاب ہے اس پر انیمل فنش ہوجانے کی وجہ سے یہ ڈھانچے طرح طرح رنگوں میں بنائے جاتے ہیں مگر لوہے کا اپنا سیاہی مائل ربگ زیادہ عام ہے۔دھات کے فریم والا فرنیچر لکڑی کے فرنیچر کے مقابلے میں دیکھنے میں ہلکا پھلکا نظر آتا ہے دھات کے فرنیچر میں رنگا رنگ ساختی ڈیزائین عام ملتے ہیں یہ فرنیچر برآمدے اور صحن وغیرہ میں استعمال کے لیے موزوں ہے کیونکہ بید پلاسٹک،نائلون کی ڈوری سے بنی ہوئی کرسیاں اور میزیں دھوپ او ر ٹھنڈ میں خراب نہیں ہوتیں۔بید کا فرنیچر بھی برآمدے وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے گو بہت مہنگا پڑتا ہے۔کسی بھی شہر میں فرنیچر کی دوکانوں کا جائزہ لیا جائیرتو معلوم ہوگا کہ مختلف دکانوں میں تقریباً یکساں ساخت کی چیز کی قیمت میں تغاوت کا انحصار دو تین باتوں پر ہوتا ہے مہنگے فرنیچرمیں عمدہ لکڑی استعمال کی گئی ہوگی اور وہ کاریگری کا بہتر نمونہ ہوگا اور اس کی فنش اچھی ہوگی کم قیمت فرنیچر پہلی نظر میں یکساں نمونے کی وجہ سے ایک جیسا معلوم ہوگا لیکن غور کرنے پر پتا چلے گا کہ اس کی ساخت اور فنش میں بھدا بن رہ گیا ہے اور ظاہر ہے کہ لکڑی بھی معمولی استعمال کی گئی ہوگی چنانچہ ایک طرح سے یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ خوبصورتی،پائداری اور قیمت کا بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ اگر عمدہ خام اشیا استعمال کی جائیں تو قیمت بڑھ جاتی ہیں اور اگراچھے کاریگر کسی چیز کو بناتے ہیں تو ان کی اجرت زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی قیمت زیادہ ہوجاتی ہیں لیکن اسی مناسبت سے وہ چیز زیادہ دیدہ زیب اور خوبصورت ہوتی ہیں۔ہر استعمال کی چیز اچھی حالت میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو احتیاط سے استعمال کیا جائے اور اس کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جائے کچھ لوگ فرنیچر کو بہت بے دردی سے استعمال کرتے ہیں مثلاً میزوں کرسیوں کو اٹھا کر رکھنے کے بجائے فرش پر دور تک گھسیٹتے ہیں ،کرسی پر خاص طور پر گدیلے والی کرسی پر دھم سے گر جاتے ہیں کس کی وجہ سے سپرنگ جلدی خراب ہوجاتے ہیں،بچوں کو بغیر روک ٹوک کے مسہری اورصوفے وغیرہ پر کودنے پھلانگنے دیتے ہیں جس کی وجہ سے گدیلے جلدی خراب ہوجاتے ہیں کپرا چڑھے فرنیچر پر اگر میلے پاؤں لے کر بیٹھے جائے تو اس پر بہت جلد داغ دھبے پڑجاتے ہیں غرض کہ ہر چیز کا تقاضا ہوتا ہے کہ اسے خاص احتیاط سے استعمال کیا جائے اور صاف ستھرا رکھاجائے صفائی اگر روز کی جائے تو چیزیں گرد و غبار سے محفوظ رہتی ہیں فرنیچر کتنا ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو اگر اس پر گردوغبار پڑا ہو تو وہ دو کوڑی کا بھی نظر نہیں آتا گھر میں موجود فرنیچر جیسا بھی ہے اس کو کارآمد اور خوبصورت رکھنے کے لیے مناسب دیکھ بھال لازمی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے