بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریانڈے کی خریداری

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انڈے کی خریداری
اگر آپ کے گھر انڈوں کو سٹور کرنے کی مناسب اور موزوں جگہ نہ ہو تو ضرورت سے زیادہ تعداد میں انڈے نہ خریدیں کیونکہ انڈے عام درجہ حرارت میں جلد گندے ہوجاتے ہیں
انڈے کی خریداری:
ہمارے ملک میں انڈوں کا استعمال اور کھیت گذشتہ چند برس میں کئی گناہ بڑھ سکتی ہیں اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں ،ایک تو یہ کہ ہمارے یہاں مرغباتی کا کام ترقی کررہا ہے دوسرے یہ کہ عوام میں غذائی معیار کو بہتر بنانے کا شعور بڑھ رہا ہے ماہرین غذائیات بھی سفارش کرتے ہیں کہ ایک تندرست انسان کو کم ازکم ہفتے میں تین اور اگر ممکن ہو تو ایک انڈا روزانہ کھانا چاہیے اگر اس سفارش کے مطابق ایک چھ افراد پر مشتمل صاحب استطاعت کنبہ روزانہ چھ انڈے خریدتا ہے تو ایک مہینے میں 15 درجن انڈوں کی خریداری ہوگی اور سال بھر میں کوئی 180 درجن انڈے درکار ہوں گی،کسی بھی جنس کو زیادہ مقدار میں خریدنے کے لیے خریدار کو اس کے متعلق ضروری معلومات ہونی چاہیں تاکہ وہ صحیح اور بہتر انتخاب کرسکے۔انڈوں کی قیمتیں سال کے دوران موسمی لحاظ سے کم و بیش ہوتی رہتی ہیں انڈوں کی فراہمی اور قیمتوں کو یکساں رکھنے کے لیے تجارتی پیمانے پر ان کی ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہیں اورا ن کو سرد گوداموں میں رکھا جاتاہے ایک عام تصور ہے کہ کولڈ سٹوریج کے انڈے تازہ انڈوں سے کوالٹی میں کمتر ہوتے ہیں لیکن تحقیقات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوچکی ہیں کہ خاص موسم میں سرد خانوں کے انڈے تازہ انڈوں سے بہتر ہوتے ہیں مثال کے طور پر اپریل میں کولڈ سٹوریج میں رکھیے انڈے عمدہ ہوتے ہیں ان سہولتوں کی بدولت انڈے لمبے عرصے تک اپنی اصلی حالت میں رہتے ہیں،29 روز تک کے لیے سرد خانوں میں رکھے ہوئے انڈے بہترین ہوتے ہیں اس کے علاوہ انڈوں پر خاص کیمیاوی عمل کرکے ان کو لمبے عرصے تک تازہ رہنے کے قابل بنادیا جاتا ہے لیکن ان سے اصلی ذائقہ میں فرق پڑجاتا ہے،انڈوں کی درجہ بندی کرتے وقت کئی باتوں کو دیکھا جاتا ہے مثلاً رنگت سائز،وزن اور انڈے کی بناوٹ وغیرہ اس کے علاوہ دیسی اور ولایتی انڈوں کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہیں چھوٹے سائز کے انڈے ویسے تو سستے داموں مل جاتے ہیں لیکن عام طور پر مہنگے ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ وزن میں ہلکے ہوتے ہیں،انڈے خریدتے وقت دیکھے کہ انڈے کا وزن 2 اونس سے کم نہ ہو عام طور پر براؤن رنگ کے انڈوں کو سفید رنگ کے انڈوں پر ترجیح دی جاتی ہیں اور ان کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہیں لیکن تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ رنگدار اور سفید انڈوں کی عمدگی اور غذائیت میں کوئی فرق نہیں ہوتا اس لیے اگر آپ صرف رنگت کی بنا پر زیادہ پیسے ادا کرتے ہیں تو اپنے پیسے ضائع کرتے ہیں،انڈوں کی تازگی کے جانچنے کے لیے کئی طریقے ہیں مثلاً روشنی اگر انڈے کو ہاتھ میں پکڑ کر روشنی کے سامنے کرکے دیکھا جائے تو انڈے کی اندرونی حالت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اگر دھبے نظر آئیں تو انڈا گندہ ہے اور اگر شفاف نظر آئے تو تازہ ہے اور قابل استعمال ہے اس طرح انڈوں کو پانی سے بھرے برتن میں ڈبو کے دیکھا جاسکتا ہے اگر انڈے سطح پر اکر تیرنے لگیں تو ان کے خراب ہونے کی نشانی ہے اور اگر برتن کی تہہ میں بیٹھ جائیں تو انڈے درست حالت میں ہیں،جسامت میں یکساں خوش وضع ہموار اور چمکدار انڈے گاہک کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں اگر آپ کے گھر انڈوں کو سٹور کرنے کی مناسب اور موزوں جگہ نہ ہو تو ضرورت سے زیادہ تعداد میں انڈے نہ خریدیں کیونکہ انڈے عام درجہ حرارت میں جلد گندے ہوجاتے ہیں عام طور پر ایک ہفتے کی ضرورت سے زیادہ خریدنا درست نہیں،انڈوں کی خریداری میں کفایت کرنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ آپ ان دنوں زیادہ انڈے استعمال کریں جب کہ ان کی قیمتیں گرگئی ہون اور مہنگائی کے دنوں میں جسمانی ضروریات سے کم انڈے استعمال کریں،منجمد اور خشک کیے ہوئے انڈے بھی مارکیٹ میں ملتے ہیں لیکن ان کی زیادہ مانگ صرف انڈسٹری میں ہے گھر میں ان کا استعمال فی الحال محدود ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے