بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریباورچی خانے کے سازو سامان کی خریداری

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین - مزید مضامین
باورچی خانے کے سازو سامان کی خریداری
ایسے برتن خریدتے وقت قیمت اور کوالٹی کا موازنہ کرنا ضروری ہے گھٹیا سامان سے بنائے ہوئے برتن چند دنوں کے استعمال کے بعد بدصورت نظر آنے لگتے ہی
باورچی خانے کے سازو سامان کی خریداری:
دیگچیاں،پتیلیاں،کڑاہیاں اور فرائی پین ہر باورچی خانے میں موجود ہونے لازمی ہے ایسے برتن خریدتے وقت قیمت اور کوالٹی کا موازنہ کرنا ضروری ہے گھٹیا سامان سے بنائے ہوئے برتن چند دنوں کے استعمال کے بعد بدصورت نظر آنے لگتے ہیں ایسے برتن خریدتے وقت کچھ زیادہ رقم خرچ کرکے اچھی چیز خریدنا بہتر ہے اچھی چیز نہ صرف دیکھنے میں ہی اچھی ہوگی بلکہ زیادہ عرصہ تک چلے گی پائدار اور عمدہ ساخت کے برتن اس طرح سستے ہوتے ہیں۔پکانے کے لیے برتن خریدتے وقت ان کی موٹائی یا خیال ضرور رکھیں موٹی چادر کا برتن زیادہ عرصے تک چلے گا اس کی ساخت بھی جلد نہیں بگڑے گی اور اس میں کھانا بھی ایک سا پکے گا،پکانے کا برتن ایسا ہونا چاہیے کہ آرام اور آسانی سے اُٹھایا اور پکڑا جاسکے اس کے کنارے تنگ نہ ہوں ورنہ دھونے اور صاف کرنے میں دقت پیش آئے گی،ڈھکنا مضبوطی سے جما ہو اور ڈھکنے میں ایسے بیچ و خم نہ ہوں جس میں کہ میل آسانی سے جم جائے اور صاف کرنا مشکل ہو۔سٹین لیس سٹیل(Stainless Steel) کے برتن اگرچہ مہنگے ہوتے ہیں مگر کھانا پکانے کے لیے بہترین ہیں اور ان کو قطعی کروانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔سٹین لیس سٹیل 18/8 گیج کا خریدیں۔سٹین لیس سٹیل حرارت کا ناقص موصل ہے اس لیے حتیٰ الامکان وہی برتن خریدیں جس کے پیندے میں تانبا یا المونیم لگا ہو۔تانبا حرارت کا بہتر موصل ہے اس کے برتن میں حرارت اچھی طرح پھیلتی ہے اور کھانا آسانی سے پکتا ہے تانبے کے برتن میں پکانے کے لیے زیادہ تیز آنچ درکار نہیں ہوتی البتہ تانبے کے برتن پر وقتاً فوقتاً قطعی کروانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
تاہم چینی کے برتن بھی پکانے کے لیے بہتر ہیں کیونکہ یہ بھی حرارت کو موزوں طریقے سے جذب کرتے ہیں مگر ان میں یہ خرابیل ہے کہ ٹھیس لگنے سے روغن اُتر جاتا ہے اور برتن بدنما لگنے لگتا ہے گیس کے چولہے کے لیے یہ برتن بہتر ہیں۔المونیم کے برتن کم قیمت ہوتے ہیں اگر اس قسم کے برتن خریدیں توموٹے پیندے والے برتن موزوں رہتے ہیں۔ہر قسم کے برتن خریدتے وقت ان کی ساخت اور جسامت کا خیال رکھیں برتن مختلف وضع کے ملتے ہیں لیکن خریدتے وقت ایسے برتن کو ترجیح دیں جن کے ڈھکنے سپاٹ ہوں برتن کے سائز اور حجم کا انحصار آپ کی ضرورت پر ہوگا اس کا فیصلہ آپ خود کرسکتی ہیں۔
گلاس اور مٹی کے برتن:
قدیم زمانے سے انسان مٹی کو مختلف برتن بنانے کے لیے استعمال میں لاتا رہا ہے گیلی مٹی کو سانچے میں ڈھال کر اور سکھا کر اور اس کے بعد میں بٹھے میں پکا کر برتن بنالیا جاتا تھا اس طرز کے برتن آج بھی استعمال کیے جاتے ہیں مثلاً مٹی کی ہانڈیا ں،گھڑے دوسرے برتن اور گلدان وغیرہ مٹی کے برتن مسام دار ہوتے ہیں،حرارت کی یکایک اور اچانک تبدیلی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور خوراک میں موجود تیزابی مادے بھی اثر انداز نہیں ہوتے مٹی کے برتن سستے لیکن جلد ٹوٹنے والے ہوتے ہیں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مٹی کے برتنوں کا استعمال غیر صحت مند ہوتا ہے کیونکہ ان میں جراثیم بہت جلد پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں۔اگر مٹی کے برتنوں کو اچھی طرح دھو کر اور صاف کرکے استعمال کیا جائے تو جراثیم کی موجودگی کا خطرہ ٹل جاتا ہے مٹی کے برتن خریدتے وقت ہمیشہ برتن میں پانی ڈال کر دیکھیں کہ برتن ٹپکتا تو نہیں اس کے علاوہ ٹھونک بجا کر بھی تسلی کرلیں کہ کہیں سے ٹوٹا یا چٹخا ہو اتو نہیں ہے چینی کے برتن اور کراکری بھی خاص قسم کی مٹی سے تیار کی جاتی ہے گھر میں چائنا کا استعمال چائے اور کافی سیٹ ڈنر سیٹ اور سویٹ ڈش سیٹ وغیرہ کی شکل میں ہوتا ہے ان کے انتخاب اور خریداری میں کافی سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ برتن خاصے مہنگے ہوتے ہیں،ٹیبل کے سیٹ خریدتے وقت کوئی سٹینڈرڈ ڈیزائن منتخب کرنا عقلمندی ہے کیونکہ کوئی پیس ٹوٹنے پر اس کا بدل اور قائم مقام آسانی سے مل جاتا ہے رنگ اور نمونے کے انتخاب کا انحصار بہر حال آپ کی پسند اور ذوق پر ہوگا لیکن اگر رنگ اور ڈیزائین منتخب کرتے وقت کمرے کی دوسری اشیا اور کمرے کے رنگ وغیرہ کو مدنظر رکھا جائے تو بہتر ہے ہر حال میں سٹینڈرڈ ڈیزائین ہی کو ترجیح دیں تاکہ اگر وقت کے ساتھ بہت سیہ پلیٹیں یا پیالیاں وغیرہ ٹوٹ بھی جائیں تو پورا سیٹ خریدنے کی ضرورت نہ پڑے۔سادہ نمونے مزین نمونوں سے آپ کے لیے زیادہ قابل ترجیح ہونے چاہیں،برتنوں میں اُبھرواں نقش و نگار ان کی صفائی میں دقت پیش کرتے ہیں اور حفطان صحت کے بھی منافی ہوتے ہیں کیونکہ ان میں گرد اور گندگی جمع ہوکر جراثیم کو پنپنے کا موقع دیتی ہے۔ڈنر اور دوسرے سیٹ عام طور پر چھ یا بارہ افرادکے لیے فروخت ہوتے ہیں ایک سیٹ میں برتنوں کی تعداد کا انحصار عموماً قیمت پر ہوتا ہے سیٹ لینے سے پہلے دیکھ لیں کہ ڈونگے میں ڈھکنا مضبوطی سے جمتا ہے اور پیالیاں پلیٹوں میں ٹھیک طرح اور متوازن جمتی ہیں چائے کی پیالیاں کو پرچ میں رکھ کر اوپر اٹھا کر دیکھیں کہ سرکتی نہ ہو چائے سیٹ لیتے وقت دیکھیں کہ پلیٹوں میں پیالی کے لیے نشیبی گہراؤ موجود ہیں اب ہموار سطح کی پلیٹوں والے ڈیزائین بھی بنتے ہیں جو درست نہیں ہوتے،چائے دانی اور کافی دانے کے کنڈے میں ہاتھ آسانی سے پورا آجانا چاہیے ان کی ٹوٹنیاں خمدار ہوں اور چائے آسانی سے انڈیلی جاسکتی ہو،چائے دانی کا ڈھکنا کھول کر دیکھ لیں کہ ٹونٹی کے اندر چائے کی پتی کو روکنے کے لیے جالی لگی ہونی چاہیے تمام برتنوں کو پیک کروانے سے پہلے اچھی طرح اطمنیان کرلیں کہ ان کے کنارے وغیرہ ٹوٹے اور چٹخے ہوئے نہ ہوں۔نقص والے برتن دکاندار اُس وقت تبدیل کر دیتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے