بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریدودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیا کی خریداری:

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیا کی خریداری:
دودھ ایک مکمل غذا ہے اس میں وہ تمام صحت بخش غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو جسم کی نشوونما اورصحت و بقا کے لئے ضروری ہوتے ہیں
دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیا کی خریداری:
دودھ ایک ایسی غذا ہے جس کا نعم البدل کوئی اور دوسری غذا نہیں ہوسکتی دودھ ایک مکمل غذا ہے اس میں وہ تمام صحت بخش غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو جسم کی نشوونما اورصحت و بقا کے لئے ضروری ہوتے ہیں یوں تودودھ سے بہت سی چیزیں بنائی جاتی ہیں لیکن سیال یعنی اپنی اصلی اور قدرتی حالت میں دودھ سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے دودھ خشک حالت میں اور گاڑھا کیا ہوا(Condensed) بھی فروخت ہوتا ہے کھلا بھی ملتاہے اور بوتلوں یا پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند دودھ عام طور پر پاسچرائزڈ(Pasteurized) یایک جان کیا ہوا(Homogenized) یا مکھن نکلا ہوا ہوتاہے،پاسچرائزڈ دودھ کا ذائقہ تازہ دودھ سے مختلف ہوتا ہے لیکن اس میں بیکٹیریا اور جراثیم کی تعداد عام دودھ سے بہت کم ہوتی ہیں مختلف طرز کے دودھ سے بہت کم ہوتی ہیں مختلف طرز کے دودھ کی قیمتوں میں عام طور پر اختلاف نہیں ہوتا البتہ گاڑھا کیا ہوا اور خشک دودھ مہنگا ہوتا ہے،دودھ کا شمار اگرچہ مہنگی غذاؤں میں ہوتا ہے لیکن اگر اس کی غذائی قدروقیمت اور فوائد کو دیکھا جائے تو یہ اس لحاظ سے ایک سستی غذا ثابت ہوتی ہے بچوں کو تقریباً ایک کلو دودھ روزانہ پینا چاہیے اور بڑوں کو آدھا کلو۔تازہ دودھ خریدتے وقت درج ذیل باتوں کو ذہن میں رکھیں،ملاحظہ کریں:
۱۔دودھ کی قسم اور نوع
۲۔دودھ کا نرخ
۳۔دودھ میں ملاوٹ اور خارجی اجزا کی آمیزش
۴۔دودھ کی باس اور ذائقہ
۵۔نظر آنے والی گندگی
۶۔چکنائی کی مقدار
۷۔دودھ کے برتن کی وضع
۸۔حالات جن میں کہ دودھ بیچا اور مہیا کیا جاتا ہے
۹۔خاندان کے افراد کے لیے مطلوبہ مقدار
۱۰۔دودھ کا مجوزہ استعمال
۱۱۔ایک وقت میں دودھ کی خریداری کی مقدار
اگر شہر کے کسی خاص علاقے میں تازہ دودھ کی فراہمی میں کمی ہو تو دوسری اقسام کے دودھ استعمال کیے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ بھی اتنے ہی مفید ہوتے ہیں حکومت کی پالیسی کے تحت بڑے شہروں میں جگہ جگہ دودھ کے پلانٹ لگائے گئے ہیں تاکہ گاہکوں کو دودھ کی فراہمی میں دقت نہ پیش آئے عام طور پر یہ دودھ پاسچرائزڈ ہوتا ہے اوربوتلوں یا تھیلیوں میں بند ملتا ہے اس قسم کے دودھ کی خریداری میں بہر حال افراد خانہ کی پسند اور ناپسند کو خیال میں رکھنا پڑتا ہے کیونکہ بعض لوگوں کو پاسچرائزڈ دودھ کا ذائقہ پسند نہیں ہوتا،دودھ سے بنی ہوئی اشیا میں کریم مکھن پنیر اور آئس کریم شامل ہیں۔
کریم: عام طورپر تین طرح کی کریم فروخت ہوتی ہیں کافی کریم،ہلکی کریم اور بھاری کریم۔بھاری کریم ہلکی کریم کی نسبت مہنگی ہوتی ہیں اگر بھاری کریم خرید کر اس میں کچھ دودھ ملا لیا جائے تو کفایت ہوسکتی ہیں کریم کا استعمال محدود ہے اور اسے عموماً روزانہ استعمال نہیں کیا جاتا،بہتر یہی ہے کہ کریم کی بجائے دودھ استعمال کیا جائے اس سے نہ صرف بچت ہوگئی بلکہ دودھ غذائیت میں بھی کریم سے بہتر ہوتا ہے کریم چونکہ بہت جلد خراب اور کھٹی ہوجاتی ہیں اس لیے اسے خریدنے کے فوراً بعد ہی استعمال کرلینا چاہیے خریدتے وقت بھی تسلی کرلیں کہ کریم تازہ اور کھٹی نہیں ہے۔
مکھن: مکھن دو قسم کا یعنی نمکین اور بغیر نمک کے ہوتا ہے نمکین مکھن میں دو فیصد تک نمک ہوتا ہے مثلاً اٹھانوے پونڈ مکھن میں دو پونڈ نمک شامل کیا جاتا ہے مکھن عام طور پر پیکٹوں میں فروخت ہوتا ہے،خردہ فروش مارکیٹ میں کریم سے نکلا ہوا مکھن بیچا جاتا ہے مکھن وہی خریدنا چاہیے جو حفظان صحت کے اصولوں کے تحت تیار کیا گیا ہو اور ذائقہ لذت اور خوشبو میں اچھا ہو ساخت اور ترکیب میں مومی ملائم لیکن قدرے سخت ہو۔گھر کے استعمال کے لیے زیادہ مقدار میں خریدنا عملاً درست نہیں کیونکہ جب تک ریفریجیریٹر یا کوئی دوسری سہولت موجود نہ ہو مکھن جلد خراب ہوجاتا ہے مختلف خاندانوں کے لیے مکھن کی مطلوبہ مقدار اور ضرورت بھی مختلف ہوتی ہیں۔
پنیر: پہلے پہل پنیر کا استعمال بہت کم ہوتا تھا لیکن اب خوراک میں اس کا استعمال بڑھ رہا ہے پنیر دو طرح کا ہوتا ہے ایک سفید اورکچا پنیر جوکہ زیادہ عرصے تک رکھنے پر خراب ہوجاتا ہے اور دوسرا پکا(Ripened) پنیر ہوتا ہے جو کہ لمبے عرصے تک خراب نہیں ہوتا عام لوگ پکے پنیر کو کھانے کے عادی نہیں ہوتے اور یہ مہنگا بھی بہت ہوتا ہے کچھ پنیر یا کاٹیج پنیر پنیر پکا کر کھایا جاتا ہے اور نسبتاً کم مہنگا ہوتا ہے پنیر کھلا بھی ملتا ہے اور ڈبوں میں بند بھی کھلا پنیر خریدتے وقت دیکھیں کہ تازہ ہو کوالٹی میں اچھا ہو داغ نہ ہوں اور سبزپھپھوندی نہ لگی ہوئی ہو خوشبو اور ذائقہ بھی تازہ ہو،رائپ پنیر عام طور پر درآمد شدہ ہوتا ہے اورمختلف بناوٹ کے پنیر کی قیمتیں ہوتی ہیں پنیر خریدتے وقت بجٹ ضرورت اور پسند و ناپسند کو مدنظر رکھیں،

(0) ووٹ وصول ہوئے