بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریخوراک سے متعلق خریداری

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین -
خوراک سے متعلق خریداری
پرانے زمانے مین خاندان کے معاملے میں خود کفیل ہوتے تھے یعنی سبزیوں اناج وغیرہ خود اُگاتے تھے اور اپنی ضروریات پوری کرتے تھے لیکن اب ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خریداری کرنی پڑتی ہے

خوراک سے متعلق خریداری:
پرانے زمانے مین خاندان کے معاملے میں خود کفیل ہوتے تھے یعنی سبزیوں اناج وغیرہ خود اُگاتے تھے اور اپنی ضروریات پوری کرتے تھے لیکن اب معاشی اور خاندانی نظام بالکل بدل چکا ہے اور ہم روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے زراعت و صنعت کے دست نگر ہیں اب ہمیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خریداری کرنی پڑتی ہے ،گرہستن خاتون کی ذمہ داریوں میں ایک اہم فریضہ افراد خانہ کو مناسب اورغذائیت سے بھرپور خوراک مہیا کرنا ہے جس سے کہ ان کی غذائی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہوسکیں خاندان کی خوشحالی کا انحصار اس کے افراد کی صحت پر ہے اور صحت اور تندرستی موزوں خوراک کی مرہون منت ہے ذیل میں مختلف اشیائے خوردنی کی خریداری کے لیے ضروری معلومات اور ہدایات درج ہیں۔
اجناس: اجناس کا شمار سستی اور کفایتی غذاؤں میں ہوتا ہے اور یہ دوسری غذاؤں کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں خریدی جاتی ہیں اجناس میںآ ٹا(گندم) چاول،مختلف قسم کی دالیں مکئی اور چنے وغیرہ شامل ہیں۔
آٹا: پاکستان میں گندم کا آٹا سب سے زیادہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے سوجی اور میدے کا شمار بھی آٹے میں ہوتا ہے اور یہ گندم سے آٹابناتے وقت ضمنی طور پر الگ کرلیے جاتے ہیں آٹا پرچون مارکیٹ میں کھلا یا تھیلوں میں بند دستیاب ہے تھیلوں میں آٹا ٹریڈ مارک یا مل کے برانڈ کے تحت بیچا جاتا ہے عموماً دس سیر بیس سیر اور ایک ایک من کے تھیلے ملتے ہیں تجربہ اور لیبل پر دی گئی معلومات خریدار کی رہنمائی کرتی ہیں ہمیشہ مشہور اور اعتباری مال کا بنا ہوا آتا استعمال کریں آٹا تازہ پسا ہوا خریدیں ہاتھوں میں ملنے پر ملائم اور ہموار محسوس ہونا چاہیے رنگت سفید اور بدبو سے پاک ہو۔آٹا ہمیشہ ضرورت کے مطابق تھوڑی مقدار میں خریدیں اور اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کریں کیونکہ یہ زیادہ دیر رکھنے پر خراب ہوجاتا ہے اس کے برعکس اگر اکٹھا خریدنا منظور ہوتو گندم بہتر رہتی ہے ضرورت کے مطابق گندم کو صاف کرکے پسوالیں گندم کے خریدتے وقت دیکھیں کہ دانہ سخت گول چمکدار اور ہلکے بھورے سے سنہری رنگ کا ہو دانے کا چھلکا شفاف اور چمکدار اور دانے کی جسامت اوسط درجے کی ہو نرم دانے کی سیاہی مائل رنگت والی اور چھوٹے دانے کی گندم ناقص ہوتی ہے اور اس کو کیڑا بھی جلد لگ جاتا ہے اگر دانہ موٹا سخت اور شربتی رنگ کا ہو تو بھی یہ اچھی قسم کی گندم ہے گندم بالکل خشک ہونی چاہیے اس کی پہچان یہ ہے کہ جب دانے ہاتھ سے اٹھا کر ڈھیڑ پر گرائے جائیں تو کھنکتی ہوئی آواز پیدا ہو تو گندم قطعاً سوکھی ہوئی ہے اور اگر قدرے بھاری آواز سنائی دے تو گندم میں نمی موجود ہے۔سیلی گندم کو کیڑا جلد لگ جاتا ہے اور آٹابھی ادنی قسم کا حاصل ہوتا ہے اگر آپ اکٹھی گندم خریدلیں تو بوریوں کو وقتاً فوقتاً دھوپ دکھاتی رہیں اس طرح سیلن پیدا نہیں ہوگی گندم کو ہمیشہ روشن ہوادار اورخشک کمرے میں ر کھیں سوجی اور میدہ بھی دیر تک نہیں رہ سکتے ان میں بہت جلد کیڑے وغیرہ پڑجاتے ہیں ۔
چاول: چاول ہماری روز مرہ خوراک کا اہم جزو ہیں ان کی بہت سی اقسام ہوتی ہے سب سے اعلیٰ اور نفیس قسم باسمتی چاول ہیں بیگمی،پرمل،مشکن،ستھڑا دوسری اچھی اقسام ہیں آپ کوئی بھی قسم پسند کریں چاول کا دانہ لمبا اور سالم ہونا چاہیے رنگت سفید اورخوشبو اچھی ہو اچھی قسم کے چاول ابالنے پر لمبے ہوتے ہیں اور دانے پھٹتے ہیں۔پکائی میں پرانے چاول نئے چاولوں سے بہتر ہوتے ہیں اگر آپ نئے چاول خریدے تو ایک ماہ کے بعد استعمال میں لائیں نئے چاول خرید کر رکھتے ہوں تو ان میں ذراسی پسی ہوئی ہلدی ڈال کر ذخیرہ کرلیں اس طرح چاول دیر تک کیڑے سے محفوظ رہیں گے۔
چنے: چنے بھی دوسری اجناس کی طرح مختلف اقسام کے ملتے ہیں بعض قسموں میں دانے موٹے اور بعض میں باریک ہوتے ہیں بازار میں نئے چنے عموماً اپریل کے آخر اور مئی میں آتے ہیں نئے اور تازہ فصل کے چنے پکانے میں بہتر ہوتے ہیں،چنے خریدتے وقت دیکھیں کہ دانے جسامت میں یکساں کیڑوں سے پاک خشک اور بغیر سوراخوں کے ہوں۔عام طور پر موٹے دانے اور ہلکی رنگت کے چنے بہترہوتے ہیں پنجاب نمبر 1 اور پنجاب نمبر7 چنوں کی عمدہ اقسام ہیں بعض اوقات دکاندار نئے چنوں میں پرانے چنے ملا کر فروخت کرتے ہیں۔خریدتے وقت اس بات کو بھی ملحوظ رکھیں کہ چنے یکساں کوالٹی اور ایک ہی قسم کے ہوں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے