بند کریں
خواتین مضامینرہنمائے خریداریمقصدی چیزوں کی خریداری

مزید رہنمائے خریداری

پچھلے مضامین -
مقصدی چیزوں کی خریداری
ہمیشہ بامقصد چیز خریدی جائیں ،ایسا نہ ہو کہ آپ بھاری رقم خرچ کرکے کوئی چیز خریدیں اور آپ کے ذہن میں بھی یہ واضح نہ ہو کہ آپ کا اس چیز کو خریدنے کا مقصد کیا ہے تو اس کی خریداری غلط ،نامناسب اورغیر ضروری ثابت ہوگی
مقصدی چیزوں کی خریداری:
خریداری کرنے سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آپ کس مقصد کے لیے کوئی چیز خریدنا چاہتی ہیں۔کیا آپ کو واقعی اس کی اشد ضرورت ہیں؟ہوسکتا ہے کہ اس چیز کو نہ خریدنے سے کوئی موجودہ چیز ہی آپ کی ضرورت پوری کردے لیکن سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی حامل ہے کہ ہمیشہ بامقصد چیز خریدی جائیں ،ایسا نہ ہو کہ آپ بھاری رقم خرچ کرکے کوئی چیز خریدیں اور آپ کے ذہن میں بھی یہ واضح نہ ہو کہ آپ کا اس چیز کو خریدنے کا مقصد کیا ہے تو اس کی خریداری غلط ،نامناسب اورغیر ضروری ثابت ہوگی اور آپ خواہ مخواہ اپنی محفوظ رقم بے مقصد خریداری پر ضائع کردیں گی۔کسی طرح کی بھی بے مقصد خریداری آپ کے بجٹ کو خراب کردے گی اور یہ فیصلہ کرنا آپ کی دانشمندی پر منحصر ہے کہ کس چیز کی آپ کو ضرورت ہے یا ضرورت نہیں ہے۔ضرورت سے مراد ایسی اشیا ہے جو کوئی نہ کوئی بنیادی مقصد پورا کرتی ہوں۔کوئی دکاندار یا کوئی سیلز مین بھی آپ کی رہنمائی کرسکتاکہ کونسی چیز آپ کے فلاں مقصد کوپورا کرسکتی ہیں ورنہ،سٹورز،مارکیٹیں اور دکانیں انواع و اقسام کی چیزوں سے بھری ہوتی ہیں اور جب آپ کسی خریداری کے مرکز پر جائیں تو صرف ان چیزوں پر نظر رکھیں جو آپ کا کوئی مقصد پورا کرتی ہوں خریدی جانے والی بامقصد اشیا معیار کوالٹی اس کے میٹریل اور بناوٹ کی پہچان بھی مقصد ہی کا حصہ ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی دھیان میں ہونا چاہیے کہ جس مقصد کے لیے آپ کوئی چیز خریدنا چاہتی ہیں وہ اس کو پورا بھی کرسکے گی یا نہیں کرسکے گی؟اس میں چیز خریدتے وقت اس بات کا بھی اطمنیان ہونا ضروری ہے کہ آیا اس چیز میں وہ صلاحیت بھی ہے کہ آپ کے ذوق خریداری کی تسکین ہوسکے یہاں چیز خریدنے کی اہمیت کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر کسی چیز کا انتخاب کرلیں اور ناقابل برداشت مالی بوجھ تلے دب جائیں۔
سادہ چیزوں کا انتخاب: کسی چیز کی کوالٹی اور پائداری کسی پرکشش پیشکش کی محتاج نہیں ہوتیں دیکھنا یہ چاہیے کہ اس چیز کا میٹریل عمدہ اور ساخت مضبوط ہے یا نہیں۔ضروری نہیں کہ جو چیز آپ کو لبھارہی ہیں وہ مضبوط اور پائدار بھی ہو کیونکہ آج کے دور میں مصنوعات ساز ادارے اور فروخت کنندگان اپنی مصنوعات کے ڈیزائن،ماڈل،انداز فیشن اور طور طریقے آئے دن بدلتے رہتے ہیں اور اگر آپ کے پاس پرانے ماڈل اور پرانی ساخت کی اشیا ء ہیں تو کسی احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔سادگی پسندی رہن سہن میں سکون پیدا کرتی ہیں اور سادہ طرز زندگی کو اختیار کرنے کی تو ہمارے نبیﷺ نے بار بار ہدایت بھی فرمائی ہے چیزوں کی آنکھیں خیرہ کردینے والی چمک دمک اور ایک سیزن کے بعد دوسرے سیزن میں ان کی بدلہ دی جانے والی شکل وصورت پر نہیں جانا چاہیے۔پائداری صرف سادہ چیزوں میں ہے۔لہٰذا ہمیشہ سادہ چیزوں کا انخاب کریں کیونکہ پر دور میں سادہ چیزیں ہی ربط اور ہم آہنگی کی بنیاد بنی ہیں سادہ چیزیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں اورنہ ان کے ڈیزائن ہی آؤٹ آف ڈیٹ ہوتے ہیں سادہ چیزیں کبھی بھی دل سے نہیں اترتیں سادہ چیزیں استعمال کرنے والے اس متانت اورسکون سے مالا مال ہوتے ہیں جو ہر روز بدل جانے والے ڈیزائنوں پر جان چھڑکنے والوں کے پاس نہیں ہوتا یہی نہیں بلکہ سادگی پسندی اختیار کرکے آپ غیر ضروری مالی بوجھ سے ہمیشہ کے چھٹکارا حاصل کرلیتی ہیں نیز سادہ چیزوں کی دیکھ بھال پروقت بھی بہت کم خرچ ہوتا ہے اس لیے تجربے نے ثابت کردیا کہ گھریلو خواتین سادہ چیزوں کا انتخاب کرکے نہ صرف اپنے گھر کی متانت اور سادگی کو قائم رکھتی ہیں بلکہ ایک متوازن بجٹ کے ساتھ اپنی سماجی اور معاشرتی ذمہ داریاں بھی خوشگوار انداز میں پوری کرتی ہیں۔
چیزوں کے معیار کی درجہ بندی: کبھی وہ زمانہ بھی تھا جب ایک چیز ایک ہی ہوتی تھی نمبر دو یا نمبر تین نہیں ہوتیں تھیں اور آپ کو پتہ ہوگا کہ جس دور میں آپ موجود ہیں اس میں چیزوں کی درجہ بندی کردی گئی ہیں۔تمام استعمال اشیاء معیار رنگ،ڈیزائن پیکنگ اور سائز کے لحاظ سے تین درجوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہیں یعنی اے کلاس بی کلاس اور سی کلاس میں شمار ہونے لگی ہیں اوت منی سائز سے لے کر فیملی سائز کی پیکنگ نے چیزوں کی درجہ بندی کو مستقل حیثیت دے دی ہے جس سے خریدار کے مسائل اور پچیدہ ہوگئے ہیں اصول تو یہ ہے کہہ پیک شدہ چیز کے بارے میں معیار اور کوالٹی کی چٹ بھی ساتھ ہوں یا اس قسم کا کوئی لیبل چسپاں ہو۔لیکن عام طور پر تیار کنندگان ایسا نہیں کرتے اگر مطلوبہ چیز کھلی فروخت ہو رہی ہو تو اس کی کوالٹی کے بارے میں دیکھ کر ایک رائے قائم کی جاسکتی ہیں کہ یہ چیز اے کلاس ہے یا بی کلاس لیکن پیکنگ کے زمانے میں کسی خریدار کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں اور اب جب کہ ہر طرح کی چیزیں سبزی گوشت دودھ، پھل میوے ادویات،اچار،چٹنی،مربے،ریڈی میڈ،کپڑے،شربت،چائے،گھی اور اس نوع کی سینکڑوں استعمال اشیا بند پیکٹوں میں دستیاب ہونے لگی ہیں اور پیکنگ بھی بڑی پرکشش ہوتی ہیں ان حالات میں مناسب قیمت والی معیاری چیز کا انتخاب خاصل مشکل ہے لیکن اس چیز کے بنانے والے ادارے کی ساکھ اور اپنے گذشتہ تجربے کی روشنی کے حوالے سے آپ بہتر فیصلہ کرسکتی ہیں جو پیک شدہ چیز آپ خریدرہی ہیں یہ قیمت اور معیار کی رو سے قابل قبول بھی ہے یا نہیں۔ویسے بعض ادارے پیکنگ پر بعض ضروری معلومات بھی چھاپتے ہیں اور ان کے دیے ہوئے معلوماتی مواد کو پڑھ کر بھی موازنہ کیا جاسکتاہے لہٰذا پیک شدہ چیز کے بارے میں دی گئی معلومات پڑھ لینی چاہیے اس طرح آپ چیزوں کی درجہ بندی کے فرق کو سمجھ لیں گی۔ویسے ماہرین نے خریدار کی سہولت کے لیے اس اصول کو اہمیت دی ہے کہ اشیاء کو کھلی صورت میں خریدنے کی کوشش کی جائے یہ اصول خریدار کو دام کے مناسب اور معیار کے اچھا ہونے کی ضمانت دیتا ہے خریدار کی ہمیشہ یہی خواہش ہوتی ہیں کہ اسے اے کلاس چیز ہی ملے اور اصولی طور پر یر خریدار کا یہ حق بھی ہے کہ جو چیز وہ خرید رہا ہے معیار اور کوالٹی کے اعتبار سے اے ون ہو اوراے ون انتخاب بھی اے بی کلاس اور سی کلاس کے درجوں والی چیزوں میں سے کرنا ہوتا ہے تجربے نے بتایا ہے کہ اے کلاس اور بی کلاس میں بہت معمولی فرق ہوتا ہے اس لیے تجربہ کار اور باشعور خریدار بی کلاس ہی کو اولیت دیتا ہے کیونکہ وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ بی کلاس کو ہی ذرا سجا بنا کراے کلاس میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس طرح خریدار معیار میں بھی دھوکا نہیں کھاتا اور نہ زیادہ دام ادا کرتا ہے بس یہ ایک تجارتی طریقہ ہے تجارت کرنے والے اپنے فائدے کے لیے نت نئے انداز وضع کرتے رہتے ہیں چیزوں کے بنانے اور فروخت کرنے کے ڈھنگ بدلتے رہتے ہیں،پیکنگ ڈیزائن اورخوشبو میں معمولی کمی پیشی کردی جاتی ہیں،لہٰذا خریدار کے لیے ضروری معلومات رکھتاہو لہٰذا یہ بات گھریلو خواتین کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ کسی چیز کی خریداری سے پہلے اس کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے