اکتوبر سے اکتوبر تک

October Se October Tak

Umer Nawaz عمر نواز بدھ اکتوبر

October Se October Tak
اس ملک میں جمہوریت پر پہلا شب ِ خون اکتوبر کے مہینے میں مارا گیا ۔ ایک نظام کی بساط  لپیٹ کر اپنی مرضی کا   نظام متعارف کروایا گیا ملک  بنانے والوں کو غدار کہا گیا محب وطنوں  کی ایک فرنچائز  متعارف کروائی   گئی اسی فرنچا ئز نے غدار اور ملک کے لیے سکیورٹی  رسک لوگوں کی نشاندہی  کی جس شخص نےبھی  غیرقانونی  طریقے سے حکومت پرقبضہ  کرنے والوں کے اقدام کی مخالفت   یا بولنے کی کوشش کی اسے غدار کہا گیا یہ اصطلاح 1958 ء میں  متعارف کروائی گئی لیکن آ ج بھی یہ اصطلاح اسی طرح ہی استعمال ہو رہی ہے کبھی یہ اصطلاح  ملک بنانے والوں کے لیے استعمال  ہوئی تو کبھی   اس ملک کو آ ئین  اور ایٹمی قوت بنانے والے کے لیے استعمال ہوئی مجموعی طور پر جہاں ہم 1958ء  میں کھڑے تھے آج بھی وہیں پر کھڑے  ہیں ۔

(جاری ہے)

غیر قانونی طریقے سے تخت پر قبضہ  کرنے والے دلیل دیتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں عوام  کا مینڈیٹ لینے والے نااہل ہیں انہیں تو کسی چیز کا پتہ نہیں  دیکھنا ہم ملک  کیسے ٹھیک کرتے ہیں اور عوام کو کیسے ریلیف پہنچاتے ہیں ۔ ترقی کے نئے خواب دیکھائے  جاتے ہیں ۔  کیا ہم نے پھر ترقی کر لی ہے؟  ہمارے ساتھ  آزاد  ہونے والے ہمارا ہمسایہ ملک انڈیا کیا وہ ہم سے   پیچھے  ہے وہاں پرکتنے  مارشل لاء   لگے ہیں ۔

برطانیہ  پر 1947 ء کے بعد  کتنی بار جموریت پر شب خون مارا گیاہے۔ آئین کی بھلا اس ملک کو کیا  ضرورت  تھی ملک تو بغیر آئین  کے بغیر  بھی چل رہا تھا۔ ہم اس کے  بھی جنگیں جیت رہے تھے۔ ایٹمی  قوت بننے کے بعد بھلا ہم نے کو ن سی جنگیں جیت لی ہیں ۔ جب اس ملک  میں صدر جنرل ایوب اور صدر جنر ل مشرف  جیسے بہادر کمانڈر  ہمارے پاس ہیں   پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟  یا تو یہ ہمارے  بہادر عدالتوں  کے سامنے پیش ہوئے ۔

  اور نا کوئی جواب دیا دوسری طرف غداروں کو دیکھیے ۔ یہ  اگر بیرون ملک بھی ہوں تو آ کر عدالتوں کے سامنے سرنگوں  ہوتے ہیں  ۔ بلکہ اس کے فیصلے بھی مانتے ہیں  پھر ثابت تو یہ  ہوتا ہے۔ جو عدالتوں کے سامنے سر جھکا  دیتے ہیں  ۔وہ تو پھر بزدل  ہوئے کیا بہادر لوگ بھی کبھی عدالتوں  کے سامنے جھکتے ہیں ۔  بارہ اکتوبر 1999 ء  کو جنرل مشر ف نے اس ملک میں جولولی لنگڑی جمہوریت تھی اس کو چلتا کیا او ر ہمارے محب وطن  کے دل میں حکومت کرنے کی جو خواہش انگڑ ائی لے رہی تھی۔

اس کو ہمارے کمانڈر  نے عملی  جامہ  پہنایا  عوام کو ریلیف دینا شروع  کیا ریلیف  بھی اسی ادارے کو ملا جس کو شروع  دن سے ہی ہر چیز کی گارنٹی ہے۔ جنرل مشرف  نے نیب  جیسا    ایک   عظیم الشان  ادارہ بنایا جس نے کرپٹ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں بند کیا ویسے  اسی نیب نے آفتاب شیر پاؤ  اور چوہدری برادران کے خلاف  بھی   کیس بنائے تھے ۔

اور ان کو"بد عنوان"کا لقب  دیا گیا پھر انہی لوگوں کو جنرل  صاحب نے اپنی ٹیم کے اوپنر کھلاڑی بنا دیا۔ جہاں پر ہم 1999 ء  میں کھڑے  تھے۔ آ ج  بھی ہم وہی  کھڑے ہیں ۔ اکتوبر 1999 ء  میں بھی  سیاست دانوں کا ٹھکانہ جیل تھی۔ آ ج بھی سیاسی کارکن اور لیڈران جیل میں قید ہیں ۔ نواز شریف  تب جیل میں  تھے آ ج بھی جیل میں ہیں ۔  آصف زرداری آ ج بھی جیل میں ہیں  ۔

آصف زرداری  تب بھی اڈیالہ کے مہمان تھے تب  ان کا ساتھ یوسف گیلانی  دے رہے تھے ۔ آ ج ان کا ساتھ  خورشید شاہ  جیسے کارکن ہی دے رہے ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی تب بھی قید وبند  ش کی صعوبتیں برداشت  کر تے رہے  آ ج بھی شاہد  خاقان عباسی  اسی آ دمی  کے ساتھ وفاداری  کی سزا  بھگت رہے ہیں تب غوث علی شاہ مجرم ٹھہرے تھے۔ آج  خواجہ سعد رفیق   جیسے کارکن اس نظام کے مجرم ہیں ۔

   رانا ثنا ء اللہ  تب  بھی لیڈر  ان کی محبت  میں گرفتار  تھے ۔ وہ آ ج بھی  لیڈران کی محبت میں گرفتار ہیں ۔ نیب کا ادارہ تب  بھی سیاسی لانڈری   کا کردرا ادا کر رہا تھا اور آ ج بھی وہی ادارہ اس راہ پر گامزن ہے  بیس سالوں میں یہ واحد ادار ہ ہے  جو نہیں  بدلا حالانکہ  اب تو ملک میں تبدیلی آ گئی  ہے اس وقت تو پرانا پاکستان تھا۔

آ ج   تو نیا پاکستان  بن گیا  ہے۔ اسی ماہ میں ہی ایک سیاسی لیڈر  ملک میں واپس آ ئی تھی۔ اور سانحہ  کار ساز بھی اس ماہ  میں رونما  ہوا۔ 1999ء  میں آنے والوں  نے بھی ریفرنس  دائر  کیے تھے ۔ آ ج کے اکتوبر والے بھی ریفرنس دائر کر کے اپنے  اپنے محسنوں  کی راہ  پر چل رہے ہیں  ۔ اکتوبر میں آنے والوں نے  ججوں کو فارغ کیا۔ اور اپنی مرضی کی عدالتیں  بنانا چاہیں  اور اکتوبر 2018 ء  میں جسٹس  شوکت صدیقی  جیسے جج کو فارغ  کیا گیا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments